ووٹ قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت

امیدواروں کی انتخابی مہم اختتام پزپرہوچکی ہے گیارہ مئی کو ساڑھے آٹھ کروڑشہریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ حق رائے دہی کے استعمال سے کرنا ہے چھیاسٹھ سال قبل برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے ایک طویل جدوجہد کے بعد ایک نظریہ کو ووٹ دیکر وطن عزیز پاکستان کو حاصل کیا تھا جس کے لیے ہمارے برزگوں نے نہ صرف اپنے اباو اجداد کی وارثت کو قربان کو کیابلکہ اپنی جانوں کے نذرانے دینے سے بھی گزیز نہیں کیا تھا لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے فوری بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد جناح کی ناگہانی موت اور نوزائیدہ ملک پہلے وزیر اعظم لیاقت علی کے قتل کے بعدہماری پارلیمنٹ پر ایک ایسامخصوص طبقہ کا راج ہوگیاجس نے ہمیشہ اپنے نے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کروائے اور جو قانون سازی بھی ہوئی اس میں بھی حکمرانوں نے اپنے ہی مفادات کو ترجیح دی جس سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی بجائے حکمرانوں کی بدلتی ہوئے پالیسوں کے باعث تنزلی کا شکار رہا 1970میں پہلی بار ملک میں عام انتخابات ہوئے جس میں عوام نے حق رائے دہی کو استعمال کرکے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی سعی کی لیکن اس کے فوری بعد ہی حکمرانوں کی اقتدار کی باہمی جنگ سے وطن عزیز دولخت ہوکررہ گیاجمہوریت دشمن طاقتیں بھی تیس سال تک قابض رہیں جس سے عوام کو جمہوری فیصلے کرنے کا موقع ہی نہ ملا اور ملک میں ایک سیاسی کلچر کو پرموٹ کیا گیا کہ انتخابی عمل میں صرف و صرف ایک مخصوص طبقہ ہی حصہ لیکر کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور ایک عام شہری اس مہنگے ترین انتخابی عمل میں حصہ لینے کا سوچ بھی سکتا ہے اس کی وجہ ہی سے تاحال ایک مخصوص طبقہ ہی قیام پاکستان سے لیکر اب تک حکمرانی کرتا چلا آرہا ہے چہرے بدلتے رہے لیکن نظام میں تبدیلی نہ آسکی اس مخصوص الیکشن کی انتخابی مہم میں جب کوئی امیدوار کروڑوں روپے خرچ کرکے پارلیمنٹ میں پہنچتا ہے تو لامحالہ وہ سب سے پہلے اپنے اخراجات کو پورا کرنے اور آئندہ کے الیکشن میں بھی حصہ لینے کے ایڈوانس رقم جمع کرنا ہی اسکی ترجیحات ہونگی اس سوچ نے ملک میں کرپشن کلچر کو پرموٹ کیا گیا جس سے آج ہر ادارہ میں بغیرلین دین کے عام شہری کا جاہز کام کا بھی ہونا نا ممکن ہوکررہ گیا ہے پاکستان ریلوے پی آئی اے واپڈا سوئی گیس الغرض ہر محکمہ کی تباہی اس کا پیش خیمہ ہے اداروں کی تباہی اور حکمرانوں کی کرپشن سے شہریوں کی پریشانیوں اور مایوسیوں میں آئے روزاضافہ ہوتا چلا جار ہا ہے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور موقع فراہم کیا ہے کہ ہم بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کا وقار بحال کرنے اور اس کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا عزم کریں تاکہ ہمارے لاکھوں بھائی روزگار کی خاطر اپنے بہن بھائیوں والدین اور بچوں سے دور دیار غیر میں خا ک چھین رہے ہیں وہ اپنے ملک جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے میں رہ کر ہی روزگار حاصل کریں
گیارہ مئی کو ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کن لوگوں کو سامنے لانا ہے ماضی کے مقابلہ اس مرتبہ ملک کی یوتھ زیادہ فعال نظر آرہی ہے جس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس بارالیکشن میں ٹرن آوٹ بھی ماضی کی نسبت بہتر رہے گا شہری کا یہ قومی فریضہ ہے کہ گیارہ مئی کو اپنے اور اپنے نسلوں کے سنہرے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ہر صورت میں گھر سے نکلیں اور ترجیجات کا تعین کرتے ہوئے جو کہ آپ کی نظر میں ملک وقوم کی زیادہ خدمت کا اہل و دیانتدار امیدوار ہے اس کو ووٹ دیں اگر آپ یہ تصور کرتے ہیں کہ سارے لیٹرے ہیں تو پھر ان میں سے دوسروں کی نسبت جو کم کرپٹ ہے اس کے حق میں فیصلہ کریں آپ کا ووٹ پول نہ کرنا پارلمینٹ میں ایک مرتبہ پھر بڑے لیٹروں کو بیٹھانے کی اجازت دینے کے مترداف ہے جو گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے قوم کے جذبات سے کھیل رہے ہیں خدارا اپنی نسلوں کی بہتری کیلئے پولنگ اسٹیشن تک ضرور جائیں آپ ایک گھنٹہ کو وقت کا ضیاع نہ تصور کریں آپ کی ایک ووٹ قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں