
8 اکتوبر 2005 پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا دن تھا جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دن ہمالیہ کی خوبصورت وادیوں، خصوصاً بالاکوٹ، کو لرزہ دینے والے زلزلے کی یادگار کے طور پر ہمیشہ نقش ہو گیا۔ صرف ایک لمحے میں ہزاروں جانیں ختم ہو گئیں، گھر ویران ہو گئے، زندگیوں کا نظام بدل گیا اور لاکھوں افراد بے گھرو بے سہارا ہو گئے۔
یہ سانحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کے لیے انسانیت کے جذبے کی جانچ کا لمحہ بھی تھا۔ بلا تفریق رنگ و نسل، قوم و مذہب، دنیا کے ہر کونے سے امدادی کاموں میں شامل لوگ متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے پہنچے۔
کتاب ”پاکستان کا بدترین سانحہ: زلزلہ 2005” کے مصنف محمد خالد نے اس تاریخی حادثے کو محض اعداد و شمار یا خبریں بیان کرنے کے بجائے ایک انسانی اور ادبی زاویہ سے پیش کیا ہے۔ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے، جن میں زلزلے کے وقت ہونے والے حالات، انسانی کیفیات، اور قیمتی ہستیوں کا تذکرہ شامل ہے۔ باب ”نگینے جو کھو گئے” میں وہ ہستیوں کا ذکر ہے جو اس سانحے میں ہم سے جدا ہو گئیں۔
یہاں مذہبی، علمی اور سماجی شخصیات کا ذکر انتہائی حساس اور متاثر کن انداز میں کیا گیا ہے، جیسے حضرت مولانا غلام ربانی، حضرت مولانا اویس خلیل، چیئرمین فرید خان، ڈاکٹر پرویز علی شاہ، ڈاکٹر سعید احمد راہی، شاہ عالم خان اور محترمہ شہناز اختر۔
مصنف مقدمہ میں لکھتے ہیں:”یہ کتاب محض تاریخی دستاویز یا سانحہ کا بیان نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔”
یہ کلمات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کتاب صرف وقوع پذیر ہونے والے زلزلے کا ریکارڈ نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، قربانی اور متاثرین کے جذبات کا ایک مکمل آئینہ ہے۔ محمد خالد نے نہ صرف زلزلے کے بعد کی صورت حال بیان کی بلکہ متاثرین کی کہانیاں، ان کی مشکلات اور امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات بھی قاری کے سامنے بڑے خوبصورت انداز میں پیش کی ہیں۔
کتاب میں ایک اہم پہلو ”پاکستان میں اولین گوجری قاعدہ کی اشاعت” بھی شامل ہے، جس میں مولانا محمد معروف صدیقی (لیکچرار، ہزارہ یونیورسٹی، مانسہرہ) نے اس سانحے کی علمی و ثقافتی اہمیت بیان کی ہے۔ یہ حصہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ سانحات صرف انسانی المیے نہیں بلکہ تاریخی و علمی حوالوں سے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ہمدردی، قربانی اور یکجہتی کی قدر کس قدر اہم ہے۔ زلزلہ 2005 نہ صرف تباہی کا لمحہ تھا بلکہ یہ سبق بھی دیتا ہے کہ انسانی حوصلہ اور عزم کسی بھی مصیبت میں روشنی کا چراغ بن سکتا ہے۔ متاثرہ افراد کی جدوجہد، انسانی ہمدردی اور عالمی امداد کے یہ مناظر ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ مصیبت میں انسانیت کی حقیقت سامنے آتی ہے۔محمد خالد کی یہ کتاب ایک مکمل دستاویزی حوالہ ہے، جو زلزلہ 2005 کے حالات، انسانی کہانیوں اور تاریخی پہلوؤں کو یکجا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف مستقبل کی نسلوں کے لیے سبق آموز ہے بلکہ ہر قاری کے لیے ایک دردناک اور جذباتی مطالعہ بھی ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر انسانی زندگی قیمتی ہے اور انسانی ہمدردی کی طاقت ہر سانحے میں روشنی پیدا کر سکتی ہے۔