اسلام آباد(اویس الحق سے)محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف شہروں میں کل سے 2 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس پر این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 اور 31 اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے اور سیلابی صورتحال متوقع ہے۔ شمالی اضلاع میں راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاالدین شامل ہیں۔
وسطی و جنوبی پنجاب میں 29 تا 31 اگست کے دوران بارشیں متوقع ہیں اور نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ ملتان، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں ممکنہ بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے،
خیبر پختونخوا میں 29 تا 31 اگست کے دوران شدید بارشیں ہوں گی، ملاکنڈ و ہزارہ ڈویژن میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ کے پی اضلاع میں چترال، دیر، سوات، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، نوشہرہ، مردان، ڈی آئی خان، ٹانک، کوہاٹ اور بنوں شامل ہیں
آزاد کشمیر میں مظفرآباد، باغ، حویلی، کوٹلی، میرپور، بھمبر میں 29 اگست تا 2 ستمبر کے دوران شدید بارشیں متوقع ہیں جن کے سبب لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
گلگت بلتستان میں 29 تا 31 اگست تک بارشیں متوقع ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کا خدشہ ہے۔ گلگت بلتستان کے اضلاع میں گلگت، اسکردو، ہنزہ، دیامر، استور، غذر اورگانچھے شامل ہیں۔
سندھ کے ساحلی اضلاع کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر میں 30 اگست تا 2 ستمبر کے دوران بارشیں متوقع ہیں۔ کراچی میں ممکنہ شدید بارشوں کے باعث شہری سیلاب کا خدشہ ہے۔
اندرون سندھ کے اضلاع بشمول حیدرآباد، دادو، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور میں 30 اگست تا یکم ستمبر موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔
بلوچستان کے ساحلی و مشرقی اضلاع بشمول گوادر، کیچ، پنجگور، خضدار، لسبیلہ، قلات میں 29 اگست تا یکم ستمبر تک بارشیں، نشیبی علاقوں سیلاب کا خدشہ ہے ممکنہ مزید بارشوں کے نتیجے میں دریائے راوی،ستلج اور چناب کے ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال میں مزید شدت متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر مقامی انتظامیہ اور ریسکیو حکام سے رابطہ کریں، متاثرہ علاقوں میں این ڈی ایم اے تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں کی ہمہ وقت نگرانی کر رہا ہے، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں۔