کلرسیداں(نمائندہ پنڈی پوسٹ)حکومتِ پنجاب نے صوبے میں گندم کی اوسط پیداوار بڑھانے اور کسانوں کو جدید زرعی تکنیکوں کے استعمال کی جانب راغب کرنے کے لیے کسان خوشحال پاکستان خوشحالی پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر پیداواری مقابلوں کا اعلان کیا ہے۔
اس سلسلے میں صوبہ بھر کے کاشتکاروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں، جن کے لیے کروڑوں روپے مالیت کے نقد و غیر نقد انعامات، بشمول مختلف ہارس پاور کے ٹریکٹرز، مختص کیے گئے ہیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع کلرسیداں ڈاکٹر تانیہ صفدر نے بتایا کہ مقابلوں میں شرکت کے لیے مرد و خواتین کاشتکار، مشترکہ کھاتہ جات کے مالکان، مزارعین اور ٹھیکیدار اہل ہوں گے، بشرطیکہ ان کے پاس کم از کم پانچ ایکڑ قابلِ کاشت رقبہ موجود ہو۔ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 جنوری 2025 مقرر کی گئی ہے۔
ان کے مطابق مقابلے میں شامل ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ امیدوار کم از کم پانچ ایکڑ متصل رقبے پر گندم کی کاشت کریں۔درخواست کے ساتھ شناختی کارڈ کی نقول، خسرہ و جمع بندی اور کاشتکاری کے ثبوت منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نامکمل دستاویزات فراہم کرنے کی صورت میں درخواست کو قبول نہیں کیا جائے گا۔گندم کے پیداواری مقابلے ضلع اور صوبائی دونوں سطحوں پر منعقد کیے جائیں گے۔ صوبائی سطح پر نمایاں نتائج دینے والے کاشتکاروں کے لیے بڑے انعامات رکھے گئے ہیں جن میں 85 ہارس پاور، 75 ہارس پاور اور 60 ہارس پاور کے ٹریکٹرز بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
ضلع کی سطح پر بھی مختلف اقسام کے نقد انعامات اور زرعی آلات دیے جائیں گے۔محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے کسانوں کو بہتر بیج، مناسب کھاد کے استعمال اور جدید زرعی مشینری کی طرف توجہ دلائی جائے گی، جس سے نہ صرف گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھے گی بلکہ کاشتکاروں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ پروگرام کا مجموعی ہدف صوبے میں گندم کی مجموعی پیداوار کو مستحکم اور بہتر بنانا ہے، تاکہ خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی معیشت کو بھی مضبوط کیا جا سکے۔