محنت کش کا تمسخر: کیا یہی ہماری تہذیب ہے؟

ایک پاکستانی ہونے کے ناطے جب میں نے وہ ویڈیو دیکھی تو دل کے اندر ایک عجیب سی شرمندگی نے جنم لیا، ایسی شرمندگی جو انسان کو اندر تک ہلا دیتی ہے۔ یہ کسی ایک فرد کی غلطی نہیں بلکہ اجتماعی رویئے کی عکاسی تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہم نے چند لمحوں کی ہنسی مذاق کے لئے اپنے وقار اور اپنی تہذیبی شناخت کو داو¿ پر لگا دیا ہو۔ سوال یہ نہیں کہ ویڈیو کس نے بنائی یا کس نے شیئر کی، اصل سوال یہ ہے کہ ہماری سوچ کس نہج پر پہنچ چکی ہے اور ہم بطور قوم کس سمت میں بڑھ رہے ہیں۔کسی افغان کو “تندور والا” کہہ کر بطورِ طنز پکارنا محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ذہنیت کی علامت ہے۔ کیا ہم واقعی اس مقام پر آ چکے ہیں کہ حلال روزی کمانے والے کو اس کے پیشے کی بنیاد پر کمتر سمجھیں؟ کیا دیانت دار محنت اب ہمارے معاشرے میں مذاق کا موضوع بن چکی ہے؟
یہ رویہ نہ صرف اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ہمارے اندر موجود احساسِ برتری کے مصنوعی خول کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔تندور پر روٹی لگانا، گرمی اور دھوئیں میں کھڑے ہو کر لوگوں کے لئے رزق تیار کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔ یہ محنت، برداشت اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمارے دین نے تو مزدور کے پسینے کو خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ادا کرنے کی تلقین کی ہے، پھر ہم کس منطق کے تحت اسی محنت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں؟ جو ہاتھ آٹا گوندھتے ہیں، وہی ہاتھ معاشرے کے بھوکے پیٹوں کو سیر کرتے ہیں اور یہ کام عزت کے لائق ہے، تضحیک کے نہیں۔اگر ہم دیانت داری سے اپنا محاسبہ کریں تو ہمیں یاد آئے گا کہ لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک مختلف نوعیت کے کام کر کے اپنے خاندانوں کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ کوئی سعودی عرب میں تعمیراتی مزدوری کر رہا ہے، کوئی متحدہ عرب امارات میں ڈرائیونگ کر رہا ہے، کوئی یورپ میں صفائی کا کام انجام دے رہا ہے۔ یہ سب لوگ اپنے خوابوں اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، اور انہی کی محنت سے ہمارے گھروں کے چراغ روشن رہتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ہمارے اپنے بھائی اور بہنیں مغربی ممالک میں کیشیئر بن کر کھڑے رہتے ہیں، ریستورانوں میں برتن دھوتے ہیں، ٹیکسی چلاتے ہیں یا گوداموں میں سامان اٹھاتے ہیں۔ کیا ہم ان کے کام کو بھی حقیر کہیں گے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ سب حلال اور باعزت روزی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پھر کسی اور قوم کے محنت کش کو کمتر سمجھنا کھلی منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟
اصل مسئلہ پیشہ نہیں بلکہ ہماری سوچ کا زاویہ ہے۔ جب معاشرہ دولت کو عزت کا معیار اور محنت کو کمتر سمجھنے لگے تو اخلاقی توازن بگڑ جاتا ہے۔ ہم نے ظاہری چمک دمک کو اصل کامیابی سمجھ لیا ہے جبکہ کردار، دیانت اور شرافت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ یہی سوچ ہمیں تقسیم کرتی ہے اور ہمیں اندر سے کھوکھلا بناتی ہے۔
افغان باشندے ہوں یا پاکستانی، سب انسان اور اپنی اپنی مشکلات سے نبرد آزما ہیں۔ ہر شخص اپنے خاندان کے لئے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔ کوئی تنور چلاتا ہے، کوئی دکان سنبھالتا ہے، کوئی دفتر میں بیٹھتا ہے، مگر سب کا مقصد ایک ہی ہے، باعزت طریقے سے زندگی گزارنا۔ اس جدوجہد میں کسی کو نیچا دکھانا ہماری اپنی انسانیت کی توہین ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان صرف جغرافیائی سرحد نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ثقافتی، مذہبی اور سماجی رشتے موجود ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دیا ہے، مہاجرت اور آزمائشوں کے دور دیکھے ہیں۔ ایسے میں نفرت آمیز القابات استعمال کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ تاریخی رشتوں سے بے وفائی کے مترادف بھی ہے۔
