بھارت میں جعلی ڈگریوں اور امریکی ویزا فراڈ کا بڑا اسکینڈل بے نقاب، منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش

بھارت میں جعلی تعلیمی اسناد اور رشوت کے ذریعے امریکی ویزوں کی فروخت سے جڑے ایک بڑے اور منظم فراڈ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے نوجوانوں کو امریکی H-1B ویزا دلوانے کے نام پر جعلی ڈگریوں کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس مکروہ دھندے میں ایک منظم مافیا پورے بھارت میں سرگرم تھا، جو امریکا اور دیگر ممالک میں ملازمتوں کا جھانسہ دے کر شہریوں کو دھوکہ دے رہا تھا۔بھارتی جریدے دی کمیون کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیرالا میں سرگرم اس نیٹ ورک نے تقریباً 100 کروڑ روپے کا فراڈ کیا، جبکہ پولیس کارروائی میں کئی اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ گروہ اب تک 10 لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے اور بھارت کی مختلف ریاستوں میں اس کے نیٹ ورک پھیلے ہوئے ہیں۔تحقیقات کے دوران کیرالا سے 22 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد جعلی سرٹیفکیٹس برآمد کیے گئے۔ پولیس چھاپے کے وقت مرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی اپنے گھر میں جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا۔پولیس نے کارروائی کے دوران 28 یونیورسٹیوں کی جعلی مہریں، مارک شیٹس اور دیگر حساس دستاویزات بھی قبضے میں لے لیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ اندرونِ ملک کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک ملازمتوں کے لیے بھی جعلی تعلیمی اسناد فراہم کرتا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اسکینڈل نہ صرف بھارتی تعلیمی نظام بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ویزا سسٹم پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