یوں تو خطہ پوٹھوہار کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس دھرتی نے اپنے اوپر قربان ہونے والے لاکھوں فرزندوں کو جنم دیا جس میں سے تین (کپٹن سرور شہید، حوالدار سوار محمد حسین شہید، لانس نائیک محمد محفوظ) اپنے سینے پر گولیاں کھانے اور نشان حیدر سجانے کے بعد امر ہو چکے اور باقی لاکھوں دھرتی ماں کے لئے جان قربان کرنے کو ہر دم تیار ہیں، اس دھرتی ماں نے سینکڑوں نامی گرامی سیاست دان، جرنیل، جج، بیوروکریٹ، پی ایچ ڈی، سکالرز، سائنس دان، شاعر، ادیب، صحافی، کھلاڑی، فنکار، براڈکاسٹر اور قلم کار پیدا کیئے

جن میں سابق وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، سابق وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد، سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ محمد افضل ظُلہ، سابق آئی ایس آئی چیف ظہیر السلام الغرض نام لکھتا جاؤں تو تحریر صرف ناموں سے بھر جائے گی مگر مقصد ادھورا رہ جائے گا میرا مقصود تو یہ بتانا ٹھہرا کہ اتنے بڑے بڑے عہدوں والے فرزندان پوٹھوہار کے نصیب میں ماں بولی پوٹھوہاری کی خدمت، ترقی، ترویج اور شناخت رب کعبہ نے نہیں لکھی تھی
اس لئے اتنے بڑے عہدے اور اختیارات ہونے کے باوجود وہ اس سلسلے میں کچھ بھی نہ کر سکے ہاں اگر یہ سعادت مقدر ٹھہری تو اس نوجوان بیٹے کا جو وطن عزیز کے ایک بڑے اخبار روزنامہ نوائے وقت کا سب ایڈیٹر ہے اور اپنی صحافتی مصروفیات سے وقت نکال کر کبھی نادرا کبھی اکادمی ادبیات، اور کبھی خطہ پوٹھوہار کے سیاست دانوں کے پاس چکر لگاتا ہے کہ کسی طریقے سے اس کی ماں بولی پوٹھوہاری کو شناخت مل جائے یہ نوجوان شاعر، محقق، صحافی، کالم نگار اور قلم کار فیصل عرفان اس جنون کی حد تک اپنی ماں بولی سے پیار کرتا ہے
کہ پوٹھوہاری اکھانڑ اور محاورے، پرجہھاتیں، شادی بیاہ کے پوٹھوہاری لوک گیت، پوٹھوہاری لوریاں اور دیگر پوٹھوہاری ثقافت اور فنون لطیفہ سے میل رکھنے والی تحریروں اور شخصیات کی تلاش میں پوٹھوہار کا ایک ایک گاؤں، ایک ایک ڈھوک ایک ایک گلی چھانتا پھرتا ہے اس کی اسی تلاش کی بدولت پوٹھوہار کے باسیوں کو اس کی پہلی کتاب” پوٹھوہاری اکھانڑ تے محاورے ” پھر دوسری کتاب ”پرجہھات مہھاڑی انھیں ” تیسری کتاب ”ہوشے ” پھر چوتھی کتاب ”چہھوٹے لارے ” اور اب پانچویں کتاب ” پوٹھوہاری ادب ” پڑھنے کو ملتی ہے میرا دعویٰ ہے
کہ پوٹھوہاری کی تھوڑی بہت شدھ بدھ رکھنے والا کوئی بھی شخص ان پانچوں کتابوں میں سے کوئی بھی کتاب اٹھا کر دو صفحات پڑھ لے پھر وہ ایک ہی نشست میں پوری کتاب ختم کیئے بغیر رہ نہیں سکے گا فیصل عرفان کی قلم بند کردہ یہ کُتب ہمارے مستقبل کے ان قلم کاروں کے لئے کسی بیش بہا خزانے سے کم نہیں جو پوٹھوہاری زبان کے حوالے سے کام کرنا چاہیں اور انہیں کسی ریفرنس کی ضرورت محسوس ہو۔قابل ستائش ہیں وہ والدین جنہوں نے ایسے فرزند کو جنم دیا جو ان کی بولی کو نہ صرف پوری دنیا میں روشناس کروا رہا ہے بلکہ اس میٹھی زبان کو آنے والی نسلوں کے لئے کتابی صورت میں محفوظ بھی کر رہا ہے۔ شاباش فیصل عرفان خطہ پوٹھوہار اور پوٹھوہاری زبان تمہاری احسان مند ہے۔
طارق بٹ
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.