زندگی کا اٹل سبق: آخرکار سب کچھ اکیلے ہی کرنا ہوتا ہے

زندگی کے سفر میں ایک جملہ بار بار دل کے نہاں خانوں میں گونجتا ہے کہ “آپ کو سب کچھ اکیلے ہی کرنا ہے، کوئی ساتھ نہیں دیتا۔” یہ جملہ بظاہر تلخ لگتا ہے، مایوس کن محسوس ہوتا ہے، مگر جب انسان وقت، تجربے اور مشاہدے کی کسوٹی پر اسے پرکھتا ہے تو یہی جملہ زندگی کی سب سے بڑی سچائی بن کر سامنے آتا ہے۔ انسان دنیا میں تنہا آتا ہے، اپنے فیصلوں کا بوجھ خود اٹھاتا ہے، اپنی غلطیوں کا کفارہ خود ادا کرتا ہے اور آخرکار اس دنیا سے بھی تنہا ہی رخصت ہو جاتا ہے۔ درمیان میں جو لوگ ساتھ دکھائی دیتے ہیں، وہ اکثر حالات، مفادات اور ضرورتوں کے مسافر ہوتے ہیں، مستقل ہمسفر نہیں۔

بچپن میں ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ خاندان سب سے مضبوط سہارا ہے، دوست زندگی کا حسن ہیں اور رشتے مشکل وقت میں کام آتے ہیں۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ درست بھی ہیں، مگر مکمل سچ نہیں۔ اصل سچ یہ ہے کہ ہر رشتہ، ہر تعلق اور ہر قربت کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب تک آپ مضبوط ہیں، کامیاب ہیں، خوش ہیں یا کسی کے کام آ رہے ہیں، تب تک لوگ آپ کے اردگرد رہتے ہیں۔ جیسے ہی زندگی کا پہیہ الٹا گھومتا ہے، مسائل دستک دیتے ہیں، ناکامیاں سامنے آتی ہیں اور آزمائشیں بڑھتی ہیں، ویسے ہی اکثر لوگ خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ آپ سے نفرت نہیں کرتے، بس اپنی سہولت کو ترجیح دیتے ہیں۔

انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے غیر معمولی توقعات باندھ لیتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جس طرح وہ کسی کے لیے کھڑا ہے، دوسرا بھی اسی طرح اس کے لیے کھڑا ہوگا۔ مگر زندگی کا اصول یہ نہیں۔ ہر انسان اپنی جنگ خود لڑ رہا ہوتا ہے۔ کوئی بھی اتنا فارغ یا اتنا مضبوط نہیں کہ وہ آپ کے بوجھ کو مستقل اپنے کندھوں پر اٹھا لے۔ اس حقیقت کو جتنی جلدی قبول کر لیا جائے، اتنی ہی کم تکلیف ہوتی ہے۔

جب انسان پہلی بار دھوکہ کھاتا ہے، پہلی بار تنہائی کو محسوس کرتا ہے، پہلی بار یہ دیکھتا ہے کہ جن لوگوں پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرتا تھا وہی سب سے پہلے غائب ہو گئے، تب دل ٹوٹتا ہے۔ یہ ٹوٹنا دراصل کمزوری نہیں بلکہ تربیت کا عمل ہوتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان اندر سے مضبوط ہونا سیکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ سہارا باہر نہیں، اندر پیدا کرنا ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی ذات کا سہارا بن جاتا ہے، دنیا کی کوئی بے رخی اسے توڑ نہیں سکتی۔

زندگی میں کامیابی ہو یا ناکامی، فیصلہ آپ ہی کو کرنا ہوتا ہے۔ کوئی اور آپ کے لیے خواب نہیں دیکھ سکتا، کوئی اور آپ کے لیے محنت نہیں کر سکتا، کوئی اور آپ کے لیے قربانی نہیں دے سکتا۔ لوگ مشورے دے سکتے ہیں، حوصلہ بڑھا سکتے ہیں، مگر راستہ چلنا آپ ہی کو ہوتا ہے۔ اگر آپ گر جائیں تو اٹھنا بھی آپ ہی کو ہوتا ہے۔ اگر آپ تھک جائیں تو خود کو سنبھالنا بھی آپ ہی کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مضبوط لوگ وہ نہیں ہوتے جن کے پاس زیادہ لوگ ہوں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو اکیلے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

