راولاکوٹ میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دھرنے کا خاتمہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ مسائل اور اختلافات کا مستقل حل تصادم، جلاؤ گھیراؤ اور افراتفری میں نہیں بلکہ مذاکرات، مشاورت اور افہام و تفہیم میں ہے ان خیالات کا اظہار راولپنڈی،اسلام آباد و کلر سیداں کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت امیدوار برائے قانون ساز اسمبلی
حلقہ ایل اے 39 جموں 6 عبدالخطیب چودھری نے اپنے ایک بیان میں کیا اور کہا کہ مہذب معاشرے اپنے مسائل آئینی،جمہوری اور پرامن ذرائع سے حل کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستیں کشمیر کاز کا اہم حصہ ہیں۔یہ نشستیں ان عظیم قربانیوں کی یادگار ہیں جو ہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں، زمینوں اور جائیدادوں کی صورت میں پیش کیں اور پاکستان میں ہجرت اختیار کی۔
انھوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر اپنے حقِ خودارادیت اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ بھرپور وابستگی رکھتے ہیں،احتجاج کے دوران قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر پوری قوم رنجیدہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ عطاء فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔ انسانی جان کا نقصان ناقابلِ تلافی ہے اور ایسے واقعات سے ہر ممکن طور پر بچنا چاہیے۔
چودھری عبدالخطیت نے مزید کہا کہ ہمیں بطور قوم اتحاد، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا، اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہے، تاہم قومی مفادات، کشمیر کاز اور عوامی یکجہتی کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔ ہمیں ایسے تمام معاملات کو قانون، آئین اور باہمی مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کسی قسم کی تلخی یا تقسیم پیدا نہ ہو۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ ہم سب ایک ہیں اور “کشمیر بنے گا پاکستان” کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ انشاء اللہ اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے کشمیر کاز اور مہاجرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مثبت اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان، آزاد کشمیر اور پوری قوم کو امن، استحکام اور ترقی عطاء فرمائے۔