ہتکِ عزت کا مسئلہ ہمارے معاشرے میں نیا نہیں، مگر اس کے اثرات آج پہلے سے کہیں زیادہ گہرے ہو چکے ہیں۔ زبانی توہین ہو یا تحریری، نجی گفتگو ہو یا میڈیا ٹرائل، کردار کشی ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ فرد کے پاس قانونی راستہ تو موجود ہے، مگر انصاف کی رفتار اس قدر سست ہے کہ اکثر لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں ہتکِ عزت سے متعلق مقدمات برسوں سے عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔ تاریخ پر تاریخ، سماعت کے بغیر سماعت اور فیصلے کا نہ آنا ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔

نتیجتاً متاثرہ شخص ذہنی، سماجی اور پیشہ ورانہ نقصان برداشت کرتا ہے، جبکہ الزام لگانے والا اکثر بے خوف رہتا ہے۔خاص طور پر میڈیا کے ذریعے ہتکِ عزت کے کیسز زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ایک خبر، ایک الزام یا ایک ٹاک شو میں کیا گیا تبصرہ لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ جاتا ہے۔ بعد میں اگر وہ خبر غلط ثابت بھی ہو جائے تو ساکھ کو پہنچنے والا نقصان واپس نہیں آتا۔ عدالت کا فیصلہ آنے تک کہانی ختم ہو چکی ہوتی ہے، مگر کردار تباہ ہو چکا ہوتا ہے۔
ہتکِ عزت کی قانونی تعریف سادہ ہے: کسی شخص یا ادارے کے بارے میں جھوٹا، گمراہ کن یا توہین آمیز بیان جس سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔ یہ زبانی بھی ہو سکتی ہے اور تحریری یا نشر شدہ بھی۔ سوشل میڈیا نے اس دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے، جہاں ایک پوسٹ یا ویڈیو کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔ایسے حالات میں حکومتِ پنجاب کا پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ خصوصی ڈیفیمیشن ٹربیونلز، مقررہ مدت میں سماعت اور فیصلہ، اور واضح دائرہ اختیار اس قانون کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
اس کا بنیادی مقصد ہتکِ عزت کے مقدمات کو عام عدالتی نظام کی سست روی سے نکالنا ہے۔اس قانون کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے عدالتوں پر موجود غیر معمولی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ جب ہتکِ عزت کے کیسز علیحدہ ٹربیونلز میں جائیں گے تو سیشن کورٹس اور ہائی کورٹس دیگر اہم فوجداری اور دیوانی مقدمات پر بہتر توجہ دے سکیں گی۔ یوں انصاف کا مجموعی نظام نسبتاً مؤثر ہو سکتا ہے۔
میڈیا کے حوالے سے یہ قانون ذمہ داری کا احساس اجاگر کر سکتا ہے۔ آزادی اظہار اپنی جگہ، مگر آزادی کے ساتھ احتیاط اور تحقیق بھی ضروری ہے۔ اگر میڈیا ادارے خبر نشر کرنے سے پہلے تصدیق کے اصولوں پر عمل کریں تو نہ صرف قانونی پیچیدگیاں کم ہوں گی بلکہ صحافت کا وقار بھی بحال ہو گا۔تاہم خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس قانون کا استعمال طاقتور حلقے تنقید دبانے یا اختلافِ رائے کو خاموش کرانے کے لیے کریں تو یہ آزادی اظہار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ہر تنقید یا سوال کو ہتکِ عزت قرار دینا جمہوری اقدار کے منافی ہو گا۔بہتری اسی صورت ممکن ہے جب قانون میں ہتکِ عزت اور جائز تنقید کے درمیان واضح فرق رکھا جائے، ٹربیونلز شفاف ہوں، اور فیصلے میرٹ پر ہوں۔ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق واضح رہنمائی اور عوامی آگاہی بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ شہری خود بھی ذمہ دارانہ رویّہ اپنائیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 ایک موقع بھی ہے اور آزمائش بھی۔ اگر اس کا اطلاق منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار ہوا تو یہ شہری عزت کے تحفظ، میڈیا کے وقار اور عدالتوں پر بوجھ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اصل امتحان قانون کا نہیں، نیت اور عمل کا ہے، کیونکہ انصاف وہی معتبر ہوتا ہے جو بروقت اور بلاامتیاز ملے۔
تحریر: شہزاد حسین بھٹی