عبدالحمید محمود طہماز کی کتاب سیرت حضرت خدیجۃ الکبریؓ

زیرِ تبصرہ کتاب”سیرتِ سیدہ اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا“ عالمِ اسلام کے ممتاز فقیہ، جید محقق اور صاحبِ قلم الشیخ عبدالحمید محمود طہماز کی ایک نہایت خوش اسلوب اور بلند پایہ تحقیقی تصنیف ہے۔ مؤلف 1937ء میں ملکِ شام کے شہر حما میں پیدا ہوئے اور طویل عرصے تک درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد پوری یکسوئی کے ساتھ خود کو تحقیق و تصنیف کے لیے وقف کر دیا۔ آپ عالم اسلام کے اُن جلیل القدر علما میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے عصرِ حاضر میں علمی و فکری روایت کو وقار، اعتدال اور تحقیقی بصیرت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ علمِ حدیث، فقہِ اسلامی اور سیرتِ نبوی ﷺ کے میدان میں آپ کی گراں قدر خدمات اپنی معنوی گہرائی اور اثر پذیری کے اعتبار سے دیرپا حیثیت رکھتی ہیں۔ جنوری 2010 ء ہفتہ کی صبح یہ نامور عالم و محقق دارِ فانی سے رخصت ہوگئے، تاہم اپنی علمی کاوشو ں اور حقیقی ورثے کی صورت میں اہلِ علم و دانش کے لیے قیمتی اور رہنما علمی سرمایہ چھوڑ گئے۔شیخ عبدالحمید محمود طہماز نے کلاسیکی اسلامی مصادر سے بصیرت افروز استفادہ کرتے ہوئے جدید اذہان کے فکری و علمی سوالات کا نہایت متوازن، مدلل اور تحقیقی انداز میں جواب پیش کیا اور دینِ اسلام کو محض موروثی روایت کے طور پر نہیں بل کہ ایک زندہ، متحرک اور قابلِ عمل نظامِ حیات کے طور پر قاری کے سامنے رکھا۔ اسی جامع اور معتدل علمی منہج کے باعث آپ کی تصانیف بالخصوص سیرتِ رسول اکرم ﷺ، صحاب? کرام رضی اللہ عنہم کی حیات و خدمات، فقہی مباحث اور اخلاقی و تربیتی موضوعات پر مشتمل کتب، نہ صرف مستند اور قابلِ اعتماد سمجھی جاتی ہیں بل کہ علمی و تحقیقی حلقوں میں مراجع کی حیثیت بھی رکھتی ہیں، جن سے اہلِ علم اور عام قارئین یکساں طور پر فکری و عملی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
الشیخ عبدالحمید محمود طہماز کی تصانیف محض عالمِ عرب تک محدود نہیں رہیں، بل کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ذریعے عالمی سطح پر بھی وسیع مقبولیت اور قبولِ عام حاصل کر چکی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب کا اردو ترجمہ جسے جناب ظفر اقبال کلیار نے غیر معمولی اہتمام، شستہ اسلوب اور اعلیٰ درجے کی علمی دیانت کے ساتھ انجام دیا ہے اسی بین الاقوامی پذیرائی، فکری رسوخ اور علمی وقار کا روشن اور معتبر ثبوت ہے۔یہ کتاب شیخ عبدالحمید محمود طہماز کے اخلاصِ نیت، فکری اعتدال، علمی دیانت اور مستند تاریخی تحقیق کا ایک حسین اور ہم آہنگ امتزاج پیش کرتی ہے۔ اس تصنیف میں سیدہ اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی سیرتِ مبارکہ کو نہایت وقار و احترام، اسلوب کی سنجیدگی، بیان کی شائستگی اور پیغام کی گہری معنویت کے ساتھ قاری کے سامنے رکھا گیا ہے۔یوں یہ کتاب محض ایک سوانحی خاکہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ، سیرتِ مقدسہ اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا ایک معتبر، بامقصد اور مؤثر مطالعہ ہے، جو قاری کے لیے نہ صرف علم و بصیرت کا ذریعہ بل کہ فکری بالیدگی اور روحانی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔
کتاب کے موضوعات پر نظر ڈالی جائے تو شیخ عبدالحمید محمود طہماز نے سیدہ اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی خدمات، شمائل اور کمالات کو مستند تاریخی و حدیثی روایات کی روشنی میں اگرچہ اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، تاہم ہر بیان میں ایک دل نشین وقار، فکری توازن اور گہری جذباتی تاثیر نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔یہ کتاب متعدد منظم فصول پر مشتمل ہے، جن کے ذریعے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں کا نہایت شائستہ، جامع اور بامعنی احاطہ کیا گیا ہے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عائلی زندگی، منگنی و ازدواج، کاشانہ نبوت کی حرمت و حفاظت، نبوت و صداقت کی توثیق و تصدیق، صبر و استقامت کی درخشاں مثالیں اور رسولِ اکرم ﷺ کی بے مثال پشت پناہی‘یہ تمام اہم اور معنی خیز موضوعات کتاب میں نہایت محبت، عقیدت اور خالص مودّت کے جذبات کے ساتھ اجاگر کیے گئے ہیں۔مطالعے کے دوران قاری بہ خوبی محسوس کرتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کے دل میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے جو خاص محبت، رغبت اور وفادارانہ مودّت تھی، وہ اپنی نوعیت اور شدت میں یکتا تھی اور کسی اور اُمّ المؤمنین کے حصے میں اس صورت میں نہ آ سکی۔
