وزیراعظم شہباز شریف صاحب قوم کو پی آئی اے کی فروخت پر مبارک باد دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قوم کو آخر کس بات کی مبارک باد دی جا رہی ہے؟ کیا اس بات پر کہ ایک اور قومی ادارہ، جسے قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے زندہ رکھا گیا،

اب چندسرمایہ داروں کی جھولی میں ڈال دیا گیا؟ یا اس خوشی پر کہ ریاست اپنی ناکامیوں کا ملبہ اداروں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو گئی؟پی آئی اے کبھی ایشیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی۔ آج اگر وہ خسارے میں ہے تو کیا یہ خسارہ جہازوں نے کیا؟ پائلٹوں نے کیا؟ یا ان مزدوروں نے جو معمولی تنخواہوں پر کام کرتے رہے؟نہیں، یہ خسارہ پالیسیوں نے کیا، سیاسی مداخلت نے کیا، اقربا پروری نے کیا، اور وہ حکمرانوں نے کیا جنہوں نے اداروں کو جاگیر سمجھا۔
آج وہی پی آئی اے بیچی جا رہی ہے، اور ستم ظریفی دیکھیے کہ جن ہاتھوں نے پی آئی اے کو تباہ کیا، وہی آج اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں۔جناب آصف علی زرداری، جن کے دور میں قومی اداروں کی بنیادیں کمزور ہوئیں، آج ملک کے صدر ہیں، اور ہم سے توقع کی جا رہی ہے کہ ہم تالیاں بجائیں۔یہ کیسی ریاست ہے جہاں
•پی آئی اے فروخت
•تعلیمی ادارے فروخت
•ریاستی زمینیں فروخت
اور اب سرگوشیاں ہیں کہ اگلا نمبر واپڈا کا ہوگا، اور اس کے بعد شاید پاکستان ریلوے۔ یہ نجکاری نہیں، یہ قومی خودکشی ہے، قسطوں میں۔مبارک باد اگر کسی کو بنتی ہے تو وہ قوم نہیں، بلکہ وہ مخصوص کاروباری گروہ ہیں جنہوں نے منگو پیر جھیل، نیا ناظم آباد، اور ڈی ایچ اے ویلی جیسے منصوبوں سے اربوں کمائے، اور اب قومی ادارے کوڑیوں کے دام سمیٹ رہے ہیں۔ریاست نے انفراسٹرکچر دیا، عوام نے قربانیاں دیں، اور منافع چند ہاتھوں میں چلا گیا۔قوم سے کہا جا رہا ہے:”خوش ہو جاؤ، خسارہ کم ہو گیا۔“
لیکن کوئی یہ بھی تو بتائے: خسارہ کم ہوا ہے یا ریاست چھوٹی ہو گئی ہے؟جب ریاست کاروبار سے نکلتی ہے مگر نگرانی، اصلاح اور احتساب بھی ساتھ ہی چھوڑ دیتی ہے، تو یہ اصلاح نہیں، فرار ہوتا ہے اور جب حکمران اپنی نااہلی کا ملبہ اداروں پر ڈال کر انہیں بیچ دیں، تو یہ معاشی فیصلہ نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہوتا ہے۔قوم مبارک باد نہیں مانگ رہی،
قوم جواب مانگ رہی ہے کہ ادارے بیچنے سے پہلے انہیں ٹھیک کیوں نہیں کیا گیا؟ ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟اور ہر بار قیمت عوام ہی کیوں ادا کرتی ہے؟کوئی شرم ہوتی ہے،کوئی حیا ہوتی ہے لیکن شاید اب یہ بھی نجکاری کی فہرست میں شامل ہو چکی ہیں۔
تحریر: محمد نجیب جرال
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.