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ایک پلیٹ فارم دیا ہے جہاں وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ چند لائکس اور ویوز کی خاطر ایسے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ وقتی شہرت کی یہ خواہش ہمیں طویل مدتی نقصان کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری نئی نسل کیا سیکھ رہی ہے۔ اگر ہم پیشوں کی بنیاد پر تمسخر اڑائیں گے تو ہمارے بچے بھی یہی رویہ اپنائیں گے۔ یوں معاشرے میں طبقاتی تفریق مزید گہری ہوگی اور باہمی احترام کی فضا کمزور پڑتی جائے گی۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر جائز پیشے کو عزت دی جائے۔
اسلام نے ہمیں اخوت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیا ہے۔ قرآن و سنت میں کہیں یہ تعلیم نہیں ملتی کہ کسی کی قومیت یا پیشے کی بنیاد پر اس کی تحقیر کی جائے۔ اصل برتری تقویٰ اور حسنِ اخلاق میں ہے، نہ کہ معاشی حیثیت یا سماجی مرتبے میں۔ اگر ہم واقعی اپنے دین سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں بھی اپنانا ہوگا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ حالات پل بھر میں بدل سکتے ہیں۔ آج جو شخص محفوظ اور مستحکم ہے، کل آزمائش کا شکار ہو سکتا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے بزرگوں نے مشکلات کے دور دیکھے، ہجرت کی، چھوٹے موٹے کام کیے اور اپنی اولاد کے لیے بہتر زندگی کی بنیاد رکھی؟ اگر اس وقت کسی نے انہیں حقیر سمجھا ہوتا تو آج ہم کہاں کھڑے ہوتے؟
قیامِ پاکستان کے بعد لاکھوں لوگوں نے ریڑھیاں لگائیں، چھوٹی دکانیں کھولیں، مزدوری کی اور اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ وہی لوگ آج ہمارے ہیروز کہلاتے ہیں۔ اگر ہم آج کسی تنور والے یا مزدور کو حقیر سمجھیں گے تو دراصل ہم اپنی ہی تاریخ کی توہین کر رہے ہوں گے۔
محنت کش طبقہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ سڑک بنانے والا نہ ہو تو گاڑیاں نہیں چل سکتیں، کسان نہ ہو تو اناج نہیں اگتا، روٹی بنانے والا نہ ہو تو دسترخوان سجا نہیں رہتا۔ معاشرے کا پہیہ انہی ہاتھوں سے چلتا ہے جو بظاہر سادہ نظر آتے ہیں مگر درحقیقت بے حد اہم ہوتے ہیں۔
ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ عزت کا تعلق پیشے سے نہیں بلکہ نیت اور کردار سے ہوتا ہے۔ ایک دیانت دار مزدور اپنے مقام پر اس شخص سے کہیں زیادہ باوقار ہے جو دولت تو رکھتا ہو مگر اخلاق سے خالی ہو۔ اصل عظمت انسان کے اندر ہوتی ہے، نہ کہ اس کے لباس یا عہدے میں۔
قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے کمزور اور محنت کش طبقے کو سہارا دیتی ہیں، نہ کہ ان پر طنز کرتی ہیں۔ اجتماعی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد کو عزت اور مواقع میسر ہوں۔ اگر ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے رہیں گے تو ہم خود اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گے۔
دنیا ہمیں ہمارے رویوں سے پہچانتی ہے۔ جب ہم خود ہی محنت کو عار سمجھنے لگیں گے تو عالمی سطح پر ہماری ساکھ متاثر ہوگی۔ ہمیں اپنے طرزِ فکر میں سنجیدگی اور پختگی لانی ہوگی تاکہ ہم ایک باوقار قوم کے طور پر پہچانے جائیں۔
الفاظ کی طاقت کو کم نہ سمجھا جائے۔ ایک جملہ کسی کے دل کو زخمی کر سکتا ہے اور ایک جملہ کسی کی ہمت بڑھا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی زبان کو نفرت کے بجائے محبت اور احترام کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ یہی تہذیب کی اصل پہچان ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم بطورِ پاکستانی اپنی اجتماعی ذمہ داری کو سمجھیں۔ قومیت کا مطلب دوسروں کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ اپنے کردار کو بلند کرنا ہے۔ اگر ہم واقعی باوقار قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں میں سنجیدگی، برداشت اور احترام پیدا کرنا ہوگا۔
آیئے یہ عہد کریں کہ ہم کسی بھی قوم یا پیشے سے وابستہ شخص کی تحقیر نہیں کریں گے۔ ہم حلال روزی کمانے والے ہر فرد کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے، چاہے وہ تنور پر ہو، سڑک پر ہو یا کسی دفتر میں۔ یہی رویہ ہمیں اخلاقی طور پر مضبوط بنائے گا۔
شرمندگی کا احساس دراصل بیداری کی علامت ہے۔ اگر ہم نے اس لمحے کو خود احتسابی کا موقع بنا لیا تو ہم ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی، کیونکہ ہم اس سے بہتر ہو سکتے ہیں، اور ہمیں واقعی اس سے بہتر ہونا چاہئے۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.