چہلم امام حسینؑ کے سلسلے میں پہلا جلوس مرکزی امام بارگاہ سے برامد ہونے کے بعد اختتام پذیر اور دوسرا جلوس آج برامد ہوگا۔

مری(اویس الحق سے)نواسہ رسولؐ،جگر گوشہ بتولؑ سیدنا امام حسینؑ اور ان کے عظیم ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ضلع مری سے پہلا چہلم کا جلوس مرکزی امام بارگاہ ڈاکٹر منظور حسین مرزا تحصیل روڈ مری سے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ برامد ہوا جس میں حضرت سیدنا امام حسین علیہ اسلام اور شہداء کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔جلوس میں مری سمیت پنجاب کے دورد دراز سے آنے والے لاتعداد اعزاداروں اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ جلوس کی قیادت،ڈاکٹر حیدر مرزا،میجر(ر) صالح حسن،ڈاکٹر خاور حسین نے کی۔

چہلم شہداء کربلا کے سلسلے میں نکالے جانے والا یہ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا تحصیل روڈ سبری منڈی،صدیق چوک،لوئر بازار اور اپربازار سے ہوتا ہوا ڈاکخانہ چوک مال روڈ مری پہنچا جہاں پہلے سے ضلع بھر سے آئے ہوئے اعزاداران امام حسینؑ موجود تھے وہ مرکزی جلوس میں شامل ہوگئے۔
ڈاکخانہ چوک میں علمائے کرام و ذاکرین نے واقعہ کربلا کی اہمیت نواسہ رسولؐ،جگر گوشہ بتولؑ سیدنا امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی،اعزادار اس موقع پر حضرت امام حسین علیہ اسلام اور انکے جانثار ساتھیوں کی عظیم شہادت پر نوحہ کنہ،زنجیرزنی اور سینہ کوبی کرتے رہے۔

چہلم شہداء کربلا کا برامد ہونے والا پہلا روز کا مرکزی جلوس جی پی او چوک ،مال روڈ کے مشہور مرحباء چوک سے ہوتا ہوا پرامن طریقے کے ساتھ دوبارہ سے مرکزی امام بارگاہ منظور حسین مرزا پر پینچ کر اختتام پذیر ہو گیا۔جلوس کے اختتام پر شرکاء کےلئے مجلس چہلم کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں شرکاء شریک ہوئے۔چہلم ہی کے سلسلے میں ضلع مری میں دوسرا جلوس مری کی دوسری بڑی امام بارگاہ قدیمی بلتستانی امتیاز شہید روڈ سے آج دن 2 بجے سخت ترین سیکورٹی انتظامات میں برامد ہو گا۔

یہاں اگر سیکورٹی کی بات کی جائے تو دو روزہ چہلم کے جلوسوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مری میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کےلئے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات دیکھے جا رہے ہیں۔چہلم کے پہلے روز برامد ہونے والے مرکزی جلوس کے موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری کی طرف سے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئےتھے۔پولیس کی بھاری نفری جلوس کیساتھ تعینات تھی جبکہ جلوس کے دوران تمام راستوں کو مکمل سیل کر دیا گیا تھا۔