قاری محمد اصغر کی دینی و علمی خدمات

90 کی دہائی میں میرا محترم قاری محمد اصغر صاحب سے ایسا تعلق بنا کہ ان کی وفات تک قائم و دائم رہا اور یہ تعلق خالص دینی اخلاقی پیار و محبت اور خلوص و اپنائیت کا تھا

میرے والد محترم حضرت مولانا محمد انور رحمۃ اللہ علیہ مدرسہ اشاعت العلوم میں بڑی کتب کے مدرس تھے اور قاری صاحب محترم اشاعت العلوم کی انتظامی کمیٹی کے صدر تھے۔ معروف عالم دین علامہ عبدالرشید ارشد کی وفات کے بعد مولانا محمد صادق صدیقی اور قاری محمد اصغر اشاعت العلوم کی انجمن مدرسہ کے صدر اور مہتمم بنائے گئے

اشاعت العلوم کا شمار فیصل آباد ہی نہیں بلکہ ملک کے بہترین اور قدیم مدارس میں ہوتا تھا یہاں حضرت مولانا مفتی سید سیاح الدین کاکا خیل اور شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک جیسے جید عالم دین نے تدریس کے فرائض سرانجام دیے ہیں اس وقت مولانا محمد صادق صدیقی صاحب اپنی بیماری کمزوری ضعف اور پیرانہ سالی کے باوجود مدرسہ کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنائے ہوئے ہیں اللہ تعالی ان کی عمر میں برکتیں عطا فرمائے اور ان کو صحت اور ایمان والی لمبی زندگی نصیب فرمائے امین۔
مولانا قاری محمد اصغر صاحب نے حفظ اور ابتدائی تعلیم مدرسہ فیض محمدی سے حاصل کی اور بڑی کتب اشاعت العلوم اور جامعہ قاسمیہ
سے پڑھی اس کے بعد کچھ عرصہ امامت اور خطابت کے فرائض سرانجام دیے ان کا گجر فیملی سے تعلق تھا‘ زرعی رقبہ بھی تھا اس لیے ملازمت کی بجائے کاروباری ذہن تھا جس بنا پر دینی شعبے کو بطور خدمت اپنایا اور کاروبار میں آگئے‘ پراپرٹی کی خرید و فروخت کا کام شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فیصل آباد کی چوٹی کے پراپرٹی ڈیلرز میں اپنا نام اور تعارف بنا لیا اس وقت فیصل آباد میں جماعت اسلامی اور دینی ذہن رکھنے والے پراپرٹی ڈیلرز میں قاری محمد اکبر صاحب اور قاری شیر محمد صاحب اور قاری محمد اصغر صاحب کے نام بہت مشہور ہوئے اور ان کی رفاقت ہمیشہ ساتھ رہی

جماعت اسلامی میں زمانہ طالب علمی سے وابستہ ہوئے کارکن بنے علماء کرام سے انہیں خاص پیار اور محبت اور شفقت تھی انہیں علماء کی صحبت میں وقت گزارنے کا شوق تھا قاری صاحب کو مفتی سید سیاح الدین کاکا خیل مولانا عبدالمالک مولانا محمد حنیف اور علامہ عبدالرشید ارشد کی خدمت کرنے کا شرف حاصل ہوا اور وہ ان حضرات سے دلی محبت کرتے تھے اور وہ مجھے اکثر اوقات بتاتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے کہ مجھے ان جید علماء اور اساتذہ کی خدمت اور پاؤں دبانے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ قاری صاحب جماعت اسلامی میں ائے تو دیگر مذہبی جماعتوں سے رابطہ بھی رکھا مگر قلبی تعلق جماعت اسلامی سے رہا‘ رکن بنائے گئے جماعت اسلامی کی برادر تنظیم جو پورے ملک میں تمام مسالک کے علماء کرام میں کام کرتی
ہے جمعیت اتحاد العلماء کے نام سے اس کے فیصل آباد ڈویژن کے صدر بنائے گئے مجھے انہوں نے اپنے ساتھ تاحیات سیکرٹری اطلاعات بنائے رکھا میں نے بھی خوب ان کے ساتھ وقت گزارا ان کی خوب خدمت مدارت کی جو ذمہ داری مجھے دیتے میں اسے حتی المقدور پورا کرنے کی کوشش کرتا میں دل سے ان کا احترام کرتا برے وقت میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیا اور وفاداری کا ثبوت دیا اور میرا شمار ہر دور میں قاری محمد اصغر گروپ میں رہا

