پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام‘غیر جمہوری

نئے بلدیاتی نظام کو عوام کو اختیار نہیں کہ وہ اپنا سربراہ خود منتخب کر سکیں
پنجاب میں نافذ کیا جانے والا نیا بلدیاتی ایکٹ اگر کسی چیز کی نمائندگی کرتا ہے تو وہ جمہوریت پر عدم اعتماد اور عوامی رائے سے خوف ہے۔ اسے جمہوری اصلاح کہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی قیدی کو زنجیر بدل کر آزادی کا سرٹیفکیٹ دے دیا جائے۔سب سے پہلے تو یہ“دانشمندانہ فیصلہ”کہ بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، مگر منتخب ہونے کے بعد ممبران کو کسی نہ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ اگر آخرکار جماعت میں جانا ہی ہے تو یہ سارا ڈراما کیوں؟یوں محسوس ہوتا ہے کہ ناک سیدھی پکڑنے کے بجائے الٹا پکڑنے کی ضد محض اس لیے ہے کہ بعد میں خرید و فروخت کی منڈیاں سجائی جا سکیں، جہاں منتخب نمائندوں کی قیمت لگے اور ضمیر نیلام ہوں۔ یہ شق ن لیگ کی بدنیتی کو اس طرح بے نقاب کرتی ہے جیسے دن کی روشنی میں آئینہ۔دوسری طرف، یونین کونسل کے منتخب ممبران خود ہی چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب کریں گے۔ یعنی عوام کو یہ اختیار بھی نہیں کہ وہ اپنے گاؤں، محلے یا شہر کا سربراہ خود چن سکیں۔عوام پہلے ہی صدر اور وزیرِاعظم کے انتخاب میں براہِ راست شریک نہیں، اب بلدیاتی سطح پر بھی ان سے حقِ انتخاب چھین لیا گیا۔

جمہوریت اب ووٹ سے نہیں بلکہ فارمولوں اور فائلوں سے چلے گی۔اس ایکٹ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے سول بیوروکریسی کے کنٹرول میں ہوں گے۔ یعنی وہ ادارے جو عوام کے مسائل کے حل کے لیے بنائے جاتے ہیں، ان کی باگ ڈور ایسے غیر منتخب افسران کے ہاتھ میں ہوگی جن کا عوام سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔یہ وہی پرانا نوآبادیاتی نظام ہے جس میں عوام صرف رعایا ہوتے ہیں اور فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔یہ سب کچھ دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آمر ضیائالحق کی گود میں پروان چڑھنے والی سیاسی قیادت اور اسی روایت کی وارث موجودہ قیادت کی سوچ جمہوری کیسے ہو سکتی ہے؟نام بدل گئے، چہرے نئے ہیں، مگر سوچ آج بھی وہی ہے عوام کو بااختیار بنانے سے خوف اور اقتدار کو چند ہاتھوں میں رکھنے کی خواہش۔یہ بلدیاتی ایکٹ دراصل مقامی حکومت نہیں بلکہ مقامی غلامی کا نظام ہے۔ اس کی ہر وہ شق جو عوامی حقِ رائے دہی، شفافیت اور اختیار کے خلاف ہے، جمہوریت کے تابوت میں ایک اور کیل ہے۔

اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر آمریت اور جمہوریت میں فرق صرف اصطلاحات کا رہ گیا ہے۔پنجاب کے اس کالے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف اگر کوئی آواز بلند ہو رہی ہے تو وہ صرف جماعتِ اسلامی کی ہے۔ حیران کن اور افسوسناک امر یہ ہے کہ باقی تمام نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتیں جو دن رات جمہوریت، ووٹ کی حرمت اور عوامی اختیار کے نعرے لگاتی نہیں تھکتیں اس سنگین معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے بیٹھی ہیں۔یہ خاموشی محض غفلت نہیں بلکہ رضامندی کا اعلان ہے، کیونکہ جب عوام کے بنیادی حقِ انتخاب پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہو اور اپوزیشن لب سی لے،

تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ اصول کا نہیں، مفاد کا ہے۔ آج بلدیاتی نظام کو بے اختیار بنایا جا رہا ہے، کل یہی جماعتیں اس نظام کی کمزوری کا رونا بھی روئیں گی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو قوتیں ظلم کے وقت خاموش رہیں، وہ بعد میں جمہوریت کی وارث نہیں بن سکتیں۔عوام کو سمجھنا ہوگا کہ یہ قانون ان کے مسائل حل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی آواز دبانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اور جب تک اس کالے ایکٹ کے خلاف اجتماعی شعور بیدار نہیں ہوگا، بلدیاتی ادارے عوام کے نہیں بلکہ اقتدار کے خادم ہی رہیں گے۔

تحریر: محمد نجیب جرال