اکیلا ہونا ہمیشہ کمزوری کی علامت نہیں۔ بعض اوقات اکیلا ہونا نعمت بن جاتا ہے۔ تنہائی انسان کو خود سے ملاتی ہے۔ وہ اپنے خوف، اپنی خواہشات، اپنی غلطیوں اور اپنی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے۔ جب شور کم ہو جاتا ہے تو اندر کی آواز صاف سنائی دینے لگتی ہے۔ یہی آواز انسان کو صحیح اور غلط کا فرق سکھاتی ہے۔ جو لوگ ہر وقت بھیڑ میں رہتے ہیں، وہ اکثر خود سے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ انہیں اکیلے بیٹھنے کا حوصلہ نہیں ہوتا کیونکہ اکیلا بیٹھ کر انسان کو خود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

زندگی کا ایک تلخ مگر ضروری سبق یہ بھی ہے کہ ہمدردی عارضی ہوتی ہے۔ لوگ آپ کے دکھ پر افسوس تو کرتے ہیں، مگر وہ آپ کے درد کو جیتے نہیں۔ آپ کی راتوں کی بے خوابی، آپ کے دل کا بوجھ، آپ کی خاموش چیخیں صرف آپ ہی جانتے ہیں۔ دوسرے لوگ چند لمحوں کے لیے سن لیتے ہیں، پھر اپنی زندگی میں مگن ہو جاتے ہیں۔ اس لیے یہ امید رکھنا کہ کوئی آپ کے درد کو پوری طرح سمجھ لے گا، خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

جب انسان یہ سچ قبول کر لیتا ہے کہ آخرکار اسے اکیلے ہی سب کچھ کرنا ہے، تو اس کے اندر ایک عجیب سا سکون آ جاتا ہے۔ وہ شکوے کرنا چھوڑ دیتا ہے، شکایتیں کم ہو جاتی ہیں اور توقعات ختم ہو جاتی ہیں۔ توقعات کے ختم ہوتے ہی دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ پھر انسان دوسروں سے محبت بھی بغیر شرط کے کرنے لگتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آج کوئی ساتھ ہے تو یہ ایک اضافی نعمت ہے، کوئی حق نہیں۔

زندگی میں خود انحصاری سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب آپ اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لیتے ہیں، اپنی ناکامیوں کو قبول کرتے ہیں اور اپنی کامیابیوں پر غرور نہیں کرتے، تب آپ اصل میں بالغ ہو جاتے ہیں۔ یہ بالغ ہونا عمر سے نہیں، شعور سے آتا ہے۔ جو شخص یہ سمجھ لے کہ اس کی زندگی کا ڈرائیور وہ خود ہے، وہ کسی اور کو الزام نہیں دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ راستے خراب ہوں یا موسم سخت، گاڑی اسے خود ہی چلانی ہے۔

اکیلا چلنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سب سے کٹ جائیں یا کسی پر بھروسہ نہ کریں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ اپنی بنیاد مضبوط کریں۔ رشتے رکھیں، دوست بنائیں، محبت کریں، مگر اپنے وجود کو کسی کے سہارے پر نہ ٹکائیں۔ کیونکہ جب سہارا ہٹتا ہے تو وہی عمارت سب سے پہلے گرتی ہے جو خود کمزور ہو۔ مضبوط عمارتیں سہاروں کے بغیر بھی کھڑی رہتی ہیں۔

زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب انسان بالکل اکیلا محسوس کرتا ہے، چاہے اس کے اردگرد سینکڑوں لوگ ہوں۔ یہ لمحے بہت قیمتی ہوتے ہیں، اگر انسان ان سے بھاگے نہیں۔ یہی لمحے انسان کو اصل میں بناتے ہیں۔ یہی لمحے سکھاتے ہیں کہ آنسو خود پونچھنے پڑتے ہیں، ہمت خود جمع کرنی پڑتی ہے اور آگے بڑھنے کا فیصلہ بھی خود ہی کرنا ہوتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ “آپ کو سب کچھ اکیلے ہی کرنا ہے، کوئی ساتھ نہیں دیتا” ایک مایوس کن جملہ نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ یہ سوچ انسان کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتی ہے۔ جب آپ اس حقیقت کو قبول کر لیتے ہیں تو آپ کسی کے جانے سے ٹوٹتے نہیں، کسی کے نہ آنے سے بکھرتے نہیں اور کسی کے بدلنے سے حیران نہیں ہوتے۔ آپ اپنی راہ خود بناتے ہیں، اپنی رفتار خود طے کرتے ہیں اور اپنی منزل تک خود پہنچتے ہیں۔ یہی زندگی کا اصل حسن ہے، اور یہی اصل آزادی۔