حسد: وہ خاموش آگ جو انسان کو اندر سے جلا دیتی ہے

حسد انسانی دل میں پلنے والی وہ کیفیت ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی مگر اپنے اثرات میں نہایت گہری، تباہ کن اور دیرپا ہوتی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جو انسان کو دوسروں کی خوشیوں سے بے زار، اپنی نعمتوں سے غافل اور اپنے رب کی تقسیم پر شکوہ کناں بنا دیتی ہے۔ حسد صرف کسی اور کی کامیابی دیکھ کر دل میں اٹھنے والی وقتی جلن کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل ذہنی اور روحانی کیفیت ہے جو انسان کے اخلاق، سوچ، رویّے اور تعلقات کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتی ہے۔ حسد کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ حسد کرنے والا اکثر اس حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے کہ وہ دراصل دوسروں کو نقصان پہنچانے سے پہلے خود کو تباہ کر رہا ہے۔

حسد کی جڑ انسان کی کمزور نفسیات میں پیوست ہوتی ہے۔ جب انسان خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کھو دیتا ہے اور اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتا ہے تو حسد جنم لیتا ہے۔ یہ موازنہ رفتہ رفتہ شکایت میں بدل جاتا ہے، شکایت شکوے میں اور شکوہ حسد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ انسان یہ سوچنے لگتا ہے کہ فلاں کو یہ نعمت کیوں ملی، مجھے کیوں نہیں؟ فلاں ترقی کیوں کر گیا، میں پیچھے کیوں رہ گیا؟ یہی سوالات دل میں تلخی پیدا کرتے ہیں اور یہ تلخی انسان کے رویّے میں زہر گھول دیتی ہے۔

حسد کی ایک بڑی وجہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر عدمِ اطمینان ہے۔ جب انسان یہ ماننے کے بجائے کہ ہر نعمت، ہر کامیابی اور ہر آزمائش اللہ کی حکمت کے تحت ہے، یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا میں انصاف نہیں، تو وہ دراصل اپنے رب پر بدگمانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ حسد انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ دوسروں کی نعمتوں کے چھن جانے کی تمنا کرنے لگتا ہے، چاہے اس سے اسے کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حسد ایک اخلاقی برائی سے بڑھ کر روحانی زوال بن جاتا ہے۔

معاشرتی سطح پر حسد بے شمار مسائل کو جنم دیتا ہے۔ خاندانوں میں رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں، بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے، دوست دوست کے خلاف سازشیں کرنے لگتے ہیں۔ دفاتر اور اداروں میں حسد کی وجہ سے ٹانگ کھینچنے کا کلچر فروغ پاتا ہے، میرٹ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے اور ماحول بداعتمادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک حسد کرنے والا شخص نہ صرف خود سکون سے محروم ہوتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگی بھی مشکل بنا دیتا ہے۔ وہ ہر کامیابی کو سازش، ہر تعریف کو جانبداری اور ہر ترقی کو ناانصافی سمجھنے لگتا ہے۔

حسد انسان کی اپنی ذات کے لیے بھی نہایت نقصان دہ ہے۔ یہ دل کا سکون چھین لیتا ہے، ذہن کو مسلسل بے چینی میں مبتلا رکھتا ہے اور انسان کو منفی سوچوں کے دائرے میں قید کر دیتا ہے۔ حسد کرنے والا شخص اکثر خوشی محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے کیونکہ اس کی خوشی کا معیار اپنی کامیابی نہیں بلکہ دوسروں کی ناکامی بن جاتی ہے۔ وہ اس وقت مسرور ہوتا ہے جب کسی اور کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہ کیفیت اسے اندر سے مزید خالی اور بے مقصد بنا دیتی ہے۔

اسلامی تعلیمات میں حسد کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ حسد کو ایمان کے لیے خطرہ اور اعمال کے لیے تباہ کن بتایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حسد انسان کو شکر گزاری سے محروم کر دیتا ہے۔ جب انسان دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتا ہے تو وہ اپنی نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ حالانکہ شکر گزاری وہ صفت ہے جو نعمتوں میں اضافہ کرتی ہے اور دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ حسد اس کے برعکس انسان کو ناشکری کی طرف لے جاتا ہے، اور ناشکری بالآخر زوال کا سبب بنتی ہے۔

