مایوسی انسان کے دل میں اُس وقت جنم لیتی ہے جب حالات اُس کی سمجھ سے باہر ہو جائیں، جب کوششیں بار بار ناکام ہوں، یا جب زندگی کے بوجھ حد سے بڑھ جائیں۔ مگر ایمان رکھنے والوں کے لیے مایوسی ایک کمزوری بن جاتی ہے، کیونکہ یہ خدا کی قدرت اور اس کے وعدوں پر اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ انسان جب مایوس ہوتا ہے تو دراصل وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور کوئی آزمائش انسان کی برداشت سے بڑھ کر نہیں دی جاتی۔
خدا تعالیٰ نے قرآن و احادیث میں بارہا یہ پیغام دیا ہے کہ مایوسی کو دل میں جگہ نہ دو، کیونکہ مایوسی شیطان کا ایک حربہ ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ انسان اپنے رب سے دور ہو جائے، اس کی رحمت سے ناامید ہو کر گناہوں اور بے سکونی کے راستوں پر چل پڑے۔ اسی لیے ایمان کی پختگی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان حالات کے بگاڑ کے باوجود اپنے رب پر یقین قائم رکھتا ہے۔ یہی یقین اسے اندرونی استحکام، سکون اور امید دیتا ہے۔
مایوسی کو گناہ اس لیے بھی کہا گیا ہے کہ یہ رب کی رحمت کو محدود سمجھنے کے مترادف ہے۔ خدا کی رحمت کسی ایک لمحے یا ایک کیفیت تک محدود نہیں۔ وہ تو رحمٰن اور رحیم ہے، جو اندھیری راتوں میں بھی امید کی ایک کرن انسان کے دل میں ڈالتا ہے۔ اگر انسان اپنے رب پر بھروسہ کر کے صبر کرے تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے، اور ایسی راہیں کھول دیتا ہے جن کے بارے میں انسان نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔
زندگی کا ہر موڑ آزمائش سے خالی نہیں ہوتا۔ کبھی روزی کا مسئلہ، کبھی صحت کی خرابی، کبھی رشتوں میں کشیدگی اور کبھی معاشرتی دباؤ انسان کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ خدا کو اپنا سہارا بنا لیتے ہیں وہ ٹوٹتے نہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ یہ مضبوطی ایمان کی جڑوں سے ملتی ہے، جو انسان کو مشکلات میں بھی کھڑا رکھتی ہے۔
مایوسی کا ایک سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ مایوس انسان نہ صرف خود کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی مایوسی منتقل کرتا ہے۔ اس کے برعکس امید نہ صرف ذہن کو روشن رکھتی ہے بلکہ اعمال میں برکت پیدا کرتی ہے۔ جو شخص امید رکھتا ہے وہ بہتر فیصلے کرتا ہے اور اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لاتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خدا انسان کی رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ صرف ایک پکار کی دوری پر ہے۔ انسان جب اپنے دل کا بوجھ اللہ کے سامنے رکھ دیتا ہے تو اس کا آدھا غم خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ دعا مایوسی کا سب سے طاقتور علاج ہے۔ یہ دل کو سکون بھی دیتی ہے اور رب کی قربت بھی۔
مایوسی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان زندگی کے ہر مرحلے میں شکر گزاری کو اپنا حصہ بنائے۔ شکر گزار دل ہمیشہ روشن رہتا ہے۔ جب انسان اپنی مشکلات کے ساتھ ساتھ اپنی نعمتوں کو بھی دیکھتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے، خدا نے اسے بے شمار سہولتیں بھی دی ہیں۔ یہی احساس انسان کو امید کی طرف واپس لے آتا ہے۔
آخر میں یہ جان لینا ضروری ہے کہ خدا ہے نا—وہ جو سب جانتا ہے، سب سننتا ہے اور سب کر سکتا ہے۔ انسان اگر اپنے رب پر بھروسہ رکھے گا تو مایوسی کبھی اس کے دل میں مستقل گھر نہیں بنا سکے گی۔ مشکلات آتی رہیں گی مگر امید کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا۔ اور یہی ایمان کی اصل روح ہے کہ انسان ہر حال میں اپنے رب کی رحمت پر یقین رکھے، کیونکہ وہ اپنے بندے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
خدا ہے نا — یہ جملہ دراصل اس یقین کی علامت ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی بگڑ جائیں، چاہے مسائل کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، ایک قوت ایسی ہے جو سب کچھ دیکھ رہی ہے، سن رہی ہے اور سنوارنے کی طاقت رکھتی ہے۔ آج کے دور میں جب معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے، لوگ مہنگائی اور عدمِ استحکام سے پریشان ہیں، یہی یقین انسان کو تھامے رکھتا ہے۔ جب دل ڈگمگانے لگے اور حالات ہمت آزمانے لگیں، تو یہی ایمان اسے سنبھالتا ہے۔
بے روزگاری آج کے دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد امیدوں کے ساتھ میدانِ عمل میں آتے ہیں لیکن مواقع کی کمی انہیں مایوسی کے قریب لے جاتی ہے۔ مگر ایسے وقت میں یہ سوچ ہی انسان کو قائم رکھتی ہے کہ خدا کے خزانے لامتناہی ہیں۔ اگر ایک در بند ہوتا ہے تو وہ دوسرا کھول دیتا ہے۔ کوشش، دعا اور صبر کبھی رائیگاں نہیں جاتے، اور خدا بہتر راستے ضرور پیدا کرتا ہے۔
جہاں حکومتوں کی کمزوریاں، معاشی غلطیاں اور نااہلیاں عوام کو مسائل میں ڈالتی ہیں، وہاں خدا پر ایمان رکھنے والا انسان اپنی امید کو حکومتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔ وہ جانتا ہے کہ انسانوں کی طاقت محدود، مگر خدا کی طاقت لامحدود ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، حالات گھومتے رہتے ہیں، مگر خدا کی حکمت کبھی غلط نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ دل میں کہتا ہے: “خدا ہے نا” — یہی یقین اسے مایوسی سے بچاتا ہے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