حق خودارادیت انسان کو قدرتی طور پر حاصل وہ بنیادی حق ہے جس کے ذریعے وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر بغیر کسی دباؤ یا مداخلت کے مکمل آزادی کے ساتھ اپنی سیاسی حیثیت کا تعین کر سکتا ہے۔ دنیا میں شروع سے ہی سامراجی طاقتیں کمزور اقوام کو مطیع بنا کر ان پر اپنا تسلط قائم کرتی رہی ہیں اور انہی جارح قوتوں کے خلاف مطیع اقوام نے پیہم جدوجہد کر کے ان کا نام و نشان بھی مٹا ڈالا۔ ان مظلوم اقوام نے ہرقسم کے حالات کا مقابلہ کیا لیکن اپنے سیاسی مستقبل کے اختیاری حق پر کسی طور پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ نوآبادیاتی سامراج نے اپنی وسعت پذیری کی مذموم خواہش کو پوراکرنے کے لیے کروڑوں انسانوں کی اس کی بھینٹ چڑھایا۔

انسانیت کو تباہ کاریوں سے بچانے کی غرض سے پہلے 1920ء میں مجلس اقوام (League of Nations) اور پھر 1945ء میں موجودہ اقوام متحدہ (United Nations) کا ڈھانچہ اس عزم کے ساتھ کھڑا کیا گیا کہ دنیا نے تباہ کاریاں تو بہت دیکھ لی ہیں اب اسے امن کا گہوارہ بنایا جائے گا اور اسی مقصد کے لیے ایک عالمی منشور بھی مرتب کیا گیا جس میں تمام اقوام کے لیے برابری کی بنیاد پہ حق خودارادیت کو ان کے بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا جس میں انہیں بلا روک ٹوک آزادانہ اظہاررائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا۔ ادھر براعظم ایشیاء میں کوہ ہمالیہ سے لے کر بحرہند کے درمیانی سرسبز و شاداب اور زرخیز علاقے کو جغرافیائی طور پر برصغیر کہا جاتا ہے اور جسے سونے کی چڑیا سمجھ کر بیرونی حملہ آوروں نے ہمیشہ اپنی آماجگاہ بنائے رکھا اور یہاں پر جیسے ہی مغلیہ سلطنت کمزور ہوئی برطانوی سامراج نے مسابقت اور اپنی وسعت پذیری کی خواہش کے طور پر ہزاروں میل کا سفر کر کے بزور طاقت اس پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔
ان کے ایک سو سالہ سامراجی دور میں یہاں کی ہندو اکثریت پر ان کی بے پناہ نوازشات رہیں اور جو ان کی رخصتی کے بعد صرف اور صرف اپنے آپ کو ہی پورے ہندوستان کا بلاشرکت غیرے مالک و مختار بھی سمجھ رہی تھی جس کی وجہ سے یہاں کی اقلیتیں اپنے مستقبل کے بارے میں بییقینی کا شکار تھیں۔ یہاں کی سب سے بڑی مسلم اقلیت اپنے سیاسی وجود کو منوانے کی جدوجہد میں اپنے عظیم راہنماء قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں سرخرو ہوئی اور برطانوی سامراج کی رخصتی کے بعد ہندوستان کو دو آزاد و خودمختار مملکتوں میں تقسیم کرنے کا طریقہ وضع کیا گیا اور ہندوستان کی 565 شاہی ریاستوں کو ان دو میں سے کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے کا اختیار بھی دیا گیا لیکن اسی ہندو اکثریت نے اپنی طاقت کے زعم میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو پہلے تو بھارت کے ساتھ الحاق کی ترغیب دی جنہوں نے اس سے انکار کیا ان پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا۔ ان ریاستوں میں بھارت کے شمال مغرب میں واقع ایک مسلم ریاست جموں و کشمیر کے عوام نے بھی اپنے سیاسی مستقبل کا تعین خود کرنے کا قدرتی حق استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا لیکن بھارت نے اپنی ہوس گیری کے تحت سامراجی اور نوآبادیاتی طرزعمل اختیار کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی آرزوؤں کا خون کرتے ہوئے اس پر جبراً قبضہ کر کے اقوام متحدہ کے منشور، جسے 24 اکتوبر 1945ء کو نافذ کیا گیا اور جس کی ابھی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی، کی مٹی پلید کر کے رکھ دی۔
