ترقی کے نام پر اگر فطرت کو قربان کر دیا جائے تو ایسی ترقی درحقیقت تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ آج روات گوجرخان اور اس کے گرد و نواح میں تیزی سے قائم کی جانے والی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اسی المیے کی واضح مثال بن چکی ہیں۔ چند سال پہلے تک یہ علاقے قدرتی جنگلات، سرسبز ٹیلوں اور درختوں سے ڈھکے ہوئے تھے، جہاں نہ صرف درجہ حرارت معتدل رہتا تھا بلکہ بارشوں، ہواؤں اور موسموں میں بھی ایک قدرتی توازن موجود تھا۔

مگر اب یہ سب ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے۔ گوجرخان مندرہ‘روات‘ کورال‘ سہالہ اور ملحقہ علاقوں میں درجنوں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بغیر کسی واضح ماحولیاتی منصوبہ بندی کے قائم کی جا رہی ہیں۔ ان سوسائٹیوں کے لیے سب سے پہلے جو چیز قربان کی جاتی ہے وہ قدرتی جنگلات اور پرانے درخت ہیں۔ ہزاروں ایکڑ پر پھیلے قدرتی درخت چند مہینوں میں مٹی کے ڈھیر میں بدل دیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے موسمی اثرات غیر معمولی حد تک شدید ہو گئے ہیں۔آج انہی علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں، گرد آلود ہوائیں، بارشوں کی کمی اور اچانک موسمی شدت معمول بنتی جا رہی ہے۔ جو درخت کبھی قدرتی ایئر کنڈیشنر کا کردار ادا کرتے تھے، وہ اب کنکریٹ کے جنگل میں دفن ہو چکے ہیں۔ درخت نہ ہوں تو زمین براہ راست سورج کی تپش جذب کرتی ہے، درجہ حرارت بڑھتا ہے اور انسان سانس لینے کے لیے ترس جاتا ہے یہی صورتحال اسلام آباد میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
دارالحکومت، جسے کبھی گرین سٹی کہا جاتا تھا، آج بے دریغ درختوں کی کٹائی کی زد میں ہے۔ سڑکوں کی توسیع، کمرشل منصوبے، انڈرپاسز اور ترقیاتی اسکیموں کے نام پر ہزاروں درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آئے روز ویڈیوز اور تصاویر گردش کرتی ہیں جن میں صحت مند، دہائیوں پرانے درخت زمین بوس کیے جا رہے ہوتے ہیں، مگر انتظامیہ کی جانب سے موثر کارروائی کے بجائے محض وضاحتیں اور وقتی بیانات سامنے آتے ہیں۔ یہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ کھلا ظلم بھی۔
درخت محض لکڑی کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ زندگی کی ضمانت ہیں۔ ایک بالغ درخت سالانہ اوسطاً کئی انسانوں کے لیے آکسیجن فراہم کرتا ہے، فضا سے زہریلی گیسیں جذب کرتا ہے، درجہ حرارت کم رکھتا ہے اور بارش کے نظام کو متوازن بناتا ہے۔ درخت مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں، زیر زمین پانی کو محفوظ رکھتے ہیں اور پرندوں و جانوروں کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرتے ہیں۔ جب یہ درخت کاٹے جاتے ہیں تو صرف سایہ نہیں جاتا، بلکہ قدرتی توازن ٹوٹ جاتا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسی آج جس دم گھٹنے، شدید گرمی اور غیر متوقع موسمی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہی درختوں کی بے رحمانہ کٹائی ہے۔
گرمیوں کا دورانیہ طویل ہو چکا ہے، بارشیں یا تو کم ہو رہی ہیں یا شدید طوفانی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور ہوا میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ سب وہ قیمت ہے جو ہم وقتی ترقی کے بدلے ادا کر رہے ہیں۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں درخت کاٹنے کے بعد چند پودے لگا کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتی ہیں، حالانکہ ایک صدی پرانے درخت کا نعم البدل کوئی پودا نہیں ہو سکتا۔ شجرکاری کا مطلب صرف تصویری مہم نہیں بلکہ درختوں کا تحفظ ہے۔ پہلے سے موجود جنگلات کو بچانا، نئے درخت لگانے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاستی ادارے، انتظامیہ اور عوام سب مل کر اس ماحولیاتی بحران کو سنجیدگی سے لیں۔ اسلام آباد کے گرد و نواح میں بغیر ماحولیاتی اجازت نامے کے ہاؤسنگ منصوبوں پر فوری پابندی، درختوں کی کٹائی پر سخت سزائیں، اور حقیقی شجرکاری پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر ہم نے آج درختوں کو نہ بچایا تو کل یہ درخت نہیں بلکہ ہم خود بچنے کے قابل نہیں رہیں گے۔درخت صرف زمین کی زینت نہیں، بلکہ انسان کی بقا کا ضامن ہیں اس لیے ان کے تحفظ کیلئے بطور صارف ہر ایک کو اپنی آواز بلند کرنی چاہئے۔
راجہ طاہر
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.