پنجاب میں احتجاج اور عوامی اجتماعات سے متعلق نیا قانون تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے میں ہائی سکیورٹی زونز قائم کیے جائیں گے۔مجوزہ قانون کے مطابق ہائی سکیورٹی زونز میں جلسے، جلوس اور ہر قسم کے احتجاج پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
قانونی مسودے کے مطابق ہائی سکیورٹی زونز میں بغیر اجازت اجتماع کرنے پر ایک سے تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ نامزد علاقوں میں کسی بھی قسم کے اجتماع کے لیے ڈپٹی کمشنر سے پیشگی اجازت لینا لازم ہوگا، جبکہ اجازت کے بغیر اجتماع کرنے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہےمسودے کے مطابق نان ڈیزگنیٹڈ علاقوں میں بھی بغیر اجازت اجتماع کرنے پر چھ ماہ سے ایک سال تک قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اگر کسی اجتماع کے دوران سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تو نقصان کی مالیت کے برابر اضافی جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔
قانون میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ عوامی اجتماعات سے متعلق جرائم کو ناقابلِ ضمانت قرار دیا جائے، جبکہ پولیس کو قانون کی خلاف ورزی میں استعمال ہونے والا سامان ضبط کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