راولپنڈی(اویس الحق سے)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ملک کا مشہور سیاحتی مقام ملکہ کوہسار مری ہے جہاں مقامی انتظامیہ کی جانب سے یہاں 12سے 14 اگست کی رات تک مال روڈ پر دفعہ 144 کے زریعہ صرف فیملیوں کے داخلہ کے علاوہ کسی کو بھی نہ آنے دئے جانے کے احکامات کے تحت 13 اگست کی رات مقامی پولیس نے مال روڈ پر سے لا تعداد نوجوانوں کو جو مری میں یوم آزادی منانے کیلئے آئے تھے انہیں حراست میں لیتے ہوے نا معلوم مقامات پر منتقل کر دیا
لیکن دفعہ 144 لاگو ہونے کے بعد بھی 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب جہاں ملک بھر سے لاکھوں سیاح مری کا رخ کرتے تھے وہاں سیاحوں کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت کم دیکھی گئی،13 اگست کی رات بارہ بجتے ہی دفعہ 144 کے باوجود سیاح ٹولیوں کی شکل میں مال روڈ پر نکل آئے جن کو بہت بڑی تعداد میں موجود پولیس نے منتشر کر کے غائب کر دیا لیکن دفعہ 144 کو وہاں موجود سیاحوں کی جانب سے ہوا میں اڑا دیا گیا جو مقامی انتظامیہ کی کارکردگی کےلئے ایک چیلنچ ثابت ہوا۔
یہاں یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف مری کے حالات سے آپ باخبر رہیں۔
ایک جانب مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے یوم آزادی کے موقع پر کسی بھی متوقع ہلڑ بادی کے پیش نظر اس اقدام کو سراہا ہے جبکہ دوسری جانب مقامی کاروباری حلقوں نے اس اقدام کو مری کی معیشت کیلئے انتہائی منفی اقدام قرار دیا ہے۔
یہاں اگر دوبارہ سے گزشتہ رات کی بات کی جائے تو مال روڈ سمیت ڈاکخانہ چوک اور نگہت زار کی تو جشن آزادی منانے کیلئے آنے والے نوجوان ٹولیوں اور اکیلے کھومنے والوں کو پولیس کی جانب سے گرفتار کر لیا گیا،گرفتار کرنے والے اہلکار اکثریت سول کپڑوں میں ملبوس تھی جنہوں نے سیاحوں کو زبردستی وہاں موجود بسوں اور جیپوں میں بٹھا کر نامعلوم مقامات پر لے گئے
بعد ازاں معلوم ہوا ہے کہ انہیں مری شہر سے باہر چھوڑ دیا گیا یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان میں بعض نوجوان جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ آئے تھے جن کو جبری طور پر حراست میں لیا گیا تھا کو رات گئے مختلف مقامات پر اہلخانہ کی جانب سے تلاش کیا جاتا رہا جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔
یوم آزادی کے اس موقع پر کاروباری حلقوں اور سیاحوں میں شدید عدم تحفظ کا اظہار دیکھنے میں آیا ہے۔ادھر گزشتہ دو روز قبل 12 اگست کی رات سیاحوں کی جانب سے مقامی انتظامیہ کے ان احکامات کو ہوا میں اڑتے ہوے دیکھا گیا جب مال روڈ پر فیملیز نہ ہونے کے برابر تھیں جبکہ نوجوانوں کی ٹولیاں آزادانہ گھومتی نظر آئیں۔ ایسے میں دفعہ 144 کے نفاز اور میڈیا پر اس کی تشہیر کے نتیجے میں مری آنے والے سیاحوں کی تعداد انتہائی محدود رہی جبکہ عام سیاح فیملیاں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔
مری کے عوامی اور کاروباری حلقوں نے اس امر پر تعجب اور افسوس کا اظہار کیا کہ نامعلوم کن وجوہات کی بناء پر مری کے کاروبار اور سیاحت کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