ڈڈیال ( نمائندہ پنڈی پوسٹ)راولپنڈی روڈ پر قائم پولیس چیک پوسٹیں عوام کے لیے وبال جان بن گئیں۔آنے جانے والے مسافروں کو چیکنک کے بہانے گاڑیوں سے اتار کر رشوت کے بہانے تنگ کیا جانے لگا۔ جبکہ پولیس کا ایک آدمی سامان کھول کر چیک کرتا ہے۔ اور دوسرا مسافروں کے ساتھ مک مکا کرتا ہے۔ مناسب ڈیل ہونے کے بعد مسافروں کو چلتا کر لیا جاتا ہے۔ چیکنگ کے بہانے رشوت خوری کا بازار سر گرم کر رکھا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ کام تھانہ کلر سیداں اور ڈڈیال تھانہ کی پشت پنائی سے کیا جا رہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ڈڈیال کے دوکانداروں کا کہنا ہے کہ ہم راولپنڈی سے مال لاتے ہیں یہ پولیس والے ہمیں ایسے چیک کر رہے ہوتے ہیں جیسے ہم لوگ دوسرے ملک سے مال لا رہے ہیں۔ منشیات فروش اسی راستے سے سمگلنگ کر رہے ہیں۔پہلی تو بات ہیں پولیس چوکی کے آفیسران ان کو ہاتھ ہی نہیں رکھتے۔سلوٹ مار کر بھیج دیتے ہیں۔اگر غلطی سے ہاتھ رکھ بھی لیں تو مک مکا کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سے ہمارا یہ سوال ہے کہ پولیس چوکیاں جرائم کو کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں یا عام لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے ؟ عوام علاقہ کا مطالبہ ہے کہ اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وہاں موجود اہلکاروں سے باز پْرس کیجائے۔ اعلیٰ حکام سختی سے نوٹس لیں تاکہ راولپنڈی آنے جانے والے لوگوں کو تحفظ مل سکے۔{jcomments on}