اس عالمی منشور کو انتہائی عرق ریزی اور بڑی امیدوں کے ساتھ تیار کیا گیا کہ اب دنیا امن و امان کا گہوارہ بن جائے گی اور انسانیت کو بھی سکون و اطمینان کے ساتھ پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا لیکن وہ امیدیں بڑی طاقتوں کی بیاعتناعی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پوری نہ ہو سکیں۔ اسی اقوام متحدہ کے قیام کے بعد فلسطین اور ریاست جموں و کشمیر کی صورت میں دو سب سے بڑے انسانی المیے اس کے سامنے پیش ہوئے لیکن ابھی تک ان کے مداوے کی کوئی عملی صورت سامنے نہیں آئی۔ 3جون1947ء کے تقسیم ہند کے منصوبے کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو بھی دیے گئے حق خودارادیت کو بھارتی سامراج نے بزور طاقت غصب کر لیا
اور اس میں اسے اصول اور جمہوریت پسندی میں مسلمہ سمجھی جانے والی قوم کی مکمل راہنمائی اور مدد و حمایت حاصل تھی اور اسی کے مقررکردہ وائسرائے اورحدبندی کمشن کے سربراہ نے بددیانتی اور خیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مسلم اکثریت کا ضلع گورداسپور جو تقسیم ہند کے اصول کے تحت پاکستان کو ملنا چاہیے تھا، بھارت کو دے کر اسے ریاست میں داخلے کا زمینی راستہ مہیا کر کے بھارت کے نیتاؤں کی ریاست پر قبضے کی دیرینہ خواہشوں و آرزوؤں کی تکمیل کر دی۔
بھارت کی افواج نے مقامی ڈوگرہ سپاہیوں اور ہندو متشدد تنظیموں کے ساتھ مل کر پوری ریاست میں خوف و ہراس پھیلا کر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں مقامی اور قبائلی مجاہدین کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے ہر محاذ سے پسپا ہونا پڑا جب انہیں ریاست پر قبضے کا خواب چکنا چور ہوتا دکھائی دیا تو انہوں نے اقوام متحدہ کا دروازہ جا کھٹکھٹایا جس نے فوری طورپر جنگ بندی کروا کر انہیں مزید ذلت و رسوائی سے بچا لیا اور ریاست کے عوام کی مرضی کا تعین کرنے کے لیے 5 جنوری 1947ء کو ایک قرارداد منظور کی جس میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا وعدہ کیا گیا اور یہی وہ قرارداد ہے جو کشمیری عوام کے بنیادی پیدائشی حق کو تسلیم کرتی ہے
اور اس پر مہر تصدیق بھی ثبت کرتی ہے۔ اس قرارداد پر پاکستان نے عملدرآمدکی مکمل یقین دہانی کروائی لیکن بھارت نے اس میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کر کے سیدھا سادا معاملہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا دیا اور تاحال اس پر عملدرآمد کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے معاملے میں اقوام متحدہ نے سوائے قراردادوں کے ابھی تک کوئی سرگرمی نہیں دکھائی جبکہ اس تمام عرصے اسی کی آشیرباد سے 2002ء میں انڈونیشیا میں مشرقی تیمور اور 2011ء میں سوڈان میں جنوبی سوڈان کے نام سے عیسائی ریاستیں اسی حق خودارادیت کے تحت قائم کی گئیں۔ اسی اقوام متحدہ نے ایک بڑی طاقت کو دو اسلامی ملکوں عراق اور افغانستان کو تباہ و برباد کرنے کی سند انتہائی عجلت میں فراہم کی اور اسی اقوام متحدہ کی نظروں کے سامنے لیبیا، شام، لبنان اور ایران کو بھی تاراج کر دیا گیا
لیکن اس کے کانوں پر کوئی جوں تک نہ رینگی اور حال ہی میں اسرائیل، جوکہ خود ایک ناجائز ریاست ہے، نے صومالیہ کی حدود میں صومالی لینڈکے نام سے قائم ہونے والی ریاست کو تسلیم کرکے پوری دنیا میں کھلبلی مچادی لیکن اس نے اس پر بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ کشمیری عوام بھی اپنے پیدائشی، جائز اور تسلیم شدہ حق کے حصول کے لیے گذشتہ 78 سالوں سے ا پنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں اور ہر سال 5 جنوری کے دن اقوام متحدہ اور دنیا کی جمہوریت پسند قوموں کو ان کے وعدوں کی یاددہانی اس امید کے ساتھ کرواتے ہیں کہ شاید وہ کشمیر کی اس جلتی وادی میں بھی بہتے ہوئے خون کا شور سن لیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے حقیقی طور پر کمزور اور مجبور اقوام کے محافظ و نگہبان ہونے کا حق ادا کریں۔
ساجد قریشی