پنجاب میں ان دنوں قانون نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے صوبے کے مختلف اضلاع میں پولیس مقابلوں کے نام پرہلاکت کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے وہ چاہے سگے بھائیوں کی ہلاکت ہو یا راولپنڈی سے اٹھا کر چکوال پار کیا جانے والا شہری ہر مقابلے پر کئی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں ہر واقعے کے بعد وہی سرکاری مؤقف سامنے آتا ہے کہ“ملزمان کو پولیس لیکر جاری تھی کہ ساتھیوں نے چھڑانے کی کوشش کی

اور اسی وجہ سے مزکورہ ملزمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے”، مگر اصل حقائق ہمیشہ پردے میں ہی رہے ہیں اور رہتے ہیں غیر قانونی پولیس مقابلے اب ایک فیشن سا بنتا جا رہا ہے نہ مکمل اور شفاف تفتیش ہوتی ہے، نہ ہی کسی آزاد ادارے سے انکوائری ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے،
جبکہ وردی ہر سوال سے بالاتر ہو چکی ہے اور انسانی جانوں کا ضیاع محض اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ خاندان ہیں جو ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے۔ان حالات میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کا کردار بھی زیرِ بحث آتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سی سی ڈی نے منظم جرائم، ٹارگٹ کلنگ منشیات فروشوں سمیت سنگین وارداتوں کے خلاف کئی مؤثراور بڑی کارروائیاں کیں اور بعض شعبوں میں اس کی کارکردگی کو سراہا بھی گیاتاہم سوال یہ ہے کہ اگر ادارے اپنا کام بہتر انداز میں کر رہے ہیں تو پھر منشیات فروش اور پیشہ ور جرائم پیشہ عناصر آج بھی کس طرح آزادانہ سرگرم ہیں؟
اور حقائق یہ بتاتے ہیں کہ بڑے منشیات فروش، سہولت کار اورنیٹ ورک بدستورنہ صرف متحرک ہیں بلکہ زیادہ تر تو پولیس والوں کی چھتر چھایا تلے چل رہے ہیں چھوٹے ملزمان تو پولیس مقابلوں یا گرفتاریوں میں نظر آ جاتے ہیں، مگر اصل کردار پسِ پردہ محفوظ رہتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جو عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔
اگرCCDاور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعی جرم کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں تو صرف مقابلوں پر انحصار کافی نہیں بلکہ منشیات اور جرائم کے پورے نیٹ ورک کو توڑیں تو مان جائیں کہ کام ہودہا ہے پولیس کا مؤقف ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ملزمان خطرناک تھے اور مقابلہ ناگزیر تھا مگر سوال یہ ہے کہ عدالت میں پیش کر کے ان کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سرپرستوں کو کیوں بے نقاب نہیں کیا جاتا؟
آئینِ پاکستان ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے، چاہے الزام کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔ پولیس کا کام گرفتاری اور تفتیش ہے، سزا دینا نہیں۔پنجاب میں حالیہ پولیس مقابلوں پر اگر آزاد اور غیر جانبدار عدالتی تحقیقات ہوں تو بہت سے حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے اکثر انکوائریاں فائلوں تک محدود رہتی ہیں حکومت اور اعلیٰ حکام کی خاموشی اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ شاید یہ سب ایک خاموش پالیسی کے تحت ہو رہا ہے۔
اگر سی سی ڈی کی اچھی کارکردگی کو واقعی مؤثر بنانا ہے تو اسے شفافیت، قانون کی بالادستی اور بڑے مجرموں تک پہنچنے سے جوڑنا ہوگا۔ بصورت دیگر منشیات فروش اور کریمنل عناصر اسی طرح کام کرتے رہیں گے اور پولیس مقابلوں کے نام پر لاشیں گرتی رہیں گی۔جب قانون اندھا ہو جائے تو پھر کسی کی جان محفوظ نہیں رہتی۔
وقت آ گیا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا جائے، ہر مقابلے کی عدالتی تحقیقات ہوں اور انصاف کو طاقتور کے بجائے قانون کے تابع کیا جائے۔ ورنہ کرائم ڈائری کے یہ سیاہ باب یونہی لکھے جاتے رہیں گے۔
آصف شاہ
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.