ٹیکنالوجی ایونٹ میں شفافیت کا امتحان

نئی دہلی میں منعقد ہونے والی ایک بڑی اور باوقار ٹیکنالوجی نمائش نے اس وقت غیر متوقع تنازعہ کو جنم دیا جب ایک نجی بھارتی یونیورسٹی کی جانب سے پیش کیا گیا روبوٹک ڈاگ سوشل میڈیا پر شدید بحث کا موضوع بن گیا۔ یہ تقریب India AI Impact Summit 2026 کے نام سے منعقد ہوئی تھی، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے ٹیکنالوجی ماہرین، پالیسی ساز، تعلیمی ادارے اور اسٹارٹ اپ کمپنیاں شریک تھیں۔ اس ایونٹ کا مقصد بھارت میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیش رفت اور مقامی اختراعات کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا تھا، اسی لیے اس پر میڈیا اور عوام کی خاص توجہ مرکوز تھی۔

نمائش کے دوران Galgotias University کے اسٹال پر ایک جدید چار ٹانگوں والا روبوٹ پیش کیا گیا جس نے حاضرین کی فوری توجہ حاصل کر لی۔ یہ روبوٹ نہ صرف چل سکتا تھا بلکہ رکاوٹوں کو عبور کرنے اور احکامات پر ردعمل دینے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا۔ اسٹال پر موجود طلبہ اور نمائندے اس کی خصوصیات بیان کر رہے تھے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ادارہ جدید روبوٹکس کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔

اس روبوٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں یونیورسٹی کی ایک نمائندہ اسے متعارف کراتے ہوئے اس کی کارکردگی پر روشنی ڈال رہی تھیں۔ گفتگو کے انداز اور الفاظ کے انتخاب سے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ روبوٹ یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس کی اپنی تخلیق ہو یا کم از کم اس کی تیاری میں ادارے کا مرکزی کردار ہو۔ یہی تاثر بعد میں تنازعے کی بنیادی وجہ بنا۔

چند گھنٹوں کے اندر ٹیکنالوجی کے ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین نے روبوٹ کی اصل شناخت کر لی۔ آن لائن تصاویر اور ویڈیوز کا موازنہ کیا گیا اور یہ نتیجہ سامنے آیا کہ یہ روبوٹ دراصل چینی کمپنی Unitree Robotics کا تیار کردہ ماڈل ہے۔ اس انکشاف کے بعد بحث نے شدت اختیار کر لی اور سوالات اٹھنے لگے کہ آیا اس کی درست نمائندگی کی گئی تھی یا نہیں۔

مزید تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ روبوٹ Unitree Go2 نامی ماڈل ہے، جو عالمی مارکیٹ میں تجارتی طور پر دستیاب ہے اور تحقیق و تعلیم کے لیے خریدا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی خفیہ یا مقامی طور پر تیار کردہ نیا منصوبہ نہیں تھا بلکہ ایک معروف کمرشل پراڈکٹ تھی جسے دنیا کے کئی ادارے استعمال کر رہے ہیں۔ اس حقیقت کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید میں مزید اضافہ ہوا۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ایک بین الاقوامی معیار کی نمائش میں غیر ملکی مصنوعات کو اپنی اختراع کے طور پر پیش کرنا شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ کچھ حلقوں نے اسے دانستہ غلط بیانی قرار دیا جبکہ بعض نے اسے معلوماتی کمی یا غلط فہمی کا نتیجہ بتایا۔ بہرحال، بحث کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور میڈیا چینلز نے بھی اس معاملے کو نمایاں کوریج دی۔

یہ معاملہ اس لیے بھی حساس بن گیا کیونکہ تقریب کا مرکزی مقصد بھارت میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقامی ترقی کو اجاگر کرنا تھا۔ ایسے میں اگر کسی غیر ملکی روبوٹ کو مقامی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ قومی سطح پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ناقدین نے کہا کہ اس سے اصل محققین اور اختراع کاروں کی محنت متاثر ہو سکتی ہے۔

خبروں کے مطابق نمائش کے منتظمین نے فوری طور پر وضاحت طلب کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یونیورسٹی کو اپنا اسٹال خالی کرنے کے لیے کہا گیا تاکہ مزید ابہام پیدا نہ ہو۔ اگرچہ اس بارے میں مختلف بیانات سامنے آئے، لیکن یہ واضح تھا کہ معاملہ انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن چکا تھا۔

