نورین اسلم کی کتاب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا

اہلِ بیتِ اطہارؑ کا ذکر دلوں کو منور کرتا ہے اور ان ہستیوں پر لکھنا محض الفاظ ترتیب دینا نہیں بلکہ اپنی روح کو کسی مقدس راستے پر رکھ دینا ہے۔ نورانی باجی، نورین اسلم، کی کتاب“The Iron Lady”اسی روحانی سفر کا آئینہ ہے ایک ایسا سفر جس میں قاری صرف سیدہ زینب بنتِ علی سلام اللہ علیہا کے حالاتِ زندگی نہیں پڑھتا بلکہ ان کی عظمت کے سائے اپنے گرد محسوس کرتا ہے۔

کتاب کے ابتدائی صفحات سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ مصنفہ نے یہ کام تحقیق سے بڑھ کر عقیدت کے جذبے سے کیا ہے۔ سیدہ زینبؑ سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو جس احترام اور لطافت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، وہ بتاتا ہے کہ یہ قلم محض لکھ نہیں رہا تھا… یہ دل سے اترتی ہوئی روشنی کو لفظوں میں ڈھال رہا تھا۔سیدہؑ کا تقویٰ، عبادت، علم، خطابت، اخلاق، گھریلو زندگی، اولاد کی تربیت ہر پہلو کو مصنفہ نے یوں بیان کیا ہے کہ قاری کے سامنے تاریخ نہیں، ایک زندہ کردار ابھرتا ہے۔

خاص طور پر مدینہ سے کربلا تک کا سفر اور اس کے بعد کی آزمائشیں کتاب کو ایک غیر معمولی وقار عطا کرتی ہیں۔ یہاں تحریر صرف واقعہ نہیں سناتی بلکہ اس دکھ، اس جرأت اور اس روشنی کا لمس دیتی ہے جو زینبی کردار کا خاصہ ہے۔کتاب کا سب سے روح پرور حصہ وہ ہے جہاں دربارِ ابن زیاد اور دربارِ یزید میں سیدہؑ کے خطبات کا ذکر آتا ہے۔ نورانی باجی نے ان خطبات کو محض تاریخی حوالوں کے ساتھ نہیں چھیڑا، بلکہ ان کے نفسیاتی، اخلاقی اور روحانی اثرات کو بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔“ما رأَیتُ إلّا جمیلاً”جیسے لازوال جملے کی معنویت بیان کرتے ہوئے مصنفہ نے یہ واضح کیا ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو،

حق کی روشنی کبھی بجھتی نہیں اور یہی روشنی زینبی کردار کا بنیادی جوہر ہے۔نورانی باجی کا اسلوب دل میں اترنے والا ہے سادگی بھی ہے، تہذیب بھی؛ جذبہ بھی ہے، حقیقت پسندی بھی۔ ان کی تحریر واقعات کو رونے دھونے کے انداز میں پیش نہیں کرتی بلکہ قاری کو سمجھاتی ہے کہ سیدہ زینبؑ سلام اللہ علیہا کا کردار آج کے بکھرے ہوئے دور میں کس طرح امید، حوصلے اور مزاحمت کی علامت بنتا ہے۔

بطور قاری یہ کتاب محض معلومات کا ذخیرہ نہیں لگتی بلکہ ایک ایسا لطیف روحانی تجربہ محسوس ہوتی ہے جو دل کو نرم بھی کرتا ہے، مضبوط بھی۔“The Iron Lady”اہلِ بیتؑ سے نسبت رکھنے والوں کے لیے یقیناً ایک قیمتی سرمایہ ہے ایسا سرمایہ جو انسان کو اپنے باطن کے قریب اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی دعوت دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس خالص دلی کاوش کو قبول فرمائے اور ہم سب کو زینبی صبر، حسینی جرأت اور فاطمی تطہیر سے حصہ عطا فرمائے۔آمین

اقبال زرقاش