کہوٹہ میں قتل کے واقعات میں اضافہ

راجہ ساجدجنجوعہ‘ کہوٹہ
پولیس تھانہ کہوٹہ کی نااہلی یا مک مکا،گزشتہ چند ماہ کے دوران 4سے زائد اندھے قتل کیسز کا سراغ لگانے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے گزشتہ سال تھانہ کہوٹہ کے علاقہ منیند کی ممتاز روحانی شخصیت سائیں عربی اور ان کے قریبی ساتھی کو رات کی تاریکی میں قتل کردیا گیا جبکہ گزشتہ 3ماہ کے دوران تحصیل کہوٹہ کے علاقوں بڑوٹہ ،ہوتھلہ اور نڑھ،میں اندھے قتل کی تین الگ الگ وارداتوں میں بابر شہزاد ،عمر حیات ،جاوید اختر عرف جھولے لعل کو قتل کردیا گیا پولیس تھانہ کہوٹہ تاحال ان تینوں وارداتوں میں ملوث نامعلوم قاتلوں کا سراغ لگانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جبکہ گزشتہ ہفتہ تھانہ کہوٹہ کے علاقہ ہنیسر کی ڈھوک کالا سند میں 60سالہ محمد یوسف کی خود کشی بھی ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے اور پولیس تھانہ کہوٹہ اس بات کا سراغ لگانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے کہ محمد یوسف نے خود کشی کی ہے یا اسے قتل کیا گیا ہے،گزشتہ دنوں ہوتھلہ میں قتل ہونے والے سوزوکی ڈرائیور عمر حیات کے لواحقین اور اہل علاقہ نے تھانہ کہوٹہ کے باہر ملزم کی گرفتاری کیلئے بھر پور احتجاج کیا تھا،اس موقع پر ڈی ایس پی کہوٹہ ملک اعجاز نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پولیس بہت جلد عمر حیات کے قاتل کو گرفتار کرلے گی بڑوٹہ کے علاقہ سے پٹرولیم پولیس کو بابر شہزادنامی شخص کی سڑک پڑی لاش ملی تھی جس کے بارے میں یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ بابر شہزاد کو قتل کرکے لاش سڑک کنارے پھینک دی گئی ،لیکن ایک ہفتہ سے زائد وقت گزرنے کے باوجود پولیس تھانہ کہوٹہ اس اندھے قتل کا سراغ لگانے میں کامیا ب نہ ہوسکی ہے،تھانہ کہوٹہ کی دور افتادہ یونین کونسل نڑھ میں شیخوپورہ کے رہائشی جاوید اختر عرف جھولے لعل کو رات کی تاریخی میں گولی مار کر قتل کردیا گیا لیکن پولیس تھانہ کہوٹہ اس اندھے قتل کا سراغ لگانے میں بھی مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔نصف درجن کے قریب قتل کی ان وارداتوں میں قتل ہونے والوں کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کے قتل کی وجہ جاننے کیلئے بے تاب ہیں،بابر شہزاد کی بوڑھی ماں کی چندھیاتی آنکھیں تعزیت کیلئے ہر آنے جانے والے سے ایک ہی سوال کرتی ہیں کہ میرے بیٹے کا قصور کیا تھا۔۔ ؟ لیکن اس بوڑھی ماں کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے،عمرحیات کے لواحقین نے بھی جوان بیٹے بھائی کا غم سینے میں دفن کرکے چپ سادھ لی ہے،گزشتہ سال قتل منیند کے علاقہ میں ساتھی سمیت قتل ہونے والے ساتھی محمد عربی کے قاتلوں کا تاحال سراغ نہ لگایا جا سکا جبکہ ان کے پاس ہر طرح کے وسائل موجود ہیں لیکن اس کے باوجود قاتلوں تک نہ پہنچنا سوالیہ نشان ہے،چند دن قبل یونین کونسل دوبیرن خورد کے علاقہ ہنیسر کی ڈھوک کالا سند میں 60سالہ محمد یوسف کی موت بھی سوالیہ نشان ہے جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ محمد یوسف نے خود کشی کی ہے لیکن سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصویر بہت سے شکوک و شہبات کو جنم دے رہی ہے،ان تمام واقعات سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ پولیس تھانہ کہوٹہ ان قاتلوں کے آگے بے بس اور لاچار ہے جو اپنی مرضی کی کاروائی ڈال کر فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ،پولیس تھانہ کہوٹہ میں تعینات ایچ آئی یوکے تفتیشی افسران کی کارکردگی صفر ہے اور ان کی کارکردگی اعلیٰ حکام کیلئے ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب کسی اعلی پولیس آفیسر کے پاس بھی نہیں ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس تھانہ کہوٹہ کے ایچ آئی یو کے تمام تفتیشی افسران کو بلا وقت ضائع کئے معطل کرکے قابل اعتماد افسران کو تعینات کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں