اسلام آباد(پنڈی پوسٹ نیوز)وفاقی حکومت نے کال سینٹرز کو توانائی بحران کے دوران اوقاتِ کار کی پابندی سے مکمل استثنیٰ دے دیا۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شیزہ خواجہ نے ملک بھر کے کال سینٹرز اور بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔
ملک میں جاری توانائی کے بحران کے پیشِ نظر جہاں تجارتی مراکز اور مارکیٹوں پر جلد بندش کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، وہیں کال سینٹرز کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ کال سینٹرز کو توانائی بچت مہم کے تحت مقررہ وقت پر بند ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنی آپریشنز چوبیس گھنٹے جاری رکھ سکتے ہیں۔شیزہ خواجہ نے اعتراف کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے استثنیٰ کی معلومات تمام اسٹیک ہولڈرز تک پہنچنے میں تاخیر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے عملدرآمد میں کچھ چیلنجز درپیش ہیں۔ تاہم، حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ کال سینٹرز کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کال سینٹرز کو درپیش کسی بھی مسئلے، خصوصاً سیکیورٹی یا اوقاتِ کار سے متعلق شکایات کے حل کے لیے وزیر آئی ٹی نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کال سینٹرز درج ذیل ذرائع سے مدد حاصل کر سکتے ہیں:
پی ایس ای بی پورٹل کے ذریعے 24 گھنٹے میں شکایات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔حکومت کا کہنا ہے کہ بی پی او انڈسٹری پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا اہم ستون ہے، اس لیے اسے ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ترجیح ہے، پی ایس ای بی کے ممبرز اور غیر ممبرز دونوں اس سپورٹ ڈیسک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