راولپنڈی(نمائندہ پنڈی پوسٹ)پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال کے باعث بین شہروں اور اندرونِ شہر ٹرانسپورٹ کا نظام شدید متاثر ہوا، متعدد بڑے بس اڈے بند رہے اور مسافروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہڑتال کے باعث صبح سے ہی لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں بس اسٹینڈ سنسان رہے جبکہ ٹکٹ کاؤنٹر بند ہونے پر شہری متبادل ذرائع کی تلاش میں دربدر پھرتے رہے۔
مسافروں نے شکایت کی کہ انہیں گھنٹوں تک بسوں کے انتظار میں دھوپ اور سردی میں کھڑا رہنا پڑا، جبکہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے کرایوں میں اضافی وصولی بھی شروع کر دی۔ بعض مقامات پر شہریوں اور رہائشیوں کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی اقدامات، نئے ٹیکسز اور جرمانوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اور مطالبات تسلیم ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی۔ دوسری جانب حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں اور عوام کی مشکلات کے پیشِ نظر معاملہ جلد حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہڑتال کے باعث ہزاروں افراد دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر شہروں کا سفر بروقت نہ کر سکے، جبکہ عوامی حلقوں نے ٹرانسپورٹ بند ہونے کو شہریوں کے ساتھ زیادتی قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