صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغام “ایران کا بہت شکریہ” نے عالمی منظرنامے پر ایک غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی۔ یہ مختصر جملہ دراصل ایک طویل اور کٹھن سفارتی عمل کا نچوڑ ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں نہ صرف آبنائے ہرمز ہر قسم کی بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دی گئی، بلکہ دنیا بھر میں پھیلی بے چینی اور خدشات کے بادل بھی چھٹنے لگے۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مستقل جنگ بندی اور باہمی مفاہمت کے بنیادی خدوخال پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، اور جلد ہی اس کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔
گزشتہ دنوں عالمی سطح پر جاری کشیدگی، دھمکیوں، اور عسکری نقل و حرکت نے شوشل میڈیا پر ایک خوفناک منظرنامہ تشکیل دے دیا تھا۔ ہر لمحہ یہ اندیشہ موجود تھا کہ کہیں کوئی غیر متوقع فیصلہ دنیا کو ایک بڑے تصادم کی طرف نہ دھکیل دے۔ مگر اب، اس پیش رفت نے نہ صرف ممکنہ تباہی کے سائے ہٹا دیے ہیں بلکہ امن کی ایک نئی امید بھی جگا دی ہے۔
اس مفاہمتی معاہدے کے ثمرات فوری طور پر عالمی معیشت میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا، توانائی بحران میں کمی واقع ہو گی، اور عالمی تجارت کی روانی بحال ہو گی۔ ادویات، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل میں بہتری آئے گی، جس سے عام آدمی کی زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
مزید برآں، ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے ایرانی معیشت میں نئی روح دوڑ جائے گی۔ یہ پیش رفت نہ صرف اقتصادی بحالی کا باعث بنے گی بلکہ انفراسٹرکچر کی تعمیر، روزگار کے مواقع، اور عالمی روابط کی بحالی کا در بھی کھولے گی۔ ایرانی قوم، جس نے طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا کیا، اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، ایک ایسا دور جو قربانیوں، استقامت اور قیادت کے عزم کا ثمر ہے۔
ایران کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی بصیرت، استقامت اور جرات فیصلہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی قیادت میں ایران نے نہ صرف اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک طاقتور فریق کو مذاکرات کی میز پر آنے پر بھی آمادہ کیا۔ یہ کامیابی صرف ایران کی نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک فتح کا دن ہے۔
تاہم، اس امن کے پیچھے پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے نہایت تدبر، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ فریقین کے درمیان اعتماد سازی، مکالمے کی بحالی اور اتفاق رائے کی فضا پیدا کی۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایک ایسے وقت میں آگے بڑھ کر کردار ادا کیا جب بڑی عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے پوری دنیا کا امن داؤ پر لگا تھا کسی بھی لمحے بہت بڑی تباہی ممکن تھی
پاکستان نے نہ صرف ممکنہ عالمی تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا بلکہ سفارت کاری کی ایک نئی مثال بھی قائم کی۔ سفارت کاری کی دنیا کے لیے یہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھے گی۔ ایسی مثال جو آنے والے وقتوں میں رہنمائی فراہم کرے گی۔ یہ کامیابی یقیناً پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔
اس معاہدے کے بعد عالمی معیشت میں استحکام کی ایک نئی لہر متوقع ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے پیداواری لاگت کم ہو گی، جس سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔ دنیا بھر کی سٹاک ایکسچینجز یکمشت بلش ٹرینڈ پر جائے گی۔ عالمی تجارت کے راستے کھلنے سے سپلائی چین بہتر ہو گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا، اور ترقی پذیر ممالک کو خاص طور پر فائدہ پہنچے گا۔ اگر یہ امن برقرار رہتا ہے تو دنیا ایک نئے معاشی توازن اور ترقی کے دور میں داخل ہو گی۔
یہ لمحہ صرف ایک معاہدے کا نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو، قیادت مخلص ہو اور سفارت کاری میں اخلاص شامل ہو تو بڑے سے بڑا بحران بھی ٹل سکتا ہے۔
انتہائی خطرات میں پاکستان کے عالمی سیاست میں مضبوط کردار اور سفارت کاری نے اس کے قد کاٹھ کو افلاک تک بلند کر دیا ہے۔ لہذا پاکستان، تمہاری حکمت کو خراج تحسین۔ وقت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ مسائل جنگوں سے نہیں مخلص اور حکمت پر مبنی مکالمے سے حل ہوتے ہیں امن عالم کو پھر ویلکم۔ اولا ایران، امریکہ، اور ثانیاً چین، قطر، سعودیہ، ترکیہ، چائنہ، مصر اور پاکستان سب کا شکریہ جن کی کوششوں سے دنیا کی خوشیاں بحال ہوئیں۔ ہم پاکستان کی قیادت، وزیر اعظم جناب شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جناب سید عاصم منیر کے تہ دل سے ممنون و مشکور ہیں کہ ان کی بے مثال سفارت کاری، بصیرت افروز قیادت اور شبانہ روز انتھک کاوشوں کے نتیجے میں نہ صرف ایک ممکنہ عالمی تصادم ٹل گیا بلکہ تباہی و بربادی کے گہرے سائے بھی چھٹ گئے۔
ان کی مدبرانہ حکمت عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، امن دوست اور موثر کردار کے طور پر منوایا ہے، جبکہ خصوصاً عالم اسلام کے لیے پاکستان ایک باوقار، بااعتماد اور امن کے داعی رہبر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
پاکستان زندہ باد، امن پائندہ باد