دینِ اسلام قربانیوں اور شہادتوں کی روشن تاریخ سے مزین ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی راہ میں جان قربان کرنا سب سے بڑی سعادت ہے، اور یہی عظیم جذبہ پاک فوج کے جری سپوت میجر حمزہ اسرار شہیدؒ کی پوری زندگی کا محور تھا۔میجر حمزہ اسرار شہیدؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم پری کیڈٹ اسکول ساگری سے حاصل کی، بعد ازاں کیڈٹ کالج چکوال سے تعلیم مکمل کی اور پھر پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول ایبٹ آباد سے سخت اور کٹھن عسکری تربیت حاصل کی۔وہ 17 اکتوبر 2015ء کوسیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر پاک فوج میں شامل ہوئے اور اپنی محنت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قائدانہ اوصاف کی بدولت کیپٹن اور پھر میجر کے عہدے تک پہنچے۔

شمالی وزیرستان کے ضلع میر علی میں دہشت گردی کے خلاف ایک انتہائی حساس اور خطرناک آپریشن کے دوران، میجر حمزہ اسرار شہیدؒ نے اپنے دستے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔اس وقت ان کی عمر صرف 29 برس تھی اور ان کی شادی کو محض ایک ماہ ہی گزرا تھامیجر حمزہ اسرار شہیدؒ کا تعلق ضلع راولپنڈی کی یونین کونسل ساگری کے معروف گاؤں توپ مانکیالہ سے تھاوہ ایک سادہ مگر باوقارحب الوطنی سے لبریز اور انتہائی شاندار طبعیت کے مالک تھے صرف ایک قابل اور پیشہ ور فوجی افسر تھے بلکہ ایک بااخلاق انسان، شفیق دوست، فرماں بردار بیٹے اور ذمہ دار شوہر بھی تھے۔
ان کی شخصیت میں وقار، آنکھوں میں عزم اور لہجے میں غیر متزلزل اعتماد نمایاں تھا۔ان کی شہادت پر ان کے آبائی گاؤں توپ مانکیالہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان کی نمازِ جنازہ ایک ایسا تاریخی منظر تھی جہاں آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں فخر ایک ساتھ موجود تھا۔شہادت کوئی اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے، جو صرف اس کے منتخب بندوں کو نصیب ہوتا ہے۔ میجر حمزہ اسرار شہیدؒ نے اپنی جان قربان کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ ان کی قربانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی آزادی، امن اور سلامتی قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں۔آج ہم صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ ایک نظریے کو یاد کرتے ہیں —وہ نظریہ جو وطن سے محبت، فرض شناسی، ایثار اور قربانی سے عبارت ہے۔
میجر حمزہ اسرار شہیدؒ کا نام آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ قومیں قربانیوں سے بنتی ہیں اور زندہ وہی رہتی ہیں جو اپنے شہداء کو یاد رکھتی ہیں۔ان کے والدین اور اہلِ خانہ نے صبر و استقامت کی جو مثال قائم کی، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ احترام ہے۔ شہداء کے خاندان ہی اصل ہیرو ہوتے ہیں جو اپنے ذاتی غم کو قربان کر کے قوم کو حوصلہ عطا کرتے ہیں۔میجر حمزہ اسرار شہیدؒ کی قربانی ہرگز رائیگاں نہیں جائے گی۔ ان کا لہو اس دھرتی میں شامل ہو کر اس کی بنیادوں کو مزید مضبوط کرے گا۔
دشمن یہ بات جان لے کہ جب تک اس قوم میں میجر حمزہ جیسے بہادر سپوت پیدا ہوتے رہیں گے، پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ میجر حمزہ اسرار شہیدؒ کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،آمین۔
سلام ہے شہدائے پاکستان
سلام ہے میجر حمزہ اسرار شہید
آصف شاہ