پیٹرول اور ڈیزل مہنگا،قربانی کا بکراغریب ہی کیوں؟

مشہور ضرب المثل ہے کہ “ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور” وطنِ عزیز میں آج یہی صورتحال درپیش ہے کیونکہ یہاں “جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” والا قانون رائج ہے یعنی طاقتور کے لیے سات خون معاف اور غریب کے لیے تو اب زندہ رہنا بھی ریاست پر ایسا بوجھ بن چکا ہے کہ اس کی ہڈیوں کا گودا نچوڑ کر ٹیکس کے نام پر قومی معیشت کے پیوند لگائے جا رہے ہیں جبکہ موجودہ حکومت کے اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی پالیسیاں عوامی ریلیف کے بجائے عوام کشی پر مبنی ہیں اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ ہوش ربا اضافے نے پاکستان کو پورے خطے میں مہنگا ترین ملک بنا دیا ہے جہاں غریب کے لیے بائیک چلانا اب اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ “آسمان سے تارے توڑنا” بلکہ اب تو پیٹرول پمپ پر جانا کسی ہسپتال کے آئی سی یو (ICU) میں جانے کے مترادف ہے جہاں میٹر کی تیز رفتار دیکھ کر آدھا بندہ ویسے ہی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو جاتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے حکمرانوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک غریب کی نبض چل رہی ہے، تب تک ٹیکس کا میٹر نہیں رکے گا یہی وجہ ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ ایٹم بم گرنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ طنزیہ جملہ گردش کر رہا ہے کہ “پیٹرول کی قیمت دیکھ کر اب سمجھ آئی کہ دجال گدھے پر کیوں آئے گا” کیونکہ اسے پتا ہے کہ اس دور میں پیٹرول ڈلوانا اس کے بس کی بات ہی نہیں ہو گی اور یہ محض ایک لطیفہ نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کا اظہار ہے کہ پیٹرول اب عام آدمی کے لیے وہ آبِ حیات بن چکا ہے جسے صرف دور سے دیکھ کر ہی ایمان تازہ کرنا پڑتا ہے حتیٰ کہ وہ پرانا گانا “آجا توں بہہ جا سائیکل تے” بھی اب ایک بھیانک سی حقیقت لگنے لگا ہے کیونکہ جس رفتار سے پیٹرول مہنگا ہو رہا ہے عنقریب ہم سب کو سائیکلوں کے گیئر بدلنے پڑیں گے اور وہ دن دور نہیں جب اشرافیہ کی قیمتی لینڈ کروزریں سڑکوں پر کسی شاہی سواری کی طرح دوڑیں گی اور غریب ان کے پیچھے اپنی پرانی سائیکلوں پر دھکے کھاتا اور ان کا شاہی دھواں پھانکتا نظر آئے گا یہاں یہ سوال بڑی شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر ہر بار غریب ہی قربانی کا بکرا کیوں بنتا ہے؟ کیا ریاست کی ساری وفاداریوں اور حب الوطنی کا ٹھیکہ صرف غریب نے ہی لے رکھا ہے جو پہلے ہی مشہور ضرب المثل “گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا” کی عملی تصویر بنا ہوا ہے؟ کیا یہ سادگی کا وعظ صرف ان کے لیے ہے جن کے پاؤں میں جوتا تک نہیں اور انہیں کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں جبکہ پالیسی سازوں کے اپنے پروٹوکول کا پٹرول عوام کے خون پسینے کی کمائی سے پورا ہوتا ہے؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ جب معیشت کو سہارے کی ضرورت ہو تو قربانی کا پہلا مطالبہ اس سے کیا جاتا ہے جس کے پاس قربان کرنے کو اپنی غربت کے سوا کچھ نہیں بچا جبکہ مراعات یافتہ طبقہ اپنی شاہی عیاشیوں میں ایک روپے کی کٹوتی کرنے کو بھی اپنی توہین اور قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتا ہے؟ دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے ہی ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 300 سے 600 روپے تک کا ظالمانہ اضافہ کر دیا ہے جس سے لاہور سے کراچی کا سفر اب کسی بین الاقوامی فلائٹ جتنا مہنگا محسوس ہوتا ہے گویا اب ایک شہر سے دوسرے شہر جانا “حجِ اکبر” کے مترادف ہو گیا ہے اور یہ اضافہ صرف سفر تک محدود نہیں بلکہ اشیائے ضرورت کو منڈیوں سے شہروں تک لانے والے ٹرکوں اور گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے سے آٹا، دال، پھل اور سبزیاں بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں کہ اب غریب کے دسترخوان پر گوشت تو دور کی بات، دال بھی “یار کی جدائی” کی طرح نایاب ہو چکی ہے مگر حیرت ہے کہ “مالِ مفت، دلِ بے رحم” کا اصل نظارہ وہاں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں ایک مخصوص طبقہ ایسا بھی ہے جس کے لیے پیٹرول کی قیمت مریخ پر ہی کیوں نہ چلی جائے ان کی گاڑیوں کے پہیے “سرکاری نمبر پلیٹ” کے صدقے مفت ایندھن پر ہی چلتے ہیں اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جج صاحبان، بیوروکریٹس اور سیاسی مہروں کا ماہانہ کوٹہ سینکڑوں لیٹر پر محیط ہے یعنی ایک طرف ملک کا خزانہ وینٹی لیٹر پر ہے اور معیشت آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور دوسری طرف یہ شاہانہ بندر بانٹ اس غریب کے ٹیکس سے پوری ہو رہی ہے جس کی اپنی حالت “آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا” جیسی ہو چکی ہے کہ ایک مصیبت سے نکلتا ہے تو دوسری مہنگائی اسے جکڑ لیتی ہے لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ اصلاحات کی چھری نیچے کی بجائے اوپر ان موٹی گردنوں پر چلائی جائے اور مراعات یافتہ طبقے کی مفت سہولیات کا لنگر فی الفور بند ہونا چاہیے، آخر میں دعا ہے کہ باری تعالی ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کو ہدایت نصیب فرمائے کہ وہ اپنی عیاشیاں چھوڑ کر مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کا درد سمجھ سکیں۔ اے پروردگار اس پاک سر زمین کو معاشی بحرانوں سے نجات عطا فرما اور غریب کے چولہے کو ٹھنڈا ہونے سے بچا کر ہم سب کو عزت کی روزی اور سکون کی زندگی نصیب فرما۔ آمین