درد وغم اور خون آشام چیرہ دستیوں نے قوم کو گھائل کردیا ہے ہم مسائل ومصائب میں زندگی کے دن بیتا رہے ہیں طاقت میں اندھے کرداروں نے ایک جال بچھا رکھا ہے جس کی بھول بھلیاں میں قوم ایسی گم ہوئی کہ راستے کی تلاش میں نڈھال ہوچکی۔ہماری کہانی بہت زخمی ہے جس کے کردار بھی زخمی ہیں دکھوں اور زخموں سے چور عوام کو ہر روز کرب سے گذرنا پڑتا ہے۔
ہمارے زخمی دلوں کو رفو کرنے والا مسیحا تاحال نظروں سے اوجھل ہے۔دنیا بھر میں ہر ایک شے قائدے اور قانون کے تابع ہے چاند تارے بھی زبردست قائدے سے بندھے ہوئے ہیں جس کے خلاف وہ بال برابر بھی جنبش نہیں کرسکتے قانون پر عملداری ہی معاشروں کو مثالی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔بدقسمتی سے ہم بحیثت قوم قانون کو صرف کتابوں تک محدود تصور کرتے چلے آرہے ہیں۔
جہاں قانون بنانے والے خود قانونی کو جوتے کی نوک پر رکھ کر خود کو قانون سے بلاتر مخلوق جانتے ہوں وہاں عام لوگوں کے نزدیک بھی قانون محض فارملٹی ہی تصور ہوگا۔بدقسمتی سے پاکستان میں قانون کا لفظ اب محض محاروں میں استعمال ہونے کے لیے ہی رہ گیاہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔78 برس بعد پنجاب میں قانون کی عملداری پر کام ہورہا ہے جو غیرقانونی کاموں کے عادی ہونے کے باعث اب ہمارے لیے قابل قبول نہیں اس لیے کہ ہم غیرقانونی کاموں کو اپنا حق تصور کرچکے ہیں۔پنجاب حکومت کے اقدامات لائق تحسین کہے جاسکتے ہیں لیکن کیا 78 برس کی خرابی کو فوری درست کیا جاسکتا ہے۔؟ قانون پر عمل کروانا ریاست کی ذمہ داری ہے
اور ریاست کو یہ ذمہ داری پوری بھی کرنا چاہیے لیکن پہلے اس قوم کو قانون بارے مکمل آگاہی دیں۔کیونکہ جبر اور طاقت سے قانون کے فوری نفاذ کوشش عوام ظلم تصور کریں گے گذشتہ دنوں گوجرخان میں تجاوزات کے خلاف ہونے والا آپریشن اس کا واضع ثبوت ہے جہاں عوام میں اس آپریشن کو لے کر غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔عجلت پسندی معاملات کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔گوجرخان میں تجاوزات کے خلاف ہونے والی کاروائی بارے کہا جارہا ہے کہ یہ آپریشن دوہرا معیار لیے ہوا ہے
جہاں غریب پر قانون لاگو کیا جارہا ہے اور طاقت وروں کی تجاوزات بدستور موجود ہے۔غریب کا روز گار چھین لیا گیا ہے جبکہ طاقت ور اپنی تجاوزات بچانے میں کامیاب ہیں جس سے پیرا فورس‘مقامی و ضلعی انتظامیہ کے کردار پر سوالیہ نشان ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق تجاوزات کے باعث پنجاب بینک کے اردگرد کی تجاوزات بدستور موجود ہے۔حتی کے بینک کا راستہ بھی کافی حد تک بند ہوچکا اور یہ تجاوزات گوجرخان کی بااثر شخصیت کی بتائی جاتی ہیں۔جبکہ اس آپریشن میں مالکیتی زمین پر بنی عمارتوں پر توڑ پھوڑ کے علاوہ فورس کی جانب سے عوام کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تاجروں کو بھی اس دوہرے معیار پر تحفظات کااظہار کیا ہے۔
پیرا فورس اور انتظامیہ اگر بلاامتیاز کاروائی نہیں کرتی تو اس آپریشن کا انجام ناکامی ہوگا منفی طرز عمل اور دوہرا معیار اختیار کرنے والے سوچیں کہ ان کے دوہرے معیار سے عوام میں نفرت پیدا ہورہی ہے۔پنجاب حکومت قانون پر عملدرآمد ضرور کروائے اس سے کسی کو اختلاف نہیں لیکن اس میں کمزور اور طاقت وروں کو برابر دیکھا جائے تجاوزات کی زد میں آنے والے ٹھیلے۔
پتھارے اور کھوکے والوں کو روز گار کے لیے متبادل مہیا کرنا بھی پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے۔جس کی ادائیگی بھی اس پر لازم ہے کسی دانا کا قول ہے کہ اپنے ضمیر میں جھانک کر اپنی خطاؤں کو درست کر لیا کرو اگر تم اس میں ناکام رہتے ہو تو اپنی عقل۔اپنے علم اور اپنے منصب سے دغا کرو گے۔
طالب حسین