میڈیا میں معاملہ شدت اختیار کرنے کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے باضابطہ بیان جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ روبوٹ کو تعلیمی مقاصد اور عملی تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، اور اسے اپنی ایجاد کے طور پر پیش کرنا ادارے کا مقصد نہیں تھا۔ ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ارادہ کسی کو گمراہ کرنا نہیں تھا۔

مزید وضاحت میں کہا گیا کہ نمائندہ مکمل طور پر تکنیکی تفصیلات سے آگاہ نہیں تھیں اور ان کے بیان سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ یونیورسٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے داخلی طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ اس معذرت نے وقتی طور پر تنازعے کی شدت کم کی، مگر بحث مکمل طور پر ختم نہ ہوئی۔

کئی ماہرین نے اس واقعے کو پیشہ ورانہ ذمہ داری اور شفافیت کے تناظر میں دیکھا۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں کو عوامی پلیٹ فارمز پر معلومات پیش کرتے وقت انتہائی احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ ان کی ساکھ علمی دیانت پر قائم ہوتی ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑے پیمانے پر اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں ساکھ اور اعتبار سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ کسی بھی سطح پر مبالغہ آرائی کا مرتکب سمجھا جائے تو اس کی تحقیق اور دعوو¿ں پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے اس واقعے کو ایک اہم سبق قرار دیا۔

بعض مبصرین نے اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی کہ عالمی مصنوعات کا تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال عام بات ہے۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیاں جدید روبوٹ اور آلات خرید کر طلبہ کو عملی تربیت فراہم کرتی ہیں۔ اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ان مصنوعات کی ملکیت یا تیاری کے حوالے سے ابہام پیدا ہو جائے۔

یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مختلف ممالک اس شعبے میں اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہر کامیابی کو قومی فخر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں شفافیت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

روبوٹک ڈاگ جیسے ماڈلز اب صنعتی استعمال سے آگے بڑھ کر تحقیق، تعلیم اور حتیٰ کہ تفریحی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کی دستیابی نے ٹیکنالوجی تک رسائی کو آسان بنایا ہے، مگر ساتھ ہی ذمہ داری بھی بڑھا دی ہے کہ ان کی درست شناخت پیش کی جائے۔

سوشل میڈیا نے اس معاملے کو غیر معمولی رفتار سے پھیلایا۔ چند گھنٹوں میں ویڈیو ہزاروں لوگوں تک پہنچ گئی اور ماہرین نے اس کا تجزیہ شروع کر دیا۔ یہ ڈیجیٹل دور کی حقیقت ہے کہ کوئی بھی دعویٰ فوری جانچ کے دائرے میں آ جاتا ہے۔

معلوماتی شفافیت آج کے دور کی بنیادی ضرورت ہے۔ کسی بھی سطح پر ابہام یا مبالغہ آرائی فوری طور پر بے نقاب ہو سکتی ہے۔ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر عوامی بیان کی مکمل تصدیق کریں۔

یونیورسٹی کی معذرت کے بعد معاملہ بتدریج ٹھنڈا پڑ گیا، مگر اس نے تعلیمی حلقوں میں ایک اہم بحث چھیڑ دی۔ کئی اداروں نے داخلی سطح پر اپنی پیشکشوں اور بیانات کے طریقہ کار کا جائزہ لینا شروع کیا تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔

اس تنازعے نے یہ واضح کر دیا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں شفافیت اور دیانت داری ہی اصل طاقت ہیں۔ اختراع کا دعویٰ کرنے سے پہلے مکمل تحقیق اور درست معلومات پیش کرنا ناگزیر ہے۔

یہ واقعہ ایک سبق کے طور پر سامنے آیا کہ جدید دور میں سچائی سب سے بڑی حکمت عملی ہے۔ وقتی فائدے کے لیے پیدا ہونے والا ابہام طویل المدت ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ صرف ایک روبوٹک ڈاگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی نمائشوں اور ڈیجیٹل دور کی ذمہ داریوں پر وسیع بحث کو جنم دیا۔ مستقبل میں شفاف ابلاغ اور درست نمائندگی ہی ایسے تنازعات سے بچاو¿ کا مو¿ثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