نیپال کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں راشٹریہ سوئنترا پارٹی نے عام انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی۔
پارٹی کی اس بڑی کامیابی کے بعد نوجوان رہنما بلن شاہ نے نیپال کے وزیراعظم کے عہدے کا باقاعدہ حلف اٹھا لیا۔
حلف برداری کی تقریب دارالحکومت کھٹمنڈو میں منعقد ہوئی، جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور غیر ملکی سفارتکاروں نے شرکت کی۔
بلن شاہ کی قیادت کو نیپال میں ایک نئی سیاسی سوچ اور تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راشٹریہ سوئنترا پارٹی کی کامیابی روایتی سیاسی جماعتوں کے خلاف عوامی ردعمل اور نوجوان قیادت پر بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے۔
پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران کرپشن کے خاتمے، گڈ گورننس اور معاشی اصلاحات جیسے اہم نکات کو اجاگر کیا، جسے عوام میں بھرپور پذیرائی ملی۔
وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں بلن شاہ نے ملک میں شفافیت، ترقی اور عوامی فلاح کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نیپال کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
بلن شاہ کی کامیابی کو نیپال میں نوجوان قیادت کے ابھار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف ملکی سیاست بلکہ خطے میں بھی ایک مثبت تبدیلی کا اشارہ ہے۔