میں نے سنا میں بے بڑے غور سے سنا ایک محفل میں سیاست پر محو گفتگو کچھ لوگوں کو سنا۔اکثریت کی رائے وہی تھی جو ایک عام آدمی کی سیاست اور سیاست دانوں بارے پائی جاتی ہے۔ سیاست دانوں کی منفاقت کرپشن اور اسمبلی میں پہنچنے سے قبل کی محبت سے ملنے کے انداز اور اسبملی میں پہنچ جانے کے بعد اپنے ووٹر کو اچھوت سمجھنے اور ملاقات سے اجتناب برتنے اور فون بند کرنے بارے بہت زبردست اور بہت مزاحیہ قسم کے تبصرے کیے جارہے تھے۔

محفل میں موجود تقریباً ہر شخص اس ایک نکتے پر متفق تھا کہ پاکستانی سیاست کوعوام کی خدمت کہنے والے کذاب ہیں۔ یہ لوگ چاہے کسی جماعت سے ہوں ان کے رویے اور ان کا کردار ایک ہی جیسا ہے یہ لوگ عوام کو بھیڑ بکریاں تصور کرتے ہیں ان کی سوچ یہی ہے کہ عوام کام صرف ان کی عیاشیوں کے لیے بھاری ٹیکس ادا کرنا جھنڈے باندھنا۔ان کے لیے نعرے لگانا اورتالیاں پیٹنا ہی ہے کہا گیا کہ پورے ملک میں کوئی سیاست دان کوئی ایم پی اے کوئی ایم این اے ایسا نہیں جو حقیقی طور پر عوامی نمائندہ کہلا سکتا ہو کیونکہ یہ ایلیٹ کلاس کے لوگ ہیں غریب انسان ان کے لیے اہمیت نہیں رکھتا۔
اسی محفل میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ نوجوان نے اس آخری بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایسا قطعی نہیں کہ سب سیاسی لوگ منافق اور ریا کار ہیں یقیناً بہت اچھے لوگ بھی سیاست موجود ہیں گو کہ ان کی تعداد بہت ہی قلیل ہوسکتی ہے۔اس نوجوان نے بلوچستان کے حلقہ پی بی 16 کی مثال دی جہاں سے جماعت اسلامی کے نوجوان عبدالمجید بادینی کامیاب ہوئے۔نوجوان نے اس موقع پر اس حلقے میں بادینی کی ایکٹویٹی کی کافی وڈیو دیکھائیں۔جو اس نوجوان نے گاہے بگاہے بنائی تھیں۔
مختلف وڈیو میں ہم سب نے دیکھا کہ وہ نوجوان حقیقتاً عوام کا نمائندہ نظر آیا۔وڈیوز میں وہ شخص کہیں موٹر سائیکل پر دیہاتوں میں عوام کے مسائل پوچھتا نظر آیا تو کہیں عوام کے ساتھ مٹی بھری زمین پر لوگوں کے درمیان بیٹھا دیکھائی دیا کچھ وڈیو میں وہ اپنے حلقے کی عوام کے درمیان گفتگو کرتا نظر آیا اس کی باتیں کسی روایتی سیاست دان کے بجائے ایک ہمدرر انسان کی باتیں نظر آئیں۔ایک وڈیو میں اسے کہتا پایا گیا کہ اگر جعفرآباد کے لیے سو روپیہ منظور ہو اور میں آپکے پاس ننانوے لے کر آوں تو آپ لوگوں کوپورا حق ہے کہ میرا گریبان پکڑیں،اگر آپ کوپتہ چلا کہ آپ کے نمائندے نے اپنے کسی عزیز،رشتے دار کو کوئی فائدہ پہنچا ہے یا اس نے نوکریاں بیچی ہیں تو آپ کو میرا محاسبہ کرنے کاپورا حق ہے میں اور تمام سرکاری آفیسر آپ کے ملازم ہیں۔نوجوان نے بتایا کہ کامیاب ہونے کے بعد اپنے حلقے کے تمام سرکاری دفاتر میں مراسلہ بھیجا گیا کہ کہ ایم پی اے کے کسی مخالف کے ساتھ بھی کوئی ناانصافی نہیں ہونا چاہیے افسران ملازم ہیں اور اب انہیں عوام کو اپنے مالک کی ٹریٹ کرنا ہوگا۔
نوجوان کے مطابق عبدالمجید بادینی کے پاس ایک مہران کار ہے اور ایک موٹر سائیکل زیادہ تر وہ موٹر سائیکل پر ہی نکلتا ہے۔اسمبلی سے تنخواہ اور مراعات نہیں لیتا۔نوجوان نے اس گوہر نایاب بارے بتایا کہ اس نے بطور ممبر اسمبلی کوئی گن مین نہیں لیا۔جہاں جاتا ہے تنہا جاتا ہے سڑک پر چلتے کسی نے پہچان کر آواز دی تو فوری رک کر ملتا ہے اور مسائل پوچھتا ہے۔بچوں کی آواز پر بھی رک کر انہیں ملنا اور پیار کرنا اس کا خاصہ ہے۔اس شخص کا ماننا ہے کہ ترقیاتی کاموں پر اٹھانے والی رقم عوام کی امانت ہے جو ان ہی کے ٹیکسوں سے قومی خزانے میں جمع ہوتی ہے اگر میں امانت میں خیانت کروں تو حلقے کے عوام کو میرے منہ پر تھوکنا چاہیے۔
نوجوان نے اپنے موبائل سے بنائی بہت سی وڈیو ہمیں دیکھائی جسے دیکھ کر مجھے جعفرآباد کے عوام کی قسمت پر رشک آنے لگا۔میں نے 1985 سے آج تک حلقہ پی پی آٹھ سے جیتنے والوں کا موزانہ حلقہ پی بی 16کے عبدالمجید بادینی سے کیا تو افسوس ہوا کہ اس حلقہ کو 1985 سے 2024 تک کوئی ایک بھی ایم پی اے ایسا نہ مل سکا جو عوام کے ساتھ دوستانہ ماحول میں نظر آتا۔کوئی ایسا ہوتا کہ جو عوام کے درمیان دھول اور مٹی پر بیٹھ سکتا۔جو راہ چلتے بلانے پر اپنی گاڑی سے اتر کر اپنے ووٹر کی بات سنتا۔یہاں تو بڑی بڑی چمچماتی گاڑیوں اور کاٹن کے سوٹ پہننے والے مقدر بنتے رہے جو جیت کر عوام سے ملنا تو درکنار ان کے فون سننا گوار نہیں کرتے۔خواب ہے ایک آرزو ہے کہ حلقہ پی پی آٹھ کے عوام کو بھی کوئی بادینی مل سکے۔
وہ جو خواب ہے بہت ہی سہانا ہے
وہ جس کی آرزو ہے وہ فقط فسانہ ہے
طالب حسین
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.