مراسی کو راجپوتوں اور مغل امراء کے دربار میں اہم مقام حاصل تھا
مراسی برصغیر پاک و ہند کی ایک ایسی برادری جس کا ماضی میں تعلق فن موسیقی اور تاریخ سے رہا ہے۔ اس دور میں تحریری ریکارڈ عام نہ ہونے کے باعث مراسی نسلی شجرے واقعات اور خاندانوں کی تاریخ یاد رکھتے اور زبانی روایت کے ذریعے آگے کی نسل کو منتقل کرتے تھے۔ تاہم موجودہ دور میں عام طور پر ڈھول بجانے براہ راست گانے اور شہنائی کے فن کا مظاہرہ کرنے والوں کو اس نام سے پکارا جاتا ہے مگر اسکے برعکس مراسی کی حقیقی تاریخ کافی دلچسپ ہے۔

مراسی عربی لفظ میراث سے نکلا ہے جسکی تشریح وراثت سنبھالنے کے معنوں میں لی جاتی ہے کیونکہ یہ خاندانوں کے نسب اور تاریخی وراثت کے محافظ و نگہبان تھے۔ اسکی واضح دلیل یہ ہے کہ برصغیر کی تاریخ میں 1860ء کی دہائی زمینی اصلاحات اور ریکارڈ کی تیاری کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے جب انگریز سرکار نے پنجاب اور دیگر علاقوں میں زمینوں کا باقاعدہ ریکارڈ شجرہ نسب اور ملکیت مرتب کرنا شروع کیا تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ زیادہ تر ریکارڈ زبانی روایات پر مبنی تھا
اس مشکل مرحلے پر مراسی برادری نے ایک ماہرِ تاریخ دان اور ماہرِ انساب کے طور پر برطانوی انتظامیہ کی مدد کی کیونکہ انگریزوں کو زمین کے مالکان کا تعین کرنے کے لیے شجرہ نسب کی ضرورت تھی چونکہ زمین کی وراثت باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتی تھی۔ اس لیے مراسیوں نے اپنی یادداشت اور اپنے پاس موجود زبانی و تحریری شجروں کی مدد سے یہ ثابت کیا کہ کون کس کا وارث ہے اور کس خاندان کی زمین کہاں سے شروع ہوتی ہے۔
اس وقت بہت سے تنازعات ایسے تھے جن کے کاغذات موجود نہ تھے۔ مراسیوں نے میراث سنبھالنے کے ناطے عدالتوں اور ریونیو افسران کے سامنے گواہیاں دیں کہ کئی نسلوں سے زمین کا قبضہ کس کے پاس رہا ہے۔ بہت سے برطانوی سیٹلمنٹ افسران جیسے کہ سر ڈینزل ابٹسن نے اپنی رپورٹس میں لکھا ہے کہ مراسیوں کی یادداشت اس قدر حیرت انگیز تھی کہ وہ سات سے دس نسلوں تک کے نام اور ان کے درمیان ہونے والے زمینی بٹوارے لمحوں میں بیان کر دیتے تھے۔
ہم جو پٹواری ریکارڈ یا شجرہ نسب کے سرکاری کاغذات دیکھتے ہیں ان کی بنیاد رکھنے میں ان مراسی لوگوں کا علم شامل ہے جنہیں تاریخ نے شاید وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے۔ہم نے اپنوں بزرگوں کی وساطت سے مراسی/ دادکے جیسے ناموں سے آشنا ضرور ہیں جو جہلم کے رہائشی تھے
اور باقاعدہ ہر تین ماہ بعد ہمارے اردگرد تمام دیہات میں آتے جاتے رہتے انکے ہاتھ میں ایک رجسٹر نما کتاب ہوتی تھی جس میں وہ ہر پیدا ہونے والے نئے بچے کا نام والد کا نام اور دادا کے نام کا اندراج کرتے تھے اصل میں وہ مراسی /دادکا ہمارا خاندانی شجرہ ترتیب دیتا تھا تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے بطور ایک خاندانی شناخت سند محفوظ رہے۔ دادکا لفظ داد سے نکلا ہے جس کا مطلب تحسین یا تعریف کے ہیں یہ وہ لوگ تھے جو شعراء کے کلام یا جنگوں کے قصے سناتے اور حاضرین سے داد پاتے تھے اس دور میں فن کا مظاہرہ کرنے والے مراسیوں کو گوائیے کا نام دیا جاتا تھا مگر تاریخی طور پر مراسیوں کا سب سے معتبر کام نسب خوانی تھا۔ یہ لوگ اس قدر ذہین اور حاضر دماغ تھے
