کہوٹہ،کلرسیداں کی نئی حلقہ بندیوں سے سیاسی صورتحال تبدیل

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 اور اس کی متعلقہ ترامیم کے تحت صوبے بھر میں یونین کونسلوں کی نئی حلقہ بندیوں پر کام جاری ہے، جس میں آبادی کے تناسب تقریباً 22,000 سے 27,000 افراد فی یونین کونسل اور مردم شماری بلاکس کو بنیاد بنایا جا رہا ہے گزشتہ منگل کے دن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 2026 کے تناظر میں نئی حلقہ بندیوں کا ایک قدرے مختصر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھانئی تقسیم کے تحت صوبے کے تمام اضلاع کو یونین کونسلز، تحصیل کونسلز، میونسپل کمیٹیوں اور ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

تاکہ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکےجاری کردہ دستاویزات کے مطابق راولپنڈی میں کل 220 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں جن میں راول ٹاؤن اور پوٹھوہار ٹاؤن کارپوریشنز شامل ہیں محکمہ بلدیات کے مطابق ان حلقہ بندیوں کا مقصد آبادی کے تناسب سے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کا ان کی دہلیز پر حل نکالنا ہے۔ یہ فہرستیں اب متعلقہ اضلاع کے دفاتر میں آویزاں کر دی گئی ہیں۔ بلدیاتی نظام میں ترمیم کے بعد ممکنہ طور پہ کہوٹہ میں 16 اور کلرسیداں میں 17 یونین کونسل ہونگی ۔

یاد رہے تحصیل کلرسیداں تحصیل کہوٹہ کو تقسیم کرکے بنائی گئی ہے جبکہ موجودہ صورتحال کے مطابق کلرسیداں میں یونین کونسلوں کی تعداد کہوٹہ سے بڑھ رہی ہے ، یونین کونسل گف ،بشندوٹ اور غزن اباد سے مزید 2 یونین کونسل جبکہ اسی طرح دکھالی ، مواڑہ اور مٹور سے بھی 2 نئی یوسیز کی تشکیل ممکن ہے،جبکہ یونین کونسل کی نئی حلقہ بندی سےضلع راولپنڈی میں کل یونین کونسل کی تعداد 220 ہوجائے گی یاد رہے اس سے قبل آخری بار یونین کونسل کی تشکیل سال 2008 میں ہوئی تھی اس نئی متوقع ترمیم کے نتیجے میں تحصیل کہوٹہ اور کلرسیداں میں نئی یونین کونسلوں کی تشکیل کے حوالے سے ممکنہ تبدیلیاں متوقع ہیں تحصیل کلرسیداں جو پہلے تحصیل کہوٹہ سے الگ کی گئی تھی میں یونین کونسلوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے موجودہ کلرسیداں شہر کی یونین کونسل پہلے 2 تھیں اب 4 ہو جائیں گی۔

جبکہ دیہی یونین کونسلیں پہلے 10 تھیں اب 13 ہو جائیں گی تاہم پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق گف، بشندوٹ اور غزن آباد سے بھی مزید 2 نئی یونین کونسلیں بنانے کا امکان موجود ہے کیونکہ ان علاقوں کی ابادی یونین کونسل کی ممکنہ آبادی سے زیادہ ہے مثلاً گف کی آبادی تقریباً 28,000 اور بشندوٹ کی 22811 سے تجاوز یا تقریباً 23,000 ہزار بتائی جاتی ہے یونین کونسل بشندوٹ میں شامل انتخابی وارڈ کی ابادی کی صورتحال کچھ یوں ہے اسی طرح دکھالی مواڑہ اور مٹور سے بھی 2 نئی یوسیز کی تشکیل ممکن ہے۔

چوآ خالصہ قانون گو مرکز میں نئی یوسی بننے کے بھی امکانات موجود ہیں کیونکہ یہاں آبادی مقررہ حد سے زیادہ ہے اسی طرح منیاندہ، کنوہا، بناہل یا ٹکال وغیرہ میں بھی نئی یوسیز کی تشکیل کا تزکرہ ہو رہا ہے تاہم ترمیم کے زریعے نئی تبدیلیوں کے حوالے سے حتمی نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن آف پاکستان جاری کرے گا یاد رہے آخری بار یونین کونسلوں کی بڑی تشکیل و حلقہ بندی 2008 جنرل مشرف کے دور میں ہوئی تھی تاہم جنرل مشرف دور کے بعد کئی بار نظام تبدیل ہوا تاہم بلدیاتی ایکٹ 2025 بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے نیا قانون لاگو ہوگا نئے نظام میں وارڈ سسٹم ختم ہو گیا ہے۔

اب ہر یونین کونسل میں 9 جنرل کونسلرز براہ راست منتخب ہوں گے کل 13 ارکان کا ہاؤس ہو گا 4 مخصوص نشستیں: خواتین، نوجوان، مزدور/کسان، اقلیتوں کے لیےچیئرمین اور وائس چیئرمین انڈائریکٹ طور پر منتخب کونسلرز کریں گے اب چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب پہلے کی طرح براہ راست عوامی ووٹ سے نہیں ہو گا ،یونین کونسل ایک یا زیادہ مردم شماری بلاکس پر مشتمل ہو گی یہ ترامیم آبادی میں اضافے شہری پھیلاؤ اور مؤثر مقامی حکومت کے لیے کی گئی ہیں۔ تاہم کچھ حلقے اسے تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ انکا خیال ہے کہ اس سے صوبائی حکومت کا کنٹرول مزید زیادہ ہو جائے گا نئی حلقہ بندی کا عمل فروری 2026 سے شروع ہوا تھا اور اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے بلدیاتی انتخابات 2026 میں متوقع ہیں،