موجودہ پارلیمنٹ کے پاس آئینی ترامیم کا اختیار نہیں،مولانا فضل الرحٰمن

فروری کے متنازع انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی موجودہ پارلمنٹ کے پاس آئینی ترمیم کا اختیار نہیں، ہم نے چھبیسویں ترمیم کے وقت اس حکومت کو رعایت دی، بہت کچھ اس ترمیم س نکلوایا، مولانا فضل الرحمان کی محمود اچکزئی و دیگر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ طاقت ور حلقے زبردستی آئینی ترمیم کراہے ہیں جیسے جنرل باجوہ نے اپنی نگرانی میں اپنی ایکسٹیشن کیلئے قانون سازی کرائی تھی

آئین ملک کی وحدت کی ضمانت ہے، آئین کو متنازع نہیں کرنا چاہئیے، ایسی پارلیمنٹ جس پر عوام کو اعتماد نہ ہو اسکو اتنی حساس قانون سازی کا حق نہیں، 27ویں ترمیم کے خلاف پوری اپوزیشن ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کرے گی، کوئی بین الاقوامی فوج غزہ بھیجی جارہی ہے، وہ اسرائیل جس کے ترکی سے سفارتی تعلقات ہیں، ترکی اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے جبکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، تو کیا وجہ ہے کہ اسرائیل کو ترکی کی فوج پر اعتراض ہے اور پاکستان کی فوج پر اعتراض نہیں، کس کس معاملے پر روئیں ہم؟
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم میں 18ویں ترمیم کو رول بیک نہیں کیا جا رہا، آئینی ترمیم پر ابھی کوئی ٹائم فریم نہیں دے رہے، بلاول بھٹو کے ٹویٹ پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں، 27ویں ترمیم میں نواز شریف کی رہنمائی اور رضامندی شامل ہوگی۔