چوہدری رب نواز خان مرحوم تحصیل گوجر خان کے معروف گاؤں راماں میں سن 1945ء میں ذیلدار چوہدری نواب خان مرحوم کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جس کی سیاست، وقار اور عوامی خدمت میں ایک مضبوط پہچان تھی۔ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت خاندانی روایات اور سماجی اقدار کے مطابق ہوئی۔ بچپن ہی سے ان میں سنجیدگی، بردباری اور قیادت کی جھلک نمایاں تھی۔ وہ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت کو اپنی زندگی کا اصول سمجھتے تھے۔ یہی اوصاف بعد ازاں ان کی عملی زندگی میں بھی واضح طور پر نظر آئے۔ وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے میں ایک معتبر اور قابلِ اعتماد شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔

چوہدری رب نواز خان مرحوم نے عملی زندگی میں ہمیشہ عوامی مسائل کو ذاتی مسائل سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کی۔ علاقائی تنازعات ہوں یا سماجی اختلافات، لوگ انہیں ثالث اور منصف کے طور پر بلاتے، کیونکہ ان کے فیصلے انصاف، دانائی اور غیر جانبداری کی مثال ہوتے تھے۔ وہ اقتدار یا نمود و نمائش کے قائل نہ تھے بلکہ خاموشی سے خدمت کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ ہر طبقہ فکر کے لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کی سیاست ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی فلاح پر مبنی تھی۔ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، تعلیم کے فروغ اور باہمی اتحاد کے داعی تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم راماں ہائی اسکول سے حاصل کی، جو اس دور میں مڈل کے درجے کا اسکول تھا۔ تعلیم کے شوق نے انہیں راولپنڈی گارڈن کالج تک پہنچایا، مگر خاندانی روایت، سیاسی ورثے اور عوام سے گہری وابستگی انہیں دوبارہ اپنے آبائی گاؤں راماں واپس لے آئی۔
چوہدری رب نواز خان کو سیاست سے دلچسپی ورثے میں ملی۔ ان کے والد مرحوم چوہدری نواب خان کنونشن لیگ کے سرگرم رکن رہے اور دو مرتبہ کنونشن لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن بھی لڑا۔ یہی پس منظر چوہدری رب نواز خان کے سیاسی شعور کی بنیاد بنا۔انہوں نے باقاعدہ سیاست کا آغاز 1970ء میں پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا۔ 1979ء میں ممبر ضلع کونسل کے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ یہ حلقہ پانچ یونین کونسلز پر مشتمل تھا جن میں نڑالی، راماں، سید، پنجگراں کلاں اور دولتالہ شامل تھیں۔
وہ دو مرتبہ ممبر ضلع کونسل منتخب ہوئے، جو عوام کے اعتماد کا واضح ثبوت تھا۔1990ء میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں تحصیل گوجر خان سے ایم پی اے کا امیدوار نامزد کیا اور باقاعدہ ٹکٹ جاری ہوا، مگر انتخابی مہم کے دوران پارٹی نے ٹکٹ واپس لے کر راجہ پرویز اشرف صاحب کو دے دیا۔ اس فیصلے پر چوہدری رب نواز خان نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور اصولی مؤقف اپناتے ہوئے اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کا مکمل بائیکاٹ کیا۔انہوں نے راجہ ظہیر خان (ایم این اے) اور راجہ جاوید اخلاص (ایم پی اے) کی حمایت کا اعلان کیا، اور ان کی حمایت یافتہ امیدواروں نے 40 ہزار ووٹوں کی بھاری لیڈ سے کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار بری طرح ناکام ہوئے۔بعد ازاں 1993ء میں ان کے اور راجہ پرویز اشرف کے درمیان معاملات طے پا گئے، جس کے بعد تا دمِ مرگ ان کا تعلق دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ قائم رہا۔1990ء کے بعد انہوں نے خود کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیا،
مگر عملی سیاست اور عوامی خدمت سے کبھی کنارہ کش نہ ہوئے۔ان کا گھر علاقے کی پنچایت کا مرکز تھا۔ لوگ اپنے مسائل لے کر ان کی دہلیز پر آتے اور وہ دانائی، بردباری اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرتے۔ انہوں نے بے شمار لوگوں کو تھانے اور کچہری کی سیاست سے بچایا اور گھر بیٹھے ان کے مسائل حل کیے۔ وہ ایک زیرک، معاملہ فہم اور باکردار شخصیت تھے۔چوہدری رب نواز خان کو گھوڑوں کا خاص شوق تھا۔ انہوں نے پسوال کلب کے نام سے اپنا کلب قائم کیا، جس نے نہ صرف پوٹھوہار بلکہ پنجاب بھر کے میلوں میں شرکت کی اور متعدد انعامات اپنے نام کیے۔ انہوں نے اپنے دور میں کئی نایاب اور اعلیٰ نسل کے گھوڑے پالے۔
انہوں نے پوری زندگی دیانت، اصول اور کردار کے ساتھ گزاری۔ نہ کبھی اپنے قبیلے کی عزت پر آنچ آنے دی اور نہ ہی اپنی کہی ہوئی بات سے پیچھے ہٹے۔ بددیانتی ان کے مزاج میں شامل ہی نہ تھی۔انہوں نے 68 برس کی عمر پائی اور ایک مثالی زندگی بسر کی۔ آج بھی نہ صرف گاؤں راماں بلکہ پوری تحصیل گوجر خان میں ان کے نام اور کردار کے تذکرے احترام سے کیے جاتے ہیں۔ان کا انتقال 3 ستمبر 2013ء کو ہوا۔ ان کا جنازہ گاؤں راماں کی تاریخ کا ایک بڑا اور یادگار جنازہ تھا، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ تھے۔
چوہدری رب نواز خان مرحوم کے دو صاحبزادے ہیں:نمبر دار چوہدری وقار احمد (مقیم گاؤں راماں)‘چوہدری سعادت نواب (مقیم امریکہ)ان کے قریبی اور دیرینہ دوستوں میں چوہدری محمد یعقوب حیات ہیں۔ان کے بھانجے چوہدری سرفراز خان (امیدوار برائے ایم پی اے، پاکستان پیپلز پارٹی) ہیں، جنہیں چوہدری رب نواز خان نے اپنی زندگی میں عملی طور پر سیاست کے میدان میں متعارف کروایا۔ چوہدری سرفراز خان دو مرتبہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے کا الیکشن لڑ چکے ہیں اور آج بھی پوری قوت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔چوہدری رب نواز خان مرحوم واقعی ایک شخص نہیں، ایک ادارہ تھے جن کا کردار، نام اور خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
احمد نواز کھٹانہ