قاری صاحب کو اخبارات کے مطالعہ کا بہت شوق تھا حالات کے مطابق اخبارات کو اپنے بیانات بھجوا کے ہر سیاسی مذہبی ملکی ایشوز پر اپنے رائے کا اظہار فرماتے تھے اور ان کی رائے کو اور ان کی لگی اخبار میں خبر کو لوگ اور ادارے توجہ سے پڑھتے تھے 95 میں ارکان جماعت نے ان کو فیصل اباد شہر جماعت اسلامی کا امیر منتخب کیا اس سے پہلے امیر جماعت فیصل اباد حافظ محمد سرور
تھے وہ بھی گجر تھے ایک مرتبہ انہوں نے اپنے غیر ملکی دورے کے دوران قاری صاحب کو قائم مقام امیر شہر بنایا واپس ائے تو انتخاب ہوا اور قاری صاحب فیصل اباد شہر جماعت کے امیر منتخب ہو گئے اور انہوں نے اپنی امارت کے دوران خوب کام کیا تمام زونز کے امیر بنائے اور ارکان جماعت کو ایکٹیو کیا ذمہ داران کو ان کی ذمہ داریاں بتائی اور کام کرنے کا سلیقہ اور طریقہ بتایا

اس وقت امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد تھے فیصل آباد میں ان کے حکم پر ایک دن میں پانچ جلسے مختلف مقامات رکھے گئے جس سے قاضی صاحب نے خصوصی خطاب کیا ان جلسوں کی بھرپور کامیابی اور عوام کا جوش و خروش اور سڑکوں پر استقبال اور رونق دیکھ کر قاضی صاحب نے خصوصی طور پر قاری محمد اصغر صاحب کو شاباش دی اور ان کی اس کاوش اور شاندار کارکردگی کو سراہا گیا قاری صاحب نے شہر کی امارت کے دوران تمام حلقوں میں بہت خوبصورت انداز میں کام کیا اور اپنے ساتھ بہترین ٹیم بنائی بدقسمتی سے ان دنوں فیصل آباد جماعت کے اندر گروپ بندی چل پڑی جو بعد ازاں جماعت اسلامی کے لیے زہر قاتل بھی ثابت ہوئی یہ گروپ بندی اتنی بڑھی کہ قاری صاحب کو عمارت اور رکنیت سے فارغ کر دیا گیا اس پریشانی میں قاری صاحب نے جماعت اسلامی سے دوری اختیار کر لی اور جماعتی ذمہ داران سے تعلق بھی ختم کر دیا اور اپنے پراپرٹی ڈیلر کے دفتر کچہری بازار تک محدود ہو گئے اور اپنی وفات تک جماعت اسلامی سے دور رہے جمعیت اتحاد العلماء کی ذمہ داری تاحیات خوب نبھائی تمام مسالک کے علماء سے رابطہ رکھا مدارس اور مساجد کے آئمہ اور خطباء کو جمع کرتے اور ان کو کھانا کھلاتے ان کا اکرام اور احترام کرتے اور ان کو جماعت اسلامی کی دعوت دیتے

ان کا 90 کی دہائی میں فیصل اباد میں ایک نام اور خاص پہچان بن چکا تھا ان کی پرسنلٹی اور کام کرنے کا انداز اور جوش خطابت بہت شاندار تھا ہمیشہ کاٹن کا بہترین سوٹ اور کالی واسکٹ پہنتے تھے اور بہت بھلے لگتے تھے انہوں نے اپنی زندگی دین سے محبت اور قران کے نظام کی جدوجہد کرتے گزاری انہوں نے رزق حلال کمایا ان کی خوش بختی تھی کہ وہ جو بھی کاروبار کرتے اللہ تعالی ان میں برکتیں ڈال دیتا

کچہری بازار میں میاں عبدالکریم صاحب کے ساتھ مل کر ایک پلازہ بنایا اور چار چک میں پراپرٹی کا کاروبار کیا وہاں ڈیرہ بھی بنایا شام کو وہاں دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے چار چک میں آج جو رونقیں نظر آتی ہیں ان کی محنت کا نتیجہ ہے قاری صاحب کی جماعت اسلامی میں مصروفیات کاروباری معاملات بہت زیادہ تھے دن رات اجتماعات پروگرامات اور میٹنگز ہوتی تھیں مرکزی اور صوبائی شوری کے ممبر بھی رہے لاہور آنا جانا بھی تھا اس سب کے باوجود انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دی بڑا بیٹا ڈاکٹر نعمان اصغر اور بیٹی بھی ڈاکٹر بنی دوسرا بیٹا بھی اعلی تعلیم یافتہ ہے اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر کمپرومائز نہیں کیا

میرا ان کے ساتھ 20 سالہ رفاقت کا وقت بہت اچھا گزرا انہوں نے ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح شفقت اور محبت کا برتاؤ کیا ایک ہی جگہ کھانا کھاتے بیٹھتے شہر اور بیرون شہر دورہ جات میں ان کے ساتھ جاتا تھا کمال کی شخصیت اور بلا کا حافظہ تھا سید ابو الاعلی مودودی رحمت اللہ علیہ سے دلی محبت رکھتے تھے ان کو اپنے وقت کا مجدد کہتے تھے بہت نفیس اور شاندار انسان تھے دوستوں سے محبت اور شفقت کمزوروں کی خدمت اور ان کا ساتھ دینا ان کے خون میں شامل تھا ایسے لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں اور جماعت اسلامی میں ان کے نام کو تا دیر یاد رکھا جائے گا میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ان کی قبر پر کروڑوں رحمتوں کا نزول
فرمائے آمین