یوم آزادی پر انتظامہ کی جانب سے مری میں دفعہ 144 کے باوجود  منچلے ٹولیوں کی شکل میں مال روڈ پر آزادانہ طریقے سے گھومتے رہے۔

راولپنڈی(اویس الحق سے) سیاحتی مقام مری کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے یہاں 12 سے 14 اگست تک مال روڈ پر دفعہ 144 کے زریعہ سیاح فیملیز کے علاوہ کسی کو بھی مال روڈ نہ آنے دئے جانے کے احکامات کو منگل کے روز اس وقت ہوا میں اڑتے ہوے دیکھا گیا جب مال روڈ پر فیملیز نہ ہونے کے برابر تھیں جبکہ منچلے نوجوانوں ٹولیوں کی شکل میں آزادانہ گھومتی نظر آئے اور مختلف مقامات پر سیاح فیملیز کو منچلوں کی جانب سے باجے بجاتے تنگ کرتے دیکھا جاتا رہا۔ایسے میں جو محدود تعداد میں سیاح فیملیز موجود تھیں ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دفعہ 144کے نفاز اور میڈیا پر اس کی تشہیر کے نتیجے میں سیاحوں میں انتہائی بے چینی کا عالم دیکھا گیا جس میں مری آنے والے سیاح ” کنفیوز” بھی دیکھائی دیے ان کے ذہنوں میں دفعہ 144 کے بعد مختلف قسم کے سوالات گردش میں رہے۔ مری آنے والے سیاحوں کی تعداد انتہائی محدود رہی جبکہ عام سیاح فیملیاں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔

مری کی عوامی اور کاروباری حلقوں نے اس امر پر تعجب اور افسوس کا اظہار کیا کہ نا معلوم کن وجوہات کی بناء پر مری کے کاروبار اور سیاحت کو ”تختہ مشق” بنایا جا رہا ہے۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ موسم گرماء کے ان ایام میں خصوصاً یوم آزاری کے موقع پر ملکہ کوہسار مری کی رونقیں ہمیشہ اپنے عروج پر رہی ہیں مگر امسال مری انتہائی پھیکا پھیکا سا لگ رہا ہے۔کاروباری طبقہ نے اس امر پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