یہاں مترجم جناب ظفر اقبال کلیار کا ذکرِ خیر نہ کرنا یقیناً انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔ انہوں نے اس اہم اور وقیع تصنیف کو نہایت جاں فشانی، عرق ریزی اور اعلیٰ درجے کی فکری دیانت کے ساتھ اردو کے بامعنی اور روان قالب میں ڈھالا ہے۔ ترجمے کے دوران انہوں نے نہ صرف موضوع کی نزاکت، روحانیت اور فکری وقار کو پوری طرح پیشِ نظر رکھا بلکہ مصنف کے اسلوب، علمی توازن اور تحقیقی مزاج کو بھی غیر معمولی دیانت اور شائستگی کے ساتھ برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ترجمہ اصل متن کی روح، تاثیر اور معنوی گہرائی کو قاری تک بخوبی منتقل کرنے میں کامیاب دکھائی دیتا
ہے۔جناب ظفر اقبال کلیار کا تعلق ضلع میانوالی کے قصبہ واں پھجراں کے نواحی گاؤں وٹو سے ہے اور آپ سنہ 1962ء میں ایک مخلص اور دینی و علمی روایات سے مزین گھرانے، غلام رسول کلیار کے گھر پیدا ہوئے۔ اگرچہ آپ کے آباؤاجداد کا پیشہ زیادہ تر کاشتکاری اور گلہ بانی تھا، لیکن فاطر کائنات نے انہیں علم و فضل کے ایسے مواقع سے نوازا، جو بلا شبہ ایک حقیقی اور بلند مرتبہ تحفہء الٰہی کے مترادف ہیں۔
آپ نے انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد اور پنجاب یونیورسٹی جیسی معتبر درسگاہوں کے علاوہ دارالعلوم محمدیہ غوشیہ بھیرہ جیسی عظیم الشان درسگاہ میں بھی تحصیلِ علم کا شرف حاصل کیا، جہاں آپ کو ضیائالامت حضرت پیر محمدکرم شاہ الازہری رحمتہ اللہ علیہ کے حضور زانوئے تلمذ اختیار کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، یوں آپ علم و عرفان کے بے پایاں بحرِ ذخار سے، حضرت پیر کرم شاہ الازہری رحمتہ اللہ علیہ کی ضیا پاشیوں کے ذریعے بالواسطہ فیض یاب ہوئے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے علم و فضل کی روشن کرنیں بکھیرتے ہوئے اردو دینی و روحانی ادب میں مستند، تابناک اور قابلِ تقلید خدمات انجام دینے لگے۔جناب ظفر اقبال کلیار نے خصوصاً دینی، فکری اور سیرت لٹریچر کے تراجم کے ذریعے علمی و ادبی حلقوں میں اپنی ایک معتبر اور ممتاز شناخت قائم کی ہے۔ عربی متون پر آپ کی گہری نظر، زبان و بیان پر مضبوط گرفت اور موضوع کی فکری و روحانی نزاکت کا شعور، آپ کے تراجم کو نہ صرف رواں اور فہم و قرأت میں آسان بناتا ہے بل کہ انہیں معتبر، مستند اور اثر انگیز بھی بناتا ہے۔ظفر اقبال کلیار نے اردو میں متعدد مستند اور معنویت بخش تراجم پیش کیے ہیں، جو علمی و ادبی حلقوں میں گراں قدر اہمیت اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان میں خصوصاً درج ذیل تراجم نمایاں اور قابلِ ذکر ہیں:
قصص القرآن از علی الجارم مصری
قصص الانبیاء از امام ابن کثیر رضی اللہ عنہ
مسلمانانِ اندلس کی تاریخ
سلطنتِ عثمانیہ از ڈاکٹر محمد علی الصلابی
ایھاالولد از حضرت امام غزالی
آپ کے دیگر باکمال تراجم میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی معروف کتاب ”آدابِ السلوک“ شامل ہے، جس میں تصوف اور سلوک کے اخلاقی اصول جامع انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک اور اہم صوفیانہ تصنیف ”سر الاسرار“ بھی آپ کے تراجم میں شامل ہے، جو روحانی زندگی کے بنیادی اسرار کو نہایت واضح، مؤثر اور دلنشین انداز میں پیش کرتی ہے۔یہ تراجم محض کتابیں نہیں بلکہ اردو دینی و روحانی ادب میں علمی معیار، روحانیت اور فکری اعتدال کے حسین امتزاج کا عکاس ہیں جو علمی و ادبی حلقوں میں ہمیشہ قدر، احترام اور تحسین کی نگاہ سے دیکھے اور سراہے جاتے ہیں۔