آزادیٔ اظہار کو جدید دنیا میں انسانی حقوق کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ حق ہے جو انسان کو سوچنے، بولنے، لکھنے اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی آزادی دیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے سے لے کر دنیا کے بیشتر آئینوں تک، آزادیٔ اظہار کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آزادیٔ اظہار محض بولنے کی اجازت کا نام ہے، یا اس کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی جڑی ہوئی ہیں؟ کیا ہر بات کہنے کی آزادی واقعی آزادی ہے، یا بعض اوقات یہی آزادی دوسروں کی آزادی کو سلب کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے؟ یہ مضمون انہی سوالات کا تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے۔
آزادیٔ اظہار کی اہمیت اس حقیقت سے جڑی ہے کہ انسان محض ایک جسم نہیں بلکہ ایک سوچنے والا وجود ہے۔ خیالات کا اظہار نہ ہو تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں سوال کرنے، اختلاف کرنے اور تنقید کی اجازت دی گئی، وہاں علم، سائنس اور سماجی شعور نے ترقی کی۔ اس کے برعکس، جہاں اظہار پر پابندیاں لگیں، وہاں خوف، منافقت اور ذہنی غلامی نے جنم لیا۔ اسی لیے آزادیٔ اظہار کو جمہوریت کی روح کہا جاتا ہے۔
تاہم آزادیٔ اظہار کا تصور ہمیشہ مطلق نہیں رہا۔ ہر معاشرہ اسے اپنے ثقافتی، مذہبی اور اخلاقی دائرے میں رکھ کر سمجھتا ہے۔ مغربی دنیا میں آزادیٔ اظہار کو زیادہ وسیع معنوں میں لیا جاتا ہے، جہاں ریاست شہری کے خیالات میں کم سے کم مداخلت کی حامی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی اور مذہبی معاشروں میں آزادیٔ اظہار کو سماجی اقدار اور مذہبی حساسیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ یہی فرق اکثر عالمی سطح پر تنازعات کو جنم دیتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں آزادیٔ اظہار ایک نہایت پیچیدہ موضوع ہے۔ آئینِ پاکستان شہریوں کو آزادیٔ اظہار کا حق دیتا ہے، مگر ساتھ ہی ریاست کی سلامتی، مذہب، اخلاقیات اور عدلیہ کی حرمت جیسے عوامل کو بھی حدود کے طور پر متعین کرتا ہے۔ یہ حدود بظاہر معاشرتی ہم آہنگی کے لیے رکھی گئی ہیں، مگر عملی طور پر اکثر یہی حدود اظہار کو دبانے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ صحافیوں پر دباؤ، میڈیا ہاؤسز پر پابندیاں، اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کارروائیاں اس کی واضح مثالیں ہیں۔
میڈیا آزادیٔ اظہار کا سب سے طاقتور ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک آزاد میڈیا نہ صرف حکومت کا احتساب کرتا ہے بلکہ عوام کی آواز بھی بنتا ہے۔ لیکن جب میڈیا خود معاشی، سیاسی یا ریاستی دباؤ کا شکار ہو جائے تو اس کی آزادی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں میڈیا کو بیک وقت آزادی اور پابندی دونوں کا سامنا ہے۔ بعض معاملات میں میڈیا کو مکمل آزادی حاصل ہے، جبکہ بعض حساس موضوعات پر خاموشی کو ترجیح یا مجبوراً اختیار کیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار نے آزادیٔ اظہار کے تصور کو مزید مبہم بنا دیا ہے۔
سوشل میڈیا نے آزادیٔ اظہار کو ایک نئی جہت دی ہے۔ اب اظہار صرف چند اخبارات یا ٹی وی چینلز تک محدود نہیں رہا، بلکہ ہر فرد ایک ممکنہ صحافی، تجزیہ کار اور رائے ساز بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر جمہوری ہے، مگر اس کے منفی پہلو بھی کم نہیں۔ جھوٹی خبریں، نفرت انگیز مواد، کردار کشی اور مذہبی اشتعال انگیزی جیسے مسائل نے سوشل میڈیا کو ایک خطرناک ہتھیار بھی بنا دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا پر مکمل آزادی معاشرے کے لیے فائدہ مند ہے؟
آزادیٔ اظہار اور ذمہ داری کا تعلق یہاں نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ اظہار کی آزادی اگر ذمہ داری سے خالی ہو تو وہ انتشار پیدا کرتی ہے۔ کسی کی مذہبی توہین، نسلی نفرت یا ذاتی کردار کشی کو آزادیٔ اظہار کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی لیے دنیا کے بیشتر ممالک میں آزادیٔ اظہار کے ساتھ نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر اکسانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ان پابندیوں کا استعمال اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے کیا جائے۔
یہاں ریاست کا کردار نہایت نازک ہو جاتا ہے۔ ایک طرف ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے، دوسری طرف اسے معاشرتی امن بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اگر ریاست آزادیٔ اظہار کو مکمل طور پر کھلا چھوڑ دے تو انتشار کا خطرہ ہے، اور اگر حد سے زیادہ کنٹرول کرے تو آمریت کا راستہ کھلتا ہے۔ توازن قائم رکھنا ہی اصل چیلنج ہے، مگر بدقسمتی سے اکثر ریاستیں اس توازن میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔
آزادیٔ اظہار کا ایک اہم پہلو خود سنسرشپ بھی ہے۔ بہت سے افراد قانونی یا سماجی ردعمل کے خوف سے اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرتے۔ یہ خاموشی بظاہر امن کا تاثر دیتی ہے، مگر اندر ہی اندر ایک گھٹن پیدا کرتی ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں لوگ دل کی بات کہنے سے ڈریں، بظاہر پرسکون مگر حقیقت میں کمزور ہوتا ہے۔ فکری آزادی کے بغیر تخلیقی صلاحیتیں مر جاتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آزادیٔ اظہار صرف طاقتور طبقے کے لیے آسان ہوتی ہے۔ عام شہری، اقلیتیں اور کمزور طبقات اکثر اپنی بات کہنے کی قیمت زیادہ ادا کرتے ہیں۔ ان کی آواز کو یا تو نظرانداز کیا جاتا ہے یا دبایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں آزادیٔ اظہار محض ایک قانونی حق نہیں بلکہ سماجی انصاف کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ جب تک سب کو یکساں اظہار کا موقع نہ ملے، آزادیٔ اظہار ادھوری رہے گی۔
تعلیمی اداروں میں آزادیٔ اظہار کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ یونیورسٹیاں اور کالج فکری مباحث کا مرکز ہونے چاہئیں، مگر جب وہاں بھی مخصوص خیالات کو فروغ دیا جائے اور اختلاف کو ناپسند کیا جائے تو نئی نسل سوال کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں سوال جرم بن جائے، وہاں ترقی محض ایک خواب رہ جاتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی آزادیٔ اظہار ایک متنازع موضوع ہے۔ بعض ممالک انسانی حقوق کے نام پر دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں، مگر اپنے مفادات کے وقت انہی اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار آزادیٔ اظہار کو ایک سیاسی ہتھیار بنا دیتا ہے، جس سے اس کی اخلاقی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آزادیٔ اظہار نہ تو مکمل آزادی کا نام ہے اور نہ ہی مکمل پابندی کا۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں معاشرہ، ریاست اور فرد تینوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہے جہاں اختلاف کو برداشت کیا جائے، تنقید کو سنا جائے، اور اظہار کو ذمہ داری کے ساتھ اپنایا جائے۔ آزادیٔ اظہار اگر شعور کے ساتھ ہو تو روشنی بنتی ہے، اور اگر بغیر شعور کے ہو تو آگ۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے روشنی بنائیں یا آگ۔