انجینئر بخت سید یوسفزئی
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
2026 کے آغاز تک عمومی تاثر یہی تھا کہ اب ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ تک یہ صورتحال شاید برداشت ہی کرنا پڑے گی۔ ایک ایسا کھلاڑی جو ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں اپنی صلاحیت، مزاج اور تسلسل سے خود کو ثابت کر چکا تھا، اسے مختصر ترین فارمیٹ کی قیادت سونپ دینا کئی حلقوں کو ایک غیر ضروری اور غلط تجربہ محسوس ہو رہا تھا۔ ٹی ٹونٹی کی تیز رفتار، فوری فیصلوں اور جارحانہ حکمتِ عملی کی کرکٹ سلمان آغا کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں، یہ سوال ہر بحث کا محور بن چکا تھا۔
یہ بھی حقیقت تھی کہ سلمان آغا نے ٹی ٹونٹی میں کبھی کبھار اچھی اننگز ضرور کھیلی تھیں، لیکن مجموعی طور پر ان کی کارکردگی وہ اعتماد پیدا نہیں کر سکی تھی جس کی ایک کپتان یا میچ ونر سے توقع کی جاتی ہے۔ اسٹرائیک ریٹ، باؤنڈریز کی تعداد اور دباؤ میں فیصلہ سازی ایسے نکات تھے جن پر ناقدین مسلسل انگلی اٹھا رہے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے باوجود اس فارمیٹ میں خود کو پوری طرح آزاد نہیں کر پا رہے۔
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ سلمان آغا کی اصل طاقت طویل فارمیٹس میں ہے، جہاں وقت، تحمل اور منصوبہ بندی کی گنجائش ہوتی ہے۔ ٹی ٹونٹی میں جہاں ہر گیند ایک امتحان بن جاتی ہے، وہاں ان کا محتاط انداز اکثر ٹیم کے لیے سست روی کا سبب بن جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ شائقین کی ایک بڑی تعداد اس فیصلے کو وقتی مجبوری یا انتظامی غلطی سمجھ رہی تھی۔
پھر حالات نے ایک ایسا موڑ لیا جس نے اس بیانیے کو ہلانا شروع کر دیا۔ سری لنکا کے خلاف سیریز کا آخری ٹی ٹونٹی میچ، جو بارش کی نذر ہو کر مختصر ہو گیا، بظاہر ایک معمولی سا مقابلہ لگ رہا تھا۔ پاکستانی باؤلرز کو سخت مار پڑی، رنز تیزی سے بنے اور میچ کا نقشہ یکطرفہ دکھائی دینے لگا۔ ایسے میں کم ہی کسی کو توقع تھی کہ یہ میچ کسی بڑے بیانیے کی بنیاد رکھے گا۔
اسی مختصر اور دباؤ بھرے مقابلے میں سلمان آغا ایک بالکل مختلف روپ میں سامنے آئے۔ ان کے بیٹ سے نکلنے والی ہٹس میں جھجک نہیں تھی، شاٹس میں طاقت کے ساتھ اعتماد بھی جھلک رہا تھا۔ اسٹرائیک ریٹ تین سو سے تجاوز کر گیا، جو ان کے کیریئر کے تناظر میں ایک حیران کن تبدیلی تھی۔ اگرچہ وہ میچ جتوا نہ سکے، لیکن انہوں نے ناظرین اور ناقدین دونوں کو چونکا ضرور دیا۔
یہاں سے ایک نیا سوال جنم لینے لگا۔ کیا یہ واقعی سلمان آغا میں آنے والی کسی بڑی تبدیلی کا آغاز تھا یا یہ بھی ان چند اکا دکا اننگز میں شامل ہو جائے گی جنہیں وقت جلد فراموش کر دیتا ہے؟ کرکٹ میں ایک اننگ اکثر کہانی نہیں بدلتی، مگر کبھی کبھی وہ سوچ کا زاویہ ضرور بدل دیتی ہے۔
اس سوال کا جزوی جواب آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹی ٹونٹی میں ملا۔ سلمان آغا نے اس میچ میں کچھ خوبصورت اور طاقتور شاٹس کھیلے، جن سے واضح ہوا کہ وہ اپنی جارحانہ اپروچ پر قائم رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اس اننگ میں ڈاٹ بالز کی تعداد خاصی زیادہ تھی، جس نے یہ احساس دلایا کہ ابھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
اس کے باوجود مجموعی طور پر یہ اننگ مایوس کن نہیں تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سلمان آغا اپنے کھیل میں شعوری تبدیلی لا رہے ہیں، چاہے اس کا نتیجہ فوری طور پر مکمل طور پر سامنے نہ آ رہا ہو۔ انہوں نے رسک لیا، اور یہی رسک ٹی ٹونٹی کرکٹ کی اصل روح ہے۔