کہ نہ صرف ناموں کو ذہین نشین کرتے تھے بلکہ کسی بھی خاندان کی سات سے زائد پشتوں کے نام اور ان کے کارنامے زبانی سنانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ اس دور میں مراسی کو کچھ اہم خصلتوں اور ذہانت کی بنا پر سوسائٹی میں نمایاں مقام حاصل تھا اس دور میں دو قبیلوں اور برادریوں کے درمیان جھگڑے کی صورت میں صلح کرانے یا رشتے طے کرانے کے لیے مراسی کو بطور سفیر بنا کر بھیجا جاتا تھا۔
میدانِ جنگ میں انکا ڈھول کی تھاپ پر سریلی زبان میں گایا گیا کلام سپاہیوں کے لیے جوش و جذبہ کا باعث بنتا تھا جنگوں کے دوران مراسی سپاہیوں کا لہو گرمانے کے لیے واریں رزمیہ نظمیں سناتے تھے سب سے خاص بات یہ تھی کہ مراسی بھانڈ کی صورت میں بادشاہوں اور مہاراجوں کے سامنے سچی بات مزاح کے رنگ میں کہہ دیا کرتے تھے جو آج یہ کام کالم نگار یا تجزیہ کار سرانجام دے رہے ہیں۔شادی بیاہ کے موقع پر جب خاندانوں کی نسل کی تحقیق کرنی ہوتی تو مراسی کی گواہی کو حتمی سمجھا جاتا تھا مہاراجہ خود ان کی بہت قدر کرتا تھا اور بہت سے فنکاروں کو انکے دربار میں اعلیٰ مقام حاصل تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے اور جدید ریکارڈ کی دستیابی نے ان کے شجرہ نسب والے کردار کو ختم کر دیا تاہم بدقسمتی سے جو طبقہ کبھی تاریخ دان اور فنکار تھا اسے معاشرے نے میراثی کہہ کر تضحیک کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے یہ لفظ رفتہ رفتہ اپنا مقام اور اپنی شناخت کھو بیٹھا اور اب یہ لفظ مراسی ایک ہتک آمیز لفظ بن چکا ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق مراسی برادری کا سب سے اہم اور علمی کردار نسب خوانی یا شجرہ نسب کو زبانی یاد رکھنا اور اسے مرتب کرنے کا اہم فریضہ سر انجام دیتا تھا قدیم برصغیر میں جہاں عام لوگوں کے پاس لکھنے پڑھنے کی سہولیات کم تھیں وہاں مراسی ایک زندہ لائبریری کا کام کرتے تھے سلطنتِ دہلی (1200ء تا 1526ء)یہ وہ دور تھاجب مراسی برادری نے اپنی فنی پہچان بنانا شروع کی13 ویں صدی میں جب امیر خسروؒ نے موسیقی اور شاعری میں نئے تجربات کیے تو مراسی برادری ان کے شاگردوں کے طور پر سامنے آئی انہوں نیدرباروں میں تاریخ دان اور فنکار کے طور پر نمایاں مقام حاصل کیا اسکے علاؤہ صوفیائے کرام کی خانقاہوں میں قوالی اور روحانی کلام کو عام کرنے میں اس طبقے نے کلیدی کردار ادا کیا ہے
جس کی وجہ سے انہیں مذہبی و سماجی حلقوں میں بڑی عقیدت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا مغلیہ دور میں مغل بادشاہوں خاص طور پر اکبرجہانگیر اور شاہ جہاں کے دور میں موسیقی کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی مراسیوں کے بڑے خاندان دربارِ اکبری سے وابستہ تھے انہیں مغل بادشاہوں کی جانب سے بھاری وظائف اور جاگیریں دی جاتی تھیں راجپوتوں اور مغل امراء کے ہاں اپنی نسل اور خون کی بہت اہمیت تھی مراسی اس دور میں ریاستی رجسٹرار کی حیثیت رکھتے تھے ان کی گواہی کے بغیر خاندانی شرافت ثابت کرنا خاصہ مشکل کام تھا۔
ماضی میں مراسی برادری علمِ انساب اور ثقافتی ورثے سے وابستہ تھے جبکہ حال میں اپنی بقا کی جدوجہد اور جدید میڈیا سے وابستہ ہیں اگرچہ آج کے دور میں مراسی کے روایتی کردار ختم ہو رہے ہیں مگر برصغیر کی موسیقی اور مزاح آج بھی ان کے فن کی مرہونِ منت ہے۔
ساجد محمود