حسد اور رشک میں فرق کو سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ رشک ایک مثبت جذبہ ہے جس میں انسان کسی کی کامیابی دیکھ کر یہ خواہش کرتا ہے کہ کاش اسے بھی ایسی کامیابی نصیب ہو، بغیر اس کے کہ وہ دوسرے سے وہ نعمت چھن جانے کی تمنا کرے۔ جبکہ حسد میں انسان یہ چاہتا ہے کہ دوسرے کے پاس موجود نعمت ختم ہو جائے، چاہے وہ خود اس نعمت کو حاصل نہ بھی کر سکے۔ یہی فرق حسد کو ایک اخلاقی گناہ اور رشک کو ایک تعمیری جذبہ بناتا ہے۔

حسد کی ایک خطرناک شکل یہ بھی ہے کہ انسان اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے لگتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں اور غلط فیصلوں کا تجزیہ کرنے کے بجائے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ یہ سوچ انسان کو خود احتسابی سے محروم کر دیتی ہے، اور جب خود احتسابی ختم ہو جائے تو اصلاح کا دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ یوں حسد انسان کو ترقی کے راستے سے ہٹا کر جمود اور مایوسی کے اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔

تاریخ اور معاشرہ اس بات کے گواہ ہیں کہ حسد نے بڑے بڑے تعلقات کو تباہ کیا ہے۔ بہت سی دشمنیوں، سازشوں اور جرائم کی جڑ میں حسد ہی کارفرما رہا ہے۔ حسد انسان کو اس حد تک اندھا کر دیتا ہے کہ وہ حق و باطل کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ وہ دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے اخلاقی حدود پار کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حسد ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

حسد سے نجات کا پہلا قدم شعور اور اعتراف ہے۔ جب تک انسان یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اس کے دل میں حسد موجود ہے، وہ اس کا علاج نہیں کر سکتا۔ اپنے دل کے جذبات کا جائزہ لینا، اپنی سوچوں کو پرکھنا اور یہ سمجھنا کہ کون سی سوچ ہمیں منفی سمت میں لے جا رہی ہے، نہایت ضروری ہے۔ اس کے بعد شکر گزاری کی عادت اپنانا حسد کا سب سے مؤثر علاج ہے۔ جب انسان روزانہ اپنی نعمتوں کو یاد کرتا ہے اور ان پر شکر ادا کرتا ہے تو دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے اور دوسروں کی نعمتیں اسے تکلیف نہیں دیتیں۔

قناعت بھی حسد کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہے۔ قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ترقی کی خواہش چھوڑ دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر راضی رہے اور بہتر کے لیے مثبت انداز میں کوشش کرے، بغیر دوسروں سے جلنے کے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر شخص کا سفر، صلاحیت اور وقت مختلف ہے تو وہ موازنہ کرنا چھوڑ دیتا ہے، اور یہی موازنہ حسد کی اصل جڑ ہے۔

دوسروں کے لیے دعا کرنا بھی حسد کو ختم کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ یہ عمل بظاہر مشکل لگتا ہے مگر اس کے اثرات نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ جب انسان اس شخص کے لیے دعا کرتا ہے جس سے وہ حسد محسوس کرتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کے دل کی سختی نرم ہونے لگتی ہے۔ دعا دل کو پاک کرتی ہے اور انسان کو احساس دلاتی ہے کہ رزق اور کامیابی کا مالک صرف اللہ ہے، انسان نہیں۔

آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حسد انسان سے کچھ نہیں چھینتا سوائے اس کے سکون، اس کے اخلاق اور اس کی روحانی بلندی کے۔ جس نعمت پر انسان حسد کرتا ہے وہ دوسرے کے پاس ہی رہتی ہے، مگر حسد کرنے والا اپنی زندگی کی خوشیاں خود ضائع کر دیتا ہے۔ اگر انسان اپنے دل کو حسد سے پاک کر لے، شکر، قناعت اور مثبت سوچ کو اپنا لے تو نہ صرف اس کی اپنی زندگی پرسکون ہو جاتی ہے بلکہ وہ معاشرے کے لیے بھی خیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ حسد ایک ایسی آگ ہے جو بجھا دی جائے تو دل میں روشنی پیدا ہوتی ہے، اور یہی روشنی انسان کو انسان بناتی ہے۔