پھر آیا سیریز کا دوسرا ٹی ٹونٹی، جہاں سلمان آغا نے اپنے بدلے ہوئے انداز کو زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا۔ اس میچ میں ان کی بیٹنگ میں تسلسل بھی تھا اور رفتار بھی۔ یہ صرف چند شاٹس کی بات نہیں تھی بلکہ پوری اننگ میں ایک واضح سوچ نظر آ رہی تھی۔
یہ ایک بڑی اننگ تھی، تیز رفتار تھی اور شاندار شاٹس سے بھرپور تھی۔ سلمان آغا نے نہ صرف باؤنڈریز لگائیں بلکہ سنگلز اور ڈبلز کے ذریعے دباؤ کو بھی برقرار رکھا۔ ان کی آنکھوں میں اعتماد جھلک رہا تھا اور جسمانی زبان بتا رہی تھی کہ وہ اب اس فارمیٹ کو قبول کر چکے ہیں۔
اس اننگ نے ایک اہم پیغام دیا کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ ذہنی آزادی کا تھا۔ جب سلمان آغا نے خود کو کھول کر کھیلنے کی اجازت دی تو ان کا کھیل ایک مختلف سطح پر نظر آیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا انتظار شاید ٹیم مینجمنٹ بھی کر رہی تھی۔
ٹی ٹونٹی کرکٹ میں کامیابی کا دارومدار صرف بڑے شاٹس پر نہیں بلکہ درست وقت پر درست فیصلہ کرنے پر ہوتا ہے۔ سلمان آغا کی اس اننگ میں یہی عنصر نمایاں تھا۔ انہوں نے غیر ضروری شاٹس سے گریز کیا اور جہاں موقع ملا وہاں بھرپور فائدہ اٹھایا۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سلمان آغا اب مکمل طور پر ایک کامیاب ٹی ٹونٹی کھلاڑی یا کپتان بن چکے ہیں۔ کرکٹ میں تسلسل ہی اصل امتحان ہوتا ہے، اور ایک یا دو اچھی اننگز کسی کیریئر کی سمت کا حتمی فیصلہ نہیں کرتیں۔ مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے درست سمت میں قدم رکھ دیا ہے۔
اب شائقین اور ناقدین کی توقعات بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ پہلے جہاں ہر ناکامی کو فیصلے کی غلطی قرار دیا جاتا تھا، اب وہاں اپروچ کو سراہا جا رہا ہے۔ اگر نیت اور سوچ درست ہو تو ناکامیاں بھی قابلِ قبول بن جاتی ہیں۔
سلمان آغا کے لیے آگے کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔ مخالف ٹیمیں اب ان کی اس نئی اپروچ کا تجزیہ کریں گی، فیلڈ سیٹنگز بدلیں گی اور باؤلرز نئی حکمت عملی کے ساتھ آئیں گے۔ اصل امتحان تب ہوگا کہ وہ اس دباؤ میں بھی اپنی سوچ پر قائم رہ پاتے ہیں یا نہیں۔
کپتانی کے بوجھ کے ساتھ بیٹنگ میں توازن برقرار رکھنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ سلمان آغا کے لیے یہ دوہرا چیلنج ہے کہ وہ ٹیم کی قیادت بھی کریں اور خود بھی میچ ونر کردار ادا کریں۔ حالیہ اننگز نے یہ امید ضرور دلائی ہے کہ وہ اس بوجھ کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے پہلے یہ اشارے ٹیم کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔ اگر سلمان آغا اسی جارحانہ مگر ذمہ دار اپروچ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو ٹیم کو ایک مستحکم لیڈر مل سکتا ہے۔ ایسا لیڈر جو خود مثال بن کر دکھائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اور شائقین دونوں صبر سے کام لیں۔ ہر میچ میں کامیابی ممکن نہیں ہوتی، خاص طور پر اس فارمیٹ میں جہاں قسمت کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سوچ اور نیت درست رہے۔
اگر سلمان آغا اسی انداز میں کھیلتے رہے تو ممکن ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ بحث ہی ختم ہو جائے کہ انہیں ٹی ٹونٹی کپتان بنانا درست تھا یا نہیں۔ کارکردگی خود سب سے مضبوط دلیل بن جاتی ہے، اور حالیہ اشارے اسی سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
کرکٹ امکانات کا کھیل ہے۔ آج جس کھلاڑی پر سوال اٹھتے ہیں، کل وہی امید کی علامت بن سکتا ہے۔ سلمان آغا کی حالیہ اننگز نے کم از کم یہ ثابت کر دیا ہے کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ شاید اب واقعی شروع ہو رہی ہے۔
