آج دل بے حد بوجھل ہے رران واک چلتے ذہن میں ایک سوال بن گیا ہے، اور اس سوال کا جواب صرف خاموشی ہے۔ یہ خاموشی ہماری نئی نسل کے گرد چھائی ہوئی ہے، وہ نسل جو تعلیم یافتہ، باخبر اور خواب دیکھنے والی ہے، مگر روزگار سے محروم ہے۔ میں نے آج سوچا کہ اس کیفیت الفاظوں میں سمیٹ دوں، شاید لفظوں میں درد کم ہو جائے یا کم از کم حقیقت محفوظ ہو جائے۔

گھر کے کمرے میں لگی ڈگریاں اب فخر نہیں، بلکہ ایک بوجھ بن گئی ہیں۔ انجینئرنگ، ایم بی اے، آئی ٹی، سوشل سائنسز۔ہر شعبے کے نوجوان ایک ہی سوال دہراتے ہیں: نوکری کہاں ہے؟ اشتہارات کم ہوتے جا رہے ہیں، مقابلہ بڑھتا جا رہا ہے، اور معیار کے نام پر دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ انٹرویوز کے بعد جو جملہ اکثر آتا ہے، وہ یہی ہے: ہم آپ کو کال کریں گے۔لیکن وہ کال اکثر کبھی نہیں آتی۔ یہ صرف مالی مسئلہ نہیں، بلکہ خودی، عزت نفس اور اعتماد کا بحران ہے۔ والدین کی آنکھوں میں امید موجود ہے، مگر نوجوان کی جیب خالی ہے۔
دوستوں کی محفلیں اب خوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ موازنہ بن گئی ہیں جب ملک میں مواقع کم ہوں تو نظریں سرحدوں کے پار چلی جاتی ہیں۔ بیرونِ ملک جانا اب خواب نہیں بلکہ بقا کی حکمتِ عملی بن چکا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جائیں تو کہاں؟ ہر راستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔ ویزا کی شرائط، بینک اسٹیٹمنٹس، زبان کے امتحان، ایجنٹوں کے دھوکے—یہ سب ایک عام نوجوان کے لیے دیواریں ہیں۔ کچھ ممالک دروازہ کھولتے ہیں، مگر قیمت بہت زیادہ ہے، جبکہ کچھ وعدہ کرتے ہیں، مگر وقت بہت لیتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں کام تو ملتا ہے، مگر اکثر غیر مستقل اور محدود تنخواہوں کے ساتھ۔
قوانین سخت اور ترقی کے مواقع محدود ہیں، پھر بھی بہت سے نوجوان یہی راستہ چنتے ہیں کیونکہ یہ نسبتاً قریب اور فوری ہے۔ یورپ علم، تحقیق اور بہتر معیارِ زندگی کا وعدہ کرتا ہے، مگر ویزا مشکل، زبان کی شرط لازم، اور اخراجات بھاری ہیں۔ طالب علم ویزا ایک راستہ تو ہے، مگر پڑھائی کے بعد نوکری کی ضمانت نہیں۔ کینیڈا اور آسٹریلیا اسکلڈ امیگریشن کے نظام کے تحت امید دلاتے ہیں، مگر اس کے لیے تجربہ، زبان، اور سرمایہ ضروری ہے،جو ہر کسی کے پاس نہیں۔ کچھ نوجوان آن لائن دنیا میں سرحدوں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔فری لانسنگ، ریموٹ جابز، یا ڈیجیٹل بزنس کے ذریعے۔ مگر اس کے لیے مہارت، صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے، جو موجودہ تعلیمی نظام کم ہی سکھاتا ہے
سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل ہجرت ہے؟ شاید نہیں، مگر اس کے لیے ریاست، ادارے اور معاشرہ سب کو بدلنا ہوگا۔ تعلیم کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہوگا، انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرض اور رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے، اور میرٹ و شفافیت کو صرف نعرہ نہیں بلکہ عملی شکل دینی ہوگی۔ نوجوان بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہیں؛ نئی مہارتیں سیکھنا، ٹیکنالوجی اپنانا، اور وقت کے ساتھ خود کو بدلنا اب اختیار نہیں بلکہ ضرورت ہے مایوسی اندھیرا ضرور ہے، مگر مکمل نہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نوجوان راستہ بنا رہا ہے۔
کسی نے اسٹارٹ اپ شروع کیا ہے، کسی نے آن لائن کام میں نام کمایا ہے، اور کوئی سماجی خدمت کے ذریعے تبدیلی لا رہا ہے۔ یہ مثالیں کم ہیں مگر موجود ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر نیت درست ہو، پالیسیاں سنجیدہ ہوں، اور نوجوان کو سنا جائے، تو یہی نسل ملک کو سنبھال سکتی ہے اور دنیا میں بھی اپنا مقام بنا سکتی ہے۔ آج کی دعا یہی ہے کہ اے خدا! ہماری نئی نسل کو ہمت عطا فرما، راستہ دکھا، اور ایسا نظام عطا کر جہاں خواب جرم نہ ہوں اور محنت رائیگاں نہ جائے۔
آصف شاہ
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.