جنوبی امریکی ملک وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں کم از کم 7 زوردار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں دھوئیں کے بادل اور شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب وینزویلا اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے فوراً بعد شہر کے بڑے حصے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور نصف سے زائد شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق دھماکے کاراکاس کے جنوبی علاقے میں واقع ایک فوجی اڈے کے قریب ہوئے۔ جبکہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ دھماکے دارالحکومت کے مرکزی فوجی اڈے فورٹونا کے اطراف یا اس کے نزدیک پیش آئے، جو وینزویلا کا ایک اہم عسکری مرکز سمجھا جاتا ہے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دارالحکومت میں دھماکوں کے ساتھ ساتھ طیاروں کی نچلی پروازوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ اسی طرح روئٹرز کو عینی شاہدین نے بتایا کہ ہفتے کی علی الصبح زور دار دھماکے، جنگی طیاروں کی آوازیں اور فضا میں اٹھتا ہوا دھوئیں کا بڑا بادل دیکھا گیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر وینزویلا میں ممکنہ زمینی کارروائی کے بیانات دے چکے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے نجی سطح پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا تھا، جبکہ حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا ’’دانشمندی‘‘ ہو گی۔دوسری جانب، امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے اس معاملے پر فوری طور پر کسی تبصرے سے گریز کیا ہے۔خیال رہے کہ امریکا نے حالیہ دنوں میں بحیرہ کیریبین میں وسیع فوجی نقل و حرکت کی ہے، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی بحری جہاز اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں، جسے خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.