محمدعتیق فرہاد
بلدیاتی نظام جمہوری نظام کی بنیادی اکائی ہوتا ہے ،اس نظام کے تحت ہی اختیارات کی منتقلی نچلی سطحوں تک پہنچ پاتی ہے ۔وفاقی ضلع میں بلدیاتی الیکشن 2015ء میں 28سال بعد ہوئے تھے حکمران جماعت کی سیاسی قیادت وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے پاس تھی انہوں نے اپنے قرابتداروں کی ایماء پر پورے ضلع کی 50یونین کونسلوں میں من پسندانہ ٹکٹوں کی تقسیم کی جس کی وجہ سے لیگی ضلعی تنظیم کے اہم ارکان بھی ان ٹکٹوں کی تقسیم پر نالاں دکھائی دئیے بلدیاتی الیکشن 2015ء میں نون لیگ اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلہ کے بعد برابری کی نشستیں حاصل کیں ،دیہی حلقہ 49کے 9آزاد امیدوار یوسی مغل سے قاضی عادل عزیز ایڈووکیٹ،سہالہ سے چوہدری ندیم اختر،روات سے چوہدری اظہر محمود،کرپا سے راجہ زاہد حسین ،کورال سے قیصرجاوید بھٹی،پاہگ پنوال سے چوہدری حنیف،علی پورسے ابرار علی شاہ،بری امام سے پیر عادل شاہ ،جی سکس سے چوہدری نعیم علی گجرمنتخب ہوئے تھے ۔ بلدیاتی انتخاب 2015ء میں منتخب ہونے والے مذکورہ بالا آزاد امیدواروں پر منحصر تھا کہ کس سیاسی جماعت سے الحاق کریں اور وہ اپنی ضلعی اسمبلی میں اپنی اکثریت دکھا سکتی تھی چوں کہ لیگی قیادت ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے پاس تھی مگر عوامی و پارٹی کارکنان کے اعتماد اٹھنے کے باعث وہ اکیلے آزاد منتخب بلدیاتی نمائندوں کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتے تھے ،چنانچہ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علیخان ،ممبر قومی اسمبلی ملک ابرار ،راجہ حنیف ایڈووکیٹ نے اپنا خصوصی کرادار ادا کیا اور مذکورہ منتخب نمائندوں کو مشروطی طور پر اعتماد میں لینے میں کامیاب ہو گئے اور اس طرح میٹروپولیٹن کارپوریشن میں حکمران جماعت کی واضع اکثریت ہوگئی ۔منتخب بلدیاتی نمائندوں کی بنیادی شرائط دیہی حلقہ میں ترقیاتی منصوبہ جات جن میں سوئی گیس فراہمی،سہالہ ریلوے پھاٹک اوور ہیڈ برج اور چھوٹے درجے کا 200بیڈ کا ہسپتال بنانا تھا ۔ ڈاکٹر طارق فضل نے ماضی میں کی جانے والی سب غلطیوں جن میں عوامی بے اعتمادی کو دور کرنے کے لیے مذکورہ منتخب نمائندوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان کی یوسیز میں منظور شدہ منصوبہ جات جو پی پی پی کے دور میں ہوئے تھے ان پر کام کروایا ۔بعدازاں سوئی گیس و دیگر چھوٹے موٹے منصوبہ جات کی سکیموں پر عملداری کو یقینی بنایا اس وقت سوئی گیس کے 2ارب سے زائد کے سوئی گیس فراہمی منصوبہ جات پر عمل تیزی سے جاری و ساری ہے نیز سہالہ ریلوے پھاٹک اوور ہیڈ برج کے لیے دو ماہ قبل وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے پی پی ٹو راجہ محمد علی کی وساطت سے 5کروڑ کی گرانٹ ابتدائی مرحلہ کے لیے ڈی سی او پنڈی کو مل چکی ہے جس بابت شنید ہے کہ چند دن بعد وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی افتتاح کے موقع پر مزید گرانٹ کا اعلان کریں گے اور توقع کی جاتی ہے 2018ء الیکشن سے قبل مذکورہ پل کو عملی جامہ پہنانا ہے ،تیسری شرط چھوٹے درجے کے ہسپتال کے لیے نیازیاں کے مقام پر منصوبہ کا پی سی ون بھی بن چکا تھا مگر متوقع بین الاقوامی امداد نہ ملنے کے باعث یہ معاملہ ٹھپ ہو گیا اب سہالہ مرکزصحت کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کاوشیں جاری ہیں موجودہ صورت احوال میں وزیر کیڈ صاحب آمدہ الیکشن کے لیے حکمران جماعت کی طرف سے امیدوار بھی ہوں گے ،کرپا رلیگی مرکزی کارکن راجہ مجاہد کے جلسہ جس میں انہوں نے چکیاں تا محبوب چوک روڈ کا افتتاح بھی کیا تھا کہنا تھا کہ ماضی میں کی جانیوالی غلطیوں کا اذالہ اور جلد سے جلد تمام ترقیاتی منصوبہ جات کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا سہالہ ڈگری کالج کا افتتاح ہو چکا جس میں علاقہ بھر کے طلباء مستفید ہو رہے ہیں مزید سرکاری تعلیمی اداروں کے مسائل کو حل کیا جائے گا جن میں ڈیلی ویجز اساتذہ کو میرٹ کی بنیاد پر ریگولر کیا جائے گا جس پر خاطر خواہ کام ہو چکا ہے ۔ایک طرف وزیر کیڈ نے بھی آمدہ الیکشن میں امیدوار بننے کی امید ظاہر کی تودوسری طرف تحریک انصاف کے گزشتہ الیکشن 2013ء میں 60ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنے والے مدمقابل چوہدری الیاس مہربان نے بھی آئندہ الیکشن میں پر تول چکے ہیں ،ان کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء راجہ خرم نواز خواہش مند ہیں تاحال آمدہ الیکشن کے لیے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا فیصلہ سامنے نہیں آیا گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے والے 270 ٹکٹ ہولڈر امیدواروں میں سے 211امیدواروں نے الیاس مہربان کے حق میں قرار داد منظور کی کہ مذکورہ حلقہ میں مضبوط ترین امیدوار ہیں ،عوامی حلقوں اور سیاسی پنڈتوں کی رائے میں تحریک انصاف کے راجہ خرم نواز کو مضبوط گردانا جارہا ہے مگر مرکزی قیادت کی جانب کارکنان اپنی آنکھیں جمائے ہوئے ہیں ۔ پاکستان عوامی تحریک ( PAT)کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے گزشتہ دنوں چراہ کے مقام وفاقی ضلع کے دونوں حلقوں 48,49کے امیدواروں کو نامزد کر دیا ہے دیہی حلقہ 49کے امیدوار راجہ منیر اعجاز نے اپنی سیاسی مہم شروع کر رکھی ہے جس کو روز بروز حلقہ عوام میں پھیلایا جا رہا ہے ،آل پاکستان مسلم لیگ (مشرف گروپ) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد کو بھی اس حلقہ میں آمدہ الیکشن میں حصہ لینے کی درخواستیں کی جا رہی ہیں چئیرمین سینیٹ کے چھوٹے بھائی سبطی شاہ سوشل میڈیا پر اپنی امیدواری کی پوسٹ کرتے دکھائی دے رہے ہیں تو راجہ امجد محمود ایڈووکیٹ جواسلام آبادکی ضلعی تنظیم میں جنرل سیکرٹری ہیں وہ بھی آمدہ الیکشن میں امیدواری کے پر تول رہے ہیں