نیپال میں تبدیلی کا مطالبہ پرتشدد احتجاج میں 19 سے زائد افراد ہلاک،تین وزرا کے بعد وزیراعظم بھی مستعفی.

اسلام آباد(اویس الحق سے)نیپال میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد پابندی ختم کرنے کے باوجود دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور کابینہ کے تین ارکان کے بعد منگل کو ملک کے وزیراعظم کے پی شرما اولی بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔

ملک میں جاری پرتشدد احتجاج کے دوران اب تک کم از کم 19 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اس صورتحال میں نیپال کے وزیر داخلہ اور وزیر صحت سمیت تین وزرا نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تاہم نوجوان مظاہرین ملک کے وزیراعظم کے پی اولی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے اور منگل کی دوپہر ان کا استعفیٰ بھی سامنے آ گیا۔

وزیراعظم کے دستخط شدہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے موجودہ بحران کے آئینی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعفیٰ دیا ہے۔

پیر کو شروع ہونے والے احتجاج کے بعد حکومت نے رات گئے سوشل میڈیا ایپس پر عائد پابندی تو ختم کر دی لیکن منگل کی صبح بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برسوں میں کئی بڑے اسکینڈلز منظرعام پر آئے لیکن اب تک کسی تحقیقات کے شفاف نتائج سامنے نہ آئے۔

کرپشن کے ان کیسز میں 2017 کا ایئربس معاہدہ بھی شامل ہے جس میں نیپال ایئرلائنز کو دو A330 طیارے خریدنے پر قومی خزانے کو 1.47 ارب روپے (10.4 ملین ڈالر) کا نقصان ہوا تھا۔

کئی اعلیٰ حکام کو کرپشن کے الزام میں سزا بھی سنائی گئی لیکن عوامی اعتماد بحال نہ ہوسکا۔

یاد رہے کہ نیپال میں حکومت نے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، لنکڈ اِن اور یوٹیوب سمیت 26 بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی عائد کردی۔

حکومت نے ان پلیٹ فارمز کو 3 ستمبر تک رجسٹریشن کی مہلت دی تھی تاکہ وہ مقامی نمائندہ اور شکایات کے ازالے کے لیے ذمہ دار شخص مقرر کریں۔

چند پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک اور وائبر نے رجسٹریشن کرائی بھی تھی لیکن اکثر نے حکومتی احکامات پر کان نہ دھرے جس پر اُن ویب سائٹس پر پابندی لگا دی گئی۔

واضح رہے کہ نیپال کی 30 ملین آبادی میں سے تقریباً 90 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور تقریباً 7.5 فیصد لوگ بیرونِ ملک مقیم ہیں یہ پابندی عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنی ہے۔