پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے، ثقافتی تنوع اور مہمان نوازی کے اعتبار سے دنیا کے منفرد ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، وسط میں سرسبز میدان، جنوب میں ساحلی پٹیاں، صحراؤں کی وسعت، قدیم تہذیبوں کے آثار اور رنگا رنگ ثقافتیں پاکستان کو سیاحت کے لیے ایک مثالی ملک بناتی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں سیاحت کی صنعت وہ ترقی حاصل نہیں کر سکی جو اس کی صلاحیت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر مناسب حکمتِ عملی، مربوط منصوبہ بندی اور مثبت سوچ کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تو پاکستان نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش منزل بن سکتا ہے۔
پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے سب سے پہلے امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں سیکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، مگر عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں منفی تاثر اب بھی کسی حد تک موجود ہے۔ اس تاثر کو بدلنے کے لیے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ مؤثر ابلاغ کی بھی ضرورت ہے۔ جب غیر ملکی سیاح خود پاکستان آ کر محفوظ اور خوشگوار تجربات حاصل کریں گے اور انہیں سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے دنیا تک پہنچائیں گے تو خود بخود پاکستان کا مثبت امیج ابھرے گا۔ اسی طرح مقامی سیاحوں کو بھی یہ اعتماد دیا جانا چاہیے کہ ملک کے مختلف سیاحتی مقامات محفوظ ہیں۔
سیاحت کے فروغ میں بنیادی سہولیات کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ سڑکوں کی حالت، ٹرانسپورٹ کی دستیابی، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کا معیار، صاف پانی، بجلی اور صحت کی سہولیات کسی بھی سیاح کے تجربے کو بہتر یا بدتر بنا سکتی ہیں۔ پاکستان کے کئی خوبصورت سیاحتی مقامات ایسے ہیں جہاں قدرتی حسن تو بے مثال ہے مگر سہولیات کی کمی سیاحوں کو مایوس کر دیتی ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر ان علاقوں میں معیاری ہوٹلنگ، مناسب ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات فراہم کریں تو سیاحت میں واضح اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں اندرونی سیاحت کو فروغ دینا بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر پاکستانی خود اپنے ملک کے مختلف علاقوں کی سیر کریں گے تو نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ مختلف ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی بھی بڑھے گی۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ طلبہ کے لیے مطالعاتی دورے اور سیاحتی ٹرپس کا اہتمام کریں تاکہ نوجوان نسل کو اپنے ملک کے حسن اور تاریخ سے روشناس کرایا جا سکے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستان کے سیاحتی مقامات کو مثبت انداز میں پیش کر کے عوام میں سفر کا شوق پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ثقافتی سیاحت بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ پاکستان میں مختلف تہذیبوں، زبانوں، روایات اور تہواروں کا حسین امتزاج موجود ہے۔ اگر ان ثقافتی رنگوں کو منظم انداز میں پیش کیا جائے تو غیر ملکی سیاح اس سے بے حد متاثر ہو سکتے ہیں۔ لوک موسیقی، علاقائی رقص، دستکاری، روایتی کھانے اور میلوں ٹھیلوں کو سیاحتی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے تو سیاحت کو ایک نیا رخ مل سکتا ہے۔ اسی طرح مذہبی سیاحت بھی پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہاں بدھ مت، سکھ مت، ہندو مت اور اسلامی تاریخ کے بے شمار مقدس مقامات موجود ہیں۔ ان مقامات کی بہتر دیکھ بھال اور عالمی سطح پر تشہیر سے بڑی تعداد میں غیر ملکی زائرین کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔
سیاحت کے فروغ میں ڈیجیٹل میڈیا کا کردار آج کے دور میں انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ پاکستان کے سیاحتی مقامات کی خوبصورت تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزی مواد کو سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پیش کیا جانا چاہیے۔ جدید دور کے سیاح سفر سے پہلے انٹرنیٹ پر معلومات حاصل کرتے ہیں، اس لیے اگر پاکستان کے بارے میں معیاری، درست اور پرکشش مواد دستیاب ہوگا تو سیاحوں کی دلچسپی بڑھے گی۔ بلاگرز، ولاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو مدعو کر کے انہیں پاکستان کے مختلف علاقوں کا تجربہ کرایا جائے تاکہ وہ اپنی زبان اور انداز میں دنیا کو پاکستان کا اصل چہرہ دکھا سکیں۔
ماحول دوست سیاحت کا فروغ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بے ہنگم تعمیرات، کچرے کا مسئلہ اور قدرتی وسائل کا غیر محتاط استعمال سیاحتی مقامات کے حسن کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر سیاحت کو ماحول کے تحفظ کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ پائیدار ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ مقامی آبادی کو اس بات کی تربیت دی جائے کہ وہ سیاحتی سرگرمیوں کے دوران ماحول کو صاف رکھنے اور قدرتی حسن کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس طرح نہ صرف آنے والی نسلوں کے لیے یہ مقامات محفوظ رہیں گے بلکہ سیاحوں پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
سیاحت کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور سنجیدگی ضروری ہے۔ صرف منصوبوں کا اعلان کافی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی اتنا ہی اہم ہے۔ سیاحتی محکموں کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور مقامی سطح پر اختیارات دے کر مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔ ویزا پالیسی میں آسانیاں، آن لائن ویزا سسٹم اور ایئرپورٹس پر بہتر سہولیات غیر ملکی سیاحوں کے لیے پاکستان کو مزید پرکشش بنا سکتی ہیں۔
مقامی آبادی کا کردار بھی سیاحت کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر مقامی لوگ سیاحوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور تعاون کا مظاہرہ کریں گے تو سیاح پاکستان سے خوشگوار یادیں لے کر جائیں گے۔ مہمان نوازی پاکستان کی پہچان ہے اور اسی خوبی کو منظم انداز میں سیاحت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے مقامی لوگوں کو تربیت دی جائے کہ وہ سیاحوں کی رہنمائی، مدد اور حفاظت میں کس طرح کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بے شمار مواقع موجود ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور سنجیدہ کوششیں کریں۔ امن، بہتر سہولیات، مثبت تشہیر، ثقافتی ورثے کا تحفظ اور عوامی شعور بیدار کر کے پاکستان کو عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں تو سیاحت نہ صرف پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک پرامن، خوبصورت اور مہمان نواز پاکستان کی تصویر بھی پیش کر سکتی ہے۔