بلدیاتی نظام جمہوریت کا درخشندہ چہرہ

ملک میں بلدیاتی نظام مختلف دور حکومت میں مختلف شکلوں میں نافذ کیا گیا 1959–60 کی دہائی میں بنیادی جمہوریت کا نظام ایوب خان کے دور میں متعارف کرایا گیا 1979 کا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں نافذ ہوا،2001 میں جنرل پرویز مشرف نے ضلعی حکومتوں کا نظام متعارف کرایاجبکہ 2013 کے بعد 18ویں ترمیم کے نتیجے میں بلدیاتی نظام صوبائی حکومت کے صوابدیدی اختیارات میں شامل کر دیا گیا اور اسی ترمیم کے نتیجے میں اب صوبوں کا اپنا بلدیاتی قانون ہے

مثلاً پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ وغیرہ بلدیاتی نظام وہ انتظامی ڈھانچہ ہے جس میں اختیارات فیصلہ سازی اور وسائل کو مرکزی و صوبائی سطح سے ہٹا کر نچلی سطح یعنی مقامی سطح پر منتقل کیا جاتا ہے تاکہ عوام کے روزمرہ مسائل جیسے سڑکیں نالیاں صفائی پانی گلی محلوں کی روشنی پارکس قبرستان وغیرہ جیسے مسائل حل ہوں تاہم بدقسمتی سے ہرجمہوری دور میں بلدیاتی نظام کو فعال کرنے کے حوالے سے حیلے بہانوں کا سہارا لیا گیا جس کے نتیجے میں دیہی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی جس کی واضح مثال حال ہی ملتوی کیے جانے والے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ہیں وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات 15فروری کو ہونے تھے

الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے ہیں اور شیڈول بھی واپس لے لیا ہے بلدیاتی انتخابات کے التواء کا فیصلہ صدارتی آرڈیننس کے بعد کیا گیا ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی الیکشن پروگرام منسوخ کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے10جنوری کو اسلام آباد کے لیے بلدیاتی حکومت ترمیمی آرڈیننس جاری کیاجس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں مقامی حکومت کے ڈھانچے میں تبدیلی کی گئی ہے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے،

جس کے باعث موجودہ انتخابی شیڈول پر عمل ممکن نہیں رہا اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے اعلان کا فیصلہ تبدیل کر دیا کیا ہے تاہم حکومت کے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے گزشتہ ہفتے مرکزی مسلم لیگ کی درخواست پر اس کیس کی سماعت کی ہے جس میں درخواست گزار انعام الرحمن کمبوہ اپنے وکیل اشفاق احمد کھرل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو صدارتی آرڈیننس کے طور پر چیلنج کیا گیا ہے جبکہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہے

انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں اور تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود الیکشن ملتوی کر دیے گئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ملتوی کیے گئے بلدیاتی انتخابات کے التواء پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی عدالت کیاحکم جاری کرتی ہے تاہم اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جانے کے بعد پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا امکان بڑھ گیا ہے جس سے عوام میں خاصی مایوسی پائی جاتی ہے

کیونکہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے اعلان کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید رواں سال اپریل مئی میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا طبل بجا دیا جائے مگر اب جلد ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا خلاصہ یہ کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے والا نظام ہے جو عوام کو حکمرانی میں شریک کرتا ہے اور مقامی ضروریات کی تکمیل کو ترجیح دیتا ہے مگر ملک میں اس کی مکمل کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے مستقل بااختیار اور بر وقت انتخابات کے انعقاد کے ساتھ فعال نہ رکھا جائے۔

ساجد محمود