
سیاست کسی بھی ریاست کا وہ میدان ہوتا ہے جہاں اختلاف رائے کو برداشت کرنا جمہوریت کی اصل روح سمجھا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ روایت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ آج ایک سابق وزیرِاعظم کی بیماری اور علاج کے معاملے پر جو بحث جاری ہے، اس نے اس تلخ حقیقت کو پھر نمایاں کر دیا ہے کہ ہم ابھی تک سیاسی بلوغت کی اس منزل تک نہیں پہنچ سکے جہاں اختلاف کے باوجود انسانیت مقدم رکھی جائے۔
ایک ایسے ملک میں جس کی بنیاد ہی جمہوری اصولوں پر رکھی گئی ہو، توقع یہی کی جاتی ہے کہ ریاست ہر شہری، خصوصاً قومی سطح کی قیادت کرنے والی شخصیات، کے ساتھ قانون اور انسانی ہمدردی کے مطابق برتاؤ کرے۔ یہی اصول پاکستان جیسے جمہوری معاشرے کی ساکھ کو مضبوط بناتے ہیں
تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ مسئلہ نیا نہیں۔کسی بھی سیاسی رہنما کی صحت بلاشبہ عوامی دلچسپی کا موضوع ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ ریاستی امور کا حصہ رہ چکا ہوتا ہے۔ لیکن عوامی دلچسپی اور سیاسی استحصال کے درمیان ایک واضح لکیر موجود ہوتی ہے۔ جب بیماری کو شکوک و شبہات، الزام تراشی یا طنز و تمسخر کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف سیاسی اخلاقیات کی نفی ہے بلکہ معاشرتی اقدار پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔سیاسی مخالفین اگر کسی قانونی یا انتظامی پہلو پر سوال اٹھانا چاہتے ہیں تو وہ آئینی اور قانونی فورمز موجود ہیں۔ مگر بیماری کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک ایسی روش ہے جو معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو بڑھاتی ہے۔
مہذب جمہوریتوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ شدید ترین سیاسی اختلاف کے باوجود ذاتی معاملات کو موضوعِ بحث نہیں بنایا جاتا۔ برطانیہ، کینیڈا یا دیگر جمہوری ممالک میں اپوزیشن حکومت پر تنقید ضرور کرتی ہے، مگر بیماری جیسے حساس معاملے پر ایک بنیادی انسانی ہمدردی برقرار رکھی جاتی ہے۔
ہمارے ہاں بدقسمتی سے سیاسی بیانیہ اکثر شخصیات کے گرد گھومتا ہے، پالیسی اور کارکردگی پسِ منظر میں چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً جب کوئی رہنما بیمار ہوتا ہے تو بحث اس کے علاج، ہمدردی یا صحت یابی کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تک محدود ہو جاتی ہے۔سیاسی بلوغت کا مطلب یہ نہیں کہ اختلاف ختم ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف مہذب انداز میں کیا جائے۔ اگر ایک سابق وزیرِاعظم کی صحت پر ہمیں صرف سیاست نظر آتی ہے اور انسانیت نظر نہیں آتی، تو یہ ہمارے اجتماعی رویّے کی کمزوری کی نشاندہی ہے۔
ہمیں بطور معاشرہ یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا ہم ہر معاملے کو سیاسی عینک سے دیکھتے رہیں گے یا کچھ حدود طے کریں گے؟ بیماری، موت، ذاتی دکھ اور خاندانی معاملات کو سیاسی ہتھیار بنانا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔ ماضی میں جب نواز شریف جیل میں تھے تو ان کی صحت کے معاملے پر سیاسی بیانات اور ردعمل سامنے آئے۔ اسی طرح بینظیر بھٹو کے خلاف مقدمات اور قید کے دنوں میں بھی سیاسی کشیدگی عروج پر رہی۔
آصف علی زرداری نے بھی طویل قید کاٹی اور اس وقت کے حکمرانوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا ایک دور کا نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی رویّے کا ہے ایسا رویہ جو اقتدار بدلنے کے ساتھ ہی بدل جاتا ہے ریاستی بصیرت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ حکومتیں ماضی کی تلخیوں کو حال کے فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دیں۔
اگر کسی رہنما کے دورِ اقتدار میں فیصلے متنازع رہے بھی ہوں تو قانون اور اخلاقیات کا تقاضا یہی ہے کہ موجودہ حالات میں ان کے بنیادی انسانی حقوق اور طبی سہولتوں کو یقینی بنایا جائے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو قوموں کو مہذب بناتا ہے اور یہی وہ روایت ہے جو سیاسی استحکام کو جنم دیتی ہے۔ بصورتِ دیگر ہر نیا
حکمران پچھلے سے بدلہ لینے کی نفسیات میں مبتلا رہتا ہے اور یوں ریاست ایک نہ ختم ہونے والے سیاسی چکر میں پھنس جاتی ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران طبقہ وسیع القلبی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرے۔ اقتدار ہمیشہ عارضی ہوتا ہے، مگر ریاستی فیصلوں کی مثالیں مستقل تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
اگر آج رواداری، قانون پسندی اور انسانی ہمدردی کو ترجیح دی جائے تو یہی رویّہ کل سیاسی کلچر کی بنیاد بن سکتا ہے۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ انتقام نہیں بلکہ برداشت کو اپنی پہچان بنا لیتی ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جو سیاست کو محاذ آرائی سے نکال کر قومی مفاہمت کی طرف لے جاتا ہے۔