بلوچستان اور کراچی کو ایک بڑے سانحے سے بچا لینے کا حالیہ واقعہ محض ایک کامیاب انٹیلی جنس آپریشن نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ بھی ہے۔ ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش بمبار بنانے کی کوشش نے یہ حقیقت بے نقاب کر دی ہے کہ دشمن اب بندوق سے زیادہ ذہنوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اور وہ بھی نہایت بے رحمی کے ساتھ۔کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہوں کا بچوں اور بچیوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا انسانیت کی بدترین مثال ہے۔

یہ عمل واضح کرتا ہے کہ ان گروہوں کا بلوچ عوام سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے مہرے ہیں جو معصوم جانوں کو ایندھن بنا رہے ہیں۔اس واقعے میں سوشل میڈیا کا کردار نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کو مسلسل دکھا کر ایک معصوم ذہن کو اس حد تک متاثر کیا گیا کہ جھوٹ، سچ کا روپ دھار گیا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج کی جنگ صرف میدانوں میں نہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرین پر بھی لڑی جا رہی ہے۔سیکیورٹی فورسز، سی ٹی ڈی اور پولیس کی بروقت کارروائی قابلِ تحسین ہے۔ ان اداروں نے نہ صرف ایک بچی کی جان بچائی بلکہ کراچی جیسے بڑے شہر کو ممکنہ تباہی سے محفوظ رکھا۔ یہ وہ خاموش قربانیاں ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی کے پس منظر میں دی جاتی ہیں۔یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارت بلوچستان اور دیگر صوبوں میں بدامنی پھیلانے کے لیے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے مسلسل مداخلت کر رہا ہے۔ پ
اکستان کی قومی یکجہتی کو کمزور کرنا اس کا دیرینہ ایجنڈا ہے، مگر ہر بار ریاستی ادارے اس سازش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں جھونکنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ اصل دشمن وہ نہیں جو گمراہی میں پہاڑوں پر چڑھ گیا، بلکہ وہ ہے جو سرحد پار بیٹھ کر اسے استعمال کر رہا ہے۔ ایسے گمراہ عناصر کے لیے آج بھی واپسی کا راستہ موجود ہے۔خودکش بمباروں کو روکنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، خاص طور پر جب اس مکروہ دھندے میں بچوں کو شامل کیا جا رہا ہو۔ اس کے لیے صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ فکری اور سماجی محاذ پر بھی مضبوط حکمتِ عملی درکار ہے۔افغانستان سے فتنہ الہند اور دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔
جب تک ان کے سہولت کار اور نظریاتی مراکز ختم نہیں ہوں گے، خطرات پوری طرح ختم نہیں ہوں گے۔یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے سوئے نہیں بلکہ مکمل طور پر چوکس ہیں۔ ہندوستانی پراکسی کو شکست دے کر ہی دم لیا جائے گا، کیونکہ یہ جنگ ہماری بقا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔
شہزاد حسین بھٹی
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.