مکہ دفاعی معاہدہ کسی ریاست کے خلاف نہیں،وزیراعظم محمد شہباز شریف

(پنڈی پوسٹ نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خودمختاری، علاقائی سالمیت، اجتماعی سلامتی اور علاقائی امن کے حوالے سے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔ یہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے، جو کسی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد محاذ آرائی یا تقسیم پیدا کرنا ہے۔


وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ پاکستان تنظیم کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کے اصولوں کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے۔


شنگھائی تعاون تنظیم عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان کو ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ کے تحت تنظیم کا رکن ہونے پر فخر ہے۔ ایس سی او کے قیام کے 25 سال مکمل ہونا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ایک ننھے پودے سے شروع ہونے والی یہ تنظیم آج تناور درخت بن چکی ہے، جو خطے کو سلامتی اور استحکام کا سایہ فراہم کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور ایس سی او کے چارٹرز کے بنیادی اصولوں کا احترام کرتا ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔


پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پانی خطے کی زندگی کی بنیاد ہے، یہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سہارا دیتا، زمینوں کو سیراب کرتا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ پانی کو کبھی ہتھیار، دباؤ کے ذریعے یا سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔


وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او ترقیاتی حکمتِ عملی 2035 پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تمام توانائیاں بروئے کار لانا ہوں گی۔ ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کا قیام اس سلسلے میں اہم قدم ہوگا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ جیسے بہت سے چشمے مل کر ایک عظیم دریا بناتے ہیں، اسی طرح جب ایس سی او ممالک اپنی طاقتوں، امنگوں اور صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہیں تو ان کے لیے ترقی کے امکانات کی کوئی حد نہیں رہتی۔